معصیت راخندہ می آیدزِ استغفارِ ما

ستمبر 1965ء کی یاد آگئی ہے، میں کالج کا طالب علم تھا، ہمارے ملک پر بھارت نے جارحیت مسلط کر دی تھی۔ ہماری افواج دشمن کا مقابلہ میدانوں' فضائوں اور پانیوں (سمندروں) میں کر رہی تھیں تو عوامی سطح پر یک جہتی' اتفاق' محبت' یگانگت اور بھائی چارے کے جو نظارے دیکھنے کو مل رہے تھے وہ ہماری قومی تاریخ کا ایک قابل فخر باب ہیں۔ سب سے عجیب بات جو نہ صرف جنگ کے 17دنوں میں بلکہ اس کے بعد بھی کئی مہینوں تک ملک بھر میں کسی واردات' ڈاکہ زنی' چوری چکاری کا نہ ہونا تھا۔ ایسا لگا تھا کہ ڈاکو اور چور توبہ تائب ہو کر بالکل سیدھے ہوگئے ہیں۔ معاشرے کا ہر طبقہ دو نمبری چھوڑ کر قانون کا پابند ہوگیا تھا اور یہی وجہ تھی کہ اپنے سے کئی گنا بڑے دشمن کو ہم نے پچھاڑ دیا تھا۔ اس کے بعد ہماری تاریخ بقول شاعر
لمحے لمحے میں ہے آواز شکست
میری تاریخ ندامت کی ہے
1971ء میں ہمیں ایک بار پھر امتحان سے دوچار ہونا پڑا مگر ہمارا کردار 1965ء والا نہ رہا تھا، سو آدھا ملک گنوانا پڑا تھا' پھر تو معاملہ چل سو چل والا ہوگیا۔ ہمارا رویہ ذاتی اغراض ومقاصد کی تکمیل کے سوا کچھ نہ رہا تھا۔ خود غرضی' منافقت' جلب زر' حرص وہوس کے جذبات اپنی انتہائوں کو چھونے کی وجہ سے ایسی معاشرتی برائیوں نے ہمیں گھیر لیا کہ ہمیں اچھے برے کی تمیز ہی نہ رہی' اور تو اور رمضان جیسے مقدس مہینے میں جس طرح ذخیرہ اندوز عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹتے رہتے ہیں اس کے نظارے ہر سال ہم دیکھتے رہتے ہیں' حالانکہ کئی مسلمان ممالک کو تو رکھئے ایک طرف بعض مغربی ملکوں میں بھی کرسمس کی طرز پر رمضان میں بھی گزشتہ کئی برس سے مسلمانوں کیلئے خصوصی پیکج کا اہتمام کیاجاتا ہے جبکہ ہمارے ہمسائے بھارت میں نہ صرف رمضان میں راشن کارڈوں پر سستی اشیاء مہیا کی جاتی ہیں بلکہ رمضان میں عمرہ اور حج کے مواقع پر وہاں کی قومی ائیر لائن کے ٹکٹوں پر خصوصی رعایت دی جاتی ہے۔ مگر ہمارے ملک میں عوام کو لوگ چھریاں تیز کئے ہوئے اُلٹا ذبخ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کی ''تعریف'' مظہر حسین سید نے اپنے ایک شعر میں یوں کی ہے
خبیث بھیڑئیے شہروں میں دندناتے تھے
اور ان کی کھال پہ لفظ بشر لکھا ہوا تھا
آج جب صرف ہم ہی نہیں پوری دنیا ایک امتحان سے دوچارہے اور موت جبڑے کھولے ہر ملک' ہر شہر' ہر گائوں میں انسان کو نگلنے کیلئے بے تاب ہے' ما سوائے اللہ تعالیٰ کی ذات کے کسی کو بھی نہیں معلوم کہ وہ اس عذاب سے بچ بھی سکتا ہے یا نہیں مگر ہمارے روئیے شرمناک حد تک قابل مذمت کے زمرے میں شامل دکھائی دیتے ہیں۔ پانچ دس روپے کا ماسلک' دو ڈھائی سو روپے کا سیناٹائزر کئی گنا زیادہ قیمت پر بیچ کر عوام کی مجبوریوں کو کیش کرانے سے اس صورتحال میں بھی بعض لوگ باز نہیں آتے۔ انہوں نے موت کو بھلا دیا ہے نہ ہی انہیں کوئی خوف خدا ہے' انہیں غرض ہے تو صرف زیادہ سے زیادہ منافع کما کر اپنی جیبیں بھرنا' اس حوالے سے تازہ ترین خبر یہ بھی ہے کہ پشاور کے بازار جنگی محلے میں جہاں چھپائی کا کام ہوتاہے اور بے شمار پرنٹنگ پریس دن رات چھپائی کے کاموں میں لگے ہوتے ہیں وہاں بعض افراد نے جا کر سیناٹائزر کے نقلی لیبل چھاپنے کی کوشش کی تاکہ ان نقلی سیناٹائزرکو بازار میں پھیلا کر عوام کو لوٹا جائے۔ مگر پرنٹنگ سے وابستہ افراد کی یونین نے تمام ممبران کو متنبہ کردیا ہے کہ جو شخص بھی دو نمبر سیناٹائزر کے لیبل چھاپے گا اس کی اطلاع نہ صرف پولیس کو دی جائے گی بلکہ ان پر بھاری جرمانہ بھی عائد کیا جائے گا۔ یہ ایک قابل تعریف بات ہے۔ جہاں تک سیناٹائزر کا تعلق ہے تو ان دنوں یوٹیوب پر بعض اہم پوسٹیں بھی وائرل ہو رہی ہیں جن میںسستا سیناٹائزر بنانے کی ترکیب سمجھائی جا رہی ہے۔ ان میں میتھی لیٹڈ سپرٹ' ایلوویرا جیل' لیموں' گلیسرین اور ڈیٹال وغیرہ کو ایک خاص مقدار میں شال کرکے سیناٹائزر بنانے کی ترکیب بھی شامل ہے جبکہ میرے تایا زاد بھائی کے ایک پوتے جو ڈاکٹر ہے نے آج ہی مجھے بتایا کہ کچھ بھی نہ ملے تو چند قطرے ڈیٹال کو پانی میں ڈال کراس سے ہاتھ صاف کرنے سے بھی سیناٹائزر کا کام لیا جاسکتا ہے جبکہ نیم گرم پانی اور صابن سے اچھی طرح ہاتھ دھونے سے بھی اپنی حفاظت کی جاسکتی ہے۔ اب اتنی آسان ترکیبوں کے بعد مہنگے سیناٹائزر خریدنے کی ضرورت بھی نہیں رہتی جبکہ عام غریب لوگ تو مہنگے دام کے سیناٹائزر کہاں خرید سکتے ہیں اور اگر کچھ لوگ دو نمبر کے سیناٹائزر استعمال کریں گے تو انہیں فائدے کے بجائے نقصان کا اندیشہ رہے گا۔ مگر اس سارے معاملے میں اصل سوال تو ناجائز منافع خوروں کا وہ کردار ہے جس کی وجہ سے ہم پر یہ عذاب مسلط ہے۔ ان حالات میں ہم اللہ سے دعا کریں بھی تو قبولیت کیونکر ممکن ہوسکتی ہے کیونکہ معاشرے میں خواہ محدود تعداد ہی میں سہی ایسے لالچی' خود غرض' خوف خدا سے عاری بلکہ اسلامی تعلیمات کے حوالے سے نافرمان ہماری صفوں میں موجود ہوں تو ہماری اجتماعی دعائیں بھی کس کام کی؟
بڑھتے بڑھتے حد سے اپنی بڑھ چلا دست ہوس
گھٹتے گھٹتے ایک دن دست دعا رہ جائے گا
فیض احمد فیض بھی یاد آرہے ہیں جنہوں نے کہا تھا
آئیے ہاتھ اُٹھائیں ہم بھی
ہم جنہیں رسم دعا یاد نہیں
کوئی بت' کوئی خدا یاد نہیں
مگرہاتھ اُٹھانے سے پہلے ہمیں اپنے گھریبانوں میں جھانکنا پڑے گا اور اپنے اپنے کردار کاجائزہ لے کر اپنے گناہوں کی صدق دل سے معافی مانگنی پڑے گی یا پھر جس عذاب سے دنیا دوچار ہے اس کے خاتمے کی کوئی اُمید نہیں رکھنی چاہئے۔ بقول صائب تبریزی
معصیت راخندہ می آیدزِ استفغارِ ما