شکایت کی دادرسی

خبر یہ ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے سینئر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کرونا وائرس سے بچنے کیلئے دو خدشات اور دو منصوبے بتا دئیے ہیں، وزیراعظم کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس سے لڑنے کیلئے لوگوں کو خود ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ دوہفتے بعد کیا صورتحال ہوگی، اگر پاکستان میں اٹلی کی طرح ایک دم وائرس بڑھ گیا تو ان کیلئے اس کا سنبھالنا ممکن نہیں رہے گا، کوشش کرنا چاہئے کہ کرونا کی وجہ سے افراتفری نہ پھیلے اور اشیائے خورد ونوش کی فراہمی یقینی بنی رہے، حکومت ملک کو لاک ڈاؤن نہیں کر سکتی کیونکہ اگر کرونا سے بچنے کیلئے تین ہفتے لاک ڈاؤن کریں گے تو خدشہ ہے کہ لوگ بھوک وافلاس سے مرنے لگیں گے۔ عمران خان نے یہ بھی کہا کہ عوام سے کچھ نہیں چھپایا جائے گا اگر ایسا کیا گیا تو خود کا ہی نقصان ہوگا۔ جہاں تک وزیراعظم کا یہ ارشاد ہے کہ عوام کو اس معاملے میں اپنی ذمہ داری پوری کرنی چاہئے، اس کے علاوہ انہوں نے دیگر جن خیالات کا اظہار کیا ہے وہ بھی اپنی جگہ اہم ہیں مگر سوال ذمہ داریوں کا ہے، کیا ذمہ داریاں غیرمتعین ہیں یا ذمہ داریوں کا کوئی باب بھی ہے یا نہیں، اس وقت پاکستان واحد ملک ہے جہاں ہر ایسے معاملے میں عوام کو ذمہ داریاں پوری کرنے کے بارے میں ٹوک دیا جاتا ہے جبکہ کسی بھی آفت میں دنیا کے کسی کونے سے یہ آواز سننے کو نہیں آتی کہ فلاں اپنی ذمہ داریاں پوری کرے یا ادا کرے بلکہ سب سے پہلے انتظامیہ جو حکومت کا دوسرا نام ہے اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کی جانب متوجہ ہوتی ہے، ساتھ ساتھ عوام کو ان ذمہ داریوں کی ادائیگی میں لیکر چلتی ہے۔ حکومتی ذمہ داریاں موجودہ وباء میں کیا رہی ہیں؟ پنجاب کے وزیراعلیٰ جن کی شخصیت کے وزیراعظم اس قدر گرویدہ ہیں کہ انہوں نے صاف کہہ دیا ہے کہ وہ وزیراعظم ہیں تو بزدار بھی وزیراعلیٰ ہیں، گویا دونوں کا چولی دامن کا ساتھ ہے، بزدار صاحب کا فرمانا ہے کہ حکومت نے فوری طور پر اپنی ذمہ داریاں پوری کیں ہیں، انہوں نے اخباری نمائندوں کو بتایا کہ 3جنوری کو پنجاب میں وباء سے نمٹنے کیلئے ہنگامی بنیادوں پر بندوبست کر لیا گیا تھا، یہ بات یا پنجاب حکومت کا یہ اقدام دنیا بھر میں قابل ستائش ہے کیونکہ اس تاریخ تک خود کرونا بھی کسی وباء سے آگاہ نہیں ہو پایا تھا کہ پنجاب کے وزیراعلیٰ کو کئی روز پہلے ہی کشف ہوگیا اور انہوں نے وفاقی حکومت سے بھی پہلے کرونا سے لڑنے کی صلاحیت مجمع کرلی، اس کو احساس ذمہ داری کہتے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان کے ارشادات کے مطابق وقافی حکومت نے کرونا سے لڑنے کیلئے سات جنوری سے ہنگامی اقدامات اُٹھانا شروع کر دئیے، ان تما م کے باوجود وفاقی حکومت ابھی بھی اس قابل نہیں ہوئی کہ وہ یہ جان سکے کہ دو ہفتے بعد اس وباء کی صورتحال ملک میں کیا رہے گی۔ بہرحال پوری قوم اس بات پر اپنے وزیراعظم کیساتھ کھڑی ہوئی ہے کہ ہونا ہو کرونا کو شکست دینی ہے مگر عوام کو آگاہی کی ضرورت ہے کہ یہ وباء کیا ہے اور اس سے لڑنے کیلئے کس کا کیا کردار ہونا چاہئے۔ عوام کو آگاہی چاہئے کہ اس وباء سے دور رہنے کیلئے کن اقدامات کی ضرورت ہے۔ اس وقت بازار، کاروبار اور تعلیمی ادارے بند ہونے کی جو فضاء چھائی ہوئی ہے اس سے ایک انجانا خوف جنم لئے ہوئے ہے۔ اگر اسکولوں میں صابن کا بندوبست کر دیا جاتا تو بچے صبح اسکول آتے اور پڑھتے بھی رہتے، گاہے بگاہے صابن سے ہاتھ بھی دھو لیتے اورگندگی میں کھیلنے سے بھی بچے رہتے۔ سندھ حکومت کے اقدامات سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہاں کسی قدر احساس ذمہ داری پایا جاتا ہے لیکن اطمینان بخش نہیں، پنجاب حکومت کی کارکردگی اونٹ کی ہر کل کی طرح ٹیڑھی ترچھی ہے، اس بارے میں اندازہ صرف دانیال کی والدہ کی شکایت سے ہو جاتا ہے کہ پنجاب حکومت کتنے پانی میں ہے۔ دانیال کی شاکی والدہ کی آڈیو سوشل میڈیا پر بھی وائرل ہو چکی ہے، پرنٹ والیکٹرانک میڈیا پر بھی منشور ہو چکی ہے اسلئے زیادہ تفصیل کی ضرورت نہیں ہے تاہم اس موقع پر اصلی ریاست مدینہ میں حضرت عمر کے دور کا ایک واقعہ یاد آرہا ہے کہ امیرالمومنین حضرت عمر ایک شدید سرد رات میں جلیل القدر صحابی عبدالرحمان بن عوفکے ہمراہ اُمت کی خبرگیری کیلئے نکلے تو ان کو ایک جگہ آگ روشن نظر آئی، وہاں تشریف لے گئے تو دیکھا کہ ایک عورت آگ جلائے ہوئے ہے اور اس کے بچے بھوک سے بلبلا رہے ہیں،حضرت عمر نے یہ حال دیکھ کر عورت سے استفسار کیا کہ تیرے اس حال کا کون ذمہ دار ہے، عورت نے جواب دیا کہ اس حال کا ذمہ دار امیرالمؤمنین عمر ہے، آپ نے پوچھا کہ کوئی ہے جس نے تیرے حال سے عمر کو باخبر کیا ہو، عورت نے جواب دیا کہ ہمارا حکمران ہو کر ہمارے حال سے غافل رہے گا یہ کیسا حکمران ہے۔ یہ جواب سن کر آپ اسی وقت بیت المال گئے اور وہاں سے گندم اور اشیائے خوراک کی بوریاں اپنے کندھوں پر اُٹھا کر لائے اور عورت کے بچوں کیلئے خود کھانا پکایا جب تک بچوں نے پیٹ نہ بھرلیا حضرت عمر موجود رہے، عورت سے کہا کہ کل وہ خلیفہ کے پاس جائے۔ مختصر یہ کہ اگلے روز عورت خلیفہ کے پاس گئی تو وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گئی کہ رات کو ان کی مدد کرنے والا لوگوں کے درمیان موجود ہے اور لوگ اس کو یا امیرالمؤمنین کہہ رہے ہیں۔ عورت کو دیکھ کر حضرت عمر نے عورت سے کہا کہ تم رات والی اپنی شکایت کو فروخت کرنے کا کیا معاوضہ لوگی، عورت نے انکار کر دیا تاہم بے حد اصرار پر عورت نے معاوضہ بتایا۔ آپ نے مطلوبہ معاوضہ کی ادائیگی اپنی طرف سے کر دی تاکہ قیامت کے روز پکڑ نہ ہو۔ کیا دانیال کی والدہ بھی مدینہ ریاست میں فریادی ہے۔