عالمی یوم آب

مبتلاء ہیں ہم کرونا نامی جرثومے کے خوف میں، یوں لگتا ہے جیسے موت ہمارے سر پر منڈلا رہی ہے اور ہم ہیں کہ من حیث القوم لرزہ بہ اندام ہوکر جل تو جلال تو، صاحب کمال تو، آئی بلا کو ٹال تو کا ورد کررہے ہیں، آہ کہ ہم بھول گئے اس بات کو کہ
وہ اک سجدہ جسے تو گراں سمجھتا ہے
ہزار سجدوں سے دیتا ہے آدمی کو نجات
اگر ہم اپنے دل، دماغ اور رگ وپے میں یا اپنے گرد ونواح میں کوئی بھی خوف پالنے کی بجائے اپنے دل میں فقط ''خوف خدا'' پیدا کرلیتے، حرام کھانا چھوڑ دیتے، لوٹ کھسوٹ سے توبہ کرلیتے، کسی کا حق نہ مارتے، انصاف کوڑیوں کے مول نہ بیچتے، حرص وہوس سے باز رہتے، بنگلے گاڑیاں اور کوٹھیاں نہ بناتے رہتے، اپنے ملک کو غریب کہہ کر لمبی لمبی کاروں کے ذریعے سڑکوں پر چلتی ٹریفک کو جام کرکے اس کی غربت کا مذاق نہ اُڑاتے، ہمارے ہاں جس چوراہے میں لمحہ بھر کیلئے ٹریفک کی رو تھمتی ہے، چیتھڑے پہنی غربت ہمارے سامنے سوالیہ نشان بن کر ہاتھ پھیلا دیتی ہے، نعرے تو ہم مساوات اور ریاست مدینہ قائم کرنے کے لگاتے پھرتے ہیں لیکن مصنوعی مہنگائی اور ذخیرہ اندوزی کو ختم نہیں کرسکتے، اگر ہمارے دل میں ذرہ برابر بھی خوف خدا ہوتا تو ہیچ ہوکر رہ جاتے سارے ڈر سارے خوف۔ آج کل ہم کرونا وائرس کی وجہ سے موت کے خوف میں مبتلا ہیں، کبھی نہ ڈرتے اور ڈر ڈر کر مرتے اگر ہم سب یہ جان لیتے کہ ہم سب مرنے کیلئے ہی تو آئے ہیں اس دنیا میں۔ چلا ہی جانا ہے اک دن سب کچھ چھوڑ کر اور معلوم ہے اس دنیا کو چھوڑ کر چلے جانے کی کیفیت کو اک ذائقہ کہا گیا ہے۔ جتنی بھی ذائقہ دار چیزیں ہمارے ہتھے چڑھتی ہے ہم مزے لے لیکر چٹ کر جاتے ہیں، یہ نہیں دیکھتے کہ کیا حرام ہے اور کیا حلال، بس مزا لینا ہوتا ہے ہمارا مقصد۔ ہر ایک نے مزہ چکھنا ہے موت کا جب یہ بات آفاقی سچ ہے تو پھر گھبرانا یا خوف کھانا کیسا۔ سارے دکھوں غموں اور خوف خطر سے نجات دے دیتی ہے یہ موت
کون کہتا ہے کہ موت آئی تو مر جاؤں گا
میں تو دریا ہوں سمندر میں اُتر جاؤں گا
کتنے حوصلہ سے کہی تھی احمد ندیم قاسمی نے یہ بات، کتنا بڑا ظرف تھا ان کا، کاش ہم سب کی بھی ایسی ہی سوچ ہوتی اور ہم ہنس کر ٹال دیتے اس خوف کو جس نے ہماری رگوں کا خون خشک کر رکھا ہے۔ آج مارچ کے مہینے کی بائیس تاریخ ہے، آج عالمی سطح پر ''یوم آب'' منایا جانا چاہئے تھا لیکن آج سارے عالم کے لوگ جس کرب سے گزر رہے ہیں اس نے ''یوم آب'' کو ایک ہی سانس میں ڈیک لیا ہے۔ پتہ پانی ہوگیا ہے اس عالمی یوم آب پر ہم سب کا، اس عالم خوف ودہشت میں ہمارے ملک کے ادارے اور عوام کیا وزیراعظم پاکستان تک بھی اس اعلان کو بھول چکے ہیں جس میں وہ اہلیان قوم کو مخاطب ہوکر کہتے تھے کہ اگر ہم نے ڈیم نہ بنائے یا پانی ذخیرہ نہیں کیا تو خاکم بدہن2025 تک سرزمین پاک کا قریہ قریہ لق ودق صحرا کا وجود اوڑھ لے گا۔ اللہ نہ کرے ایسا ہو، کسے خبر تھی کہ اس دہشت ناک اعلان کو اک حقیر سے جرثومے کا خوف ہڑپ کر جائیگا۔ ہم جانتے ہیں کہ ہماری زمین جس کو ہم کرۂ ارض بھی کہتے ہیں اس میں پانچ حصہ پانی اور ایک حصہ خشکی ہے، لیکن اس کے باوجود سطح زمین پر ایسے مقامات کی کمی نہیں جہاں لوگ بوند بوند پانی کو ترس رہے ہیں اور ہمارے عہد کے یزیدان کو ان کے خون کے بدلے پانی دینا چاہتے ہیں، شائد اسلئے کہ وہ ذخیرہ اندوزی تو جانتے ہیں لیکن پانی جیسی نعمت غیر مترکبہ کو ذخیرہ کرنا نہیں جانتے، بھارت پاکستان کی جانب آنے والے پانی پر اوپر تلے ڈیم در ڈیم بنا کر پانی کے بہاؤ کو پاکستان کی جانب آنے سے موڑ رہا ہے اور بہت حد تک وہ ایسا کربھی چکا ہے، لیکن ہمارے ہاں ڈیم ڈیم کے نعرے یوں بلند ہورہے ہیں جیسے شیم شیم کے نعرے بلند ہوا کرتے تھے، وہ جو کہتے ہیں کہ گڑ گڑ کہنے سے منہ میٹھا نہیں ہوتا، آج کل ملک کے طول وارض میں چیت کی بارشیں ہورہی ہیں، گھن گرج والے بادل آسمان پر میگ ملہا گاتے آتے اور چھا جاتے ہیں، بدریا برستی ہے، میدان جل تھل ہوجاتے ہیں، دریاؤں کے بہاؤ میں تیزی آتی ہے جو دیکھتے ہی دیکھتے دریائے سندھ سے ہوکر بحیرہ عرب میں جا ڈوب جاتی ہے، پاکستان میں صرف چیت کے مہینے میں بارش نہیں برستی، ہر کہیں سال کے چار موسم ہوتے ہیں، لیکن ہمارے پاس تو ساون رت اور برسات کا موسم بھی موجود ہے، سردی ہو یا گرمی، خزاں ہو یا بہار ہمارے ہاں ہر موسم میں میلوں کی مسافت طے کرکے آنے والے بادل برسنے کیلئے آتے ہیں اور ہم اس پانی کی 'پانی میں مل کے پانی انجام یہ کہ فانی' کی روش کو روک تک نہیں سکتے، ہمیں موسم موسم برستی بارشوں کا پانی نظر ہی نہیں آتا، حالانکہ
دور تک پھیلا ہوا ہے پانی ہی پانی ہر طرف
اب کے بادل نے بہت کی مہربانی ہر طرف