مسلم ممالک کمزور کیوں ؟

پوری دنیا میں بہت سے ممالک ایسے ہیں جو غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کررہے ہیں ان ممالک کے عوام کودو وقت کی روٹی اور سر چھپانے کے لیے چھت میسر نہیں ۔ کئی افراد بھوک اور علاج معالجہ نہ ہونے کی وجہ سے لقمہ اجل بن رہے ہیں۔آپ نے کبھی اس کی وجوہات پر غوروفکر کیا ہے؟ کہ اس کے ظاہری وجوہات کیا ہیں ؟عام طورکمزورممالک اپنی ترقی کے لیے کوئی اسباب نہیں ڈھونڈتے اور نہ کوئی منصوبہ بندی کرتے ہیں۔ اور اس پہ مستزاد اخلاقی بے راہ روی لاقانونیت عوامی اثاثوں کو اپنی جیب کی چیز تصورکرنا بظاہر وہ رکاوٹیں ہیں جس کی وجہ سے غربت کا پہیہ تیزی سے گھوم رہا ہے مادی اشیا کی کثرت کی وجہ سے دنیا میں ترقی ممکن ہوتی ہے جن کے پاس مال واسباب ، زراعت ،سونا،چاندی، معدنیات اور کارخانے وافر مقدار میں موجود ہوں تو وہ ممالک ترقی کے راستے پر گامزان ہوتے رہینگے۔ اس موضوع پر میں اپنے دوست پروفیسر کفایت اللہ سہار صاحب کے ساتھ گفتگو کر رہا تھا تو انہوں نے مجھے کہا کہ گھر کے لیے کچھ اشیا ضروریہ خریدنا تھا موجودہ حالات کی وجہ سے میں نے ارادہ کیا کہ اسرائیل کی بنی ہوئی اشیا نہیں خریدوں گا اسی غرض سے اپنے شہر کے بڑے بڑے سپر سٹورز جانا ہوا لیکن مجھے اسرائیلی مصنوعات کا متبادل کوئی ملکی یا کسی دوسرے اسلامی ملک کے تیارکردہ دل آویز چیز نہیں مل سکی کافی تلاش کے بعد آخر میں نے آسٹریلیا کی بنی ہوئی کچھ چیزیں وغیرہ ملیں لیکن وہ بھی زیادہ معیاری نہیں تھیں ۔آپ اس پر سوچیں کہ ہمارے گھروں کے اندر کتنی مصنوعات اسرائیل کی بنی ہوئی موجود ہوتی ہیں اس کی کئی وجوہات ہیں ایک وجہ یہ ہے کہ ان کی بنائی ہوئی چیزیں معیار کے لحاظ سے بہتر ہوتی ہیں دوسری وجہ انہوں نے ایسی چیزیں بنائی ہیں جو دوسرے ممالک نہیں بناتیں مشروبات کے میدان میں وہ سب سے آگے ہیں سینکڑوں سالوں سے وہ کوکاکولا ،پیپسی ، فینٹا اور سپرایٹ وغیرہ بناتے ہیں بہت سے لوگ اس کے پینے کے عادی ہیں اس کے بغیر روٹی نہیں کھاتے اسی طرح چھوٹے بچوں کے لیے خشک دودھ بھی اسرائیل والے بناتے ہیں اگر اسرائیل یہ ہم پر بند کرے تو معلوم نہیں کہ کتنے بچے ہمارے اس کی وجہ سے موت کے منہ میں چلے جائیں گے اسرائیل رقبے کے لحاظ سے چھوٹا ملک ہے۔ لیکن مال دولت اور جدید سائنسی علوم میں ان کا ثانی کوئی ملک نہیں۔ انہوں نے سائنس وٹیکنالوجی میں بہت ترقی کی ہے یہاں تک کہ ان کی بہت سی مصنوعات دنیا کے بڑے بڑے سپر مارٹ کی زینت ہیں ۔ گزشتہ ماہ اسرائیلی فوج کی طرف سے فلسطینی مسلمانوں پر بہت ظلم وبربریت کیا گیا۔ جس کی وجہ سے بہت سے مسلمان شہید ہوئے اور ان کے گھر ویران ہو گئے۔ اسرائیل کی طرف سے فلسطینی مسلمانوں پر بھاری اسلحہ جیسے جٹ تیاروں سے شیلنگ کی گئی۔ انہوں نے کافی تعداد میں بڑے بڑے بلڈنگ تباہ کئیان کے مقابلے میں فلسطنیوں کے پاس کوئی اسلحہ نہیں تھا بس فقط غلیل اور پتھر وں سے مقابلہ کررہے تھے کئی دہائیوں سے اسرائیل مسلمانوں پر وحشیانہ طریقے سے ظلم
وزیادتی کر رہا ہے ۔حماس ایک جہادی تنظیم ہے ان کی طرف سے جواب میں چھوٹے مزائیل داغے گئے لیکن اسرائیل کے اینٹی میزائل سسٹم نے بہت سے راکٹ حملے روکے ۔ امریکہ ساری دنیا میں معیشت وترقی کی وجہ سے پہلے نمبر پر ہے۔اس نے پوری دنیا میں اپنے آپ کو سپر پاور کے نام سے منوایا ہے۔ یہ اعزاز ان کو مفت میں نہیں ملا بلکہ امریکیوں نے اس کے لئے بہت محنت مشقت کر کے اپنا ملک کو سپرپاور تک پہنچایا ہے اس نے ہر شعبے میں بہت ترقی کی ہے جیسے سائنس، جدید ٹیکنالوجی ،تجارت ،معیشت سب میں بہت آگے جا چکے ہیں۔مسلمان قرآنی تعلیمات پر عمل نہیں کرتے ۔ کیونکہ قرآن میں اللہ تعالی نے فرمایا ہے کہ دشمن کے مقابل اپنی بساط کے بقدر اسلحہ بنائو۔غیر مسلم جو ظلم زیادتی کر رہے ہیں تو مسلمان اس کے لیے عملی کام نہیں کرتے بلکہ صرف بد دعائیں دیتے ہیں یقیناہمیں بم مظلوموں کی دادرسی اورانسانی رگوں سے خون چوسنے والے بے رحم درندوں کے سرتابی وسرکوبی کے لئے دعا کرنی چاہیے اور خوب کرنی چاہئے لیکن اگرصرف اسی پہ اکتفا کرتے رہے توجواب وہی ہے جو ہر باشعور کے سامنے ہے۔ہم اپنے حصے کاپورا کام نہیں کرتے خاص طور پر مسلم امہ کے بست و کشاد کے مالک جن کے تقریری جذبات اور یگانت و ہمدردی کے آسمان تک بلند دعوے عام آدمی کے زخموں کے لئے مداوا اور دل کی انگڑائیوں کے ترجمان بن رہے ہوتے ہیں لیکن اگر حقیقت سے پردہ اٹھائے توبہت کڑوی معلوم ہوگی بمانندسراب صحرا ،مختصر یہ کہ ہمیں عملی طور پر اپنے تمام ادارے خصوصا تعلیمی ادارے مضبوط کرنے ہوں گے اور بہترین ایجوکیشن نافذ کرکے اپنے ملک کو ترقی یافتہ ممالک کی صف میں شا مل کرنا ہوگا تب جاکر ہم ایک ترقی یافتہ قوم بنیں گے اور ہمارا ملک ترقی کرے گا۔