جزوی لاک ڈائون یا مکمل لاک ڈاؤن؟

پاکستان نے اگلے 15روز کیلئے تمام انٹرنیشنل پروازوں پر پابندی عائد کردی ہے تاہم غیرملکی سفارتکاروں اور کارگو طیاروں پر اس کا اطلاق نہیں ہوگا جبکہ دو صوبوں خیبرپختونخوا اور پنجاب کی حکومتوں نے تین دن کیلئے جزوی لاک ڈاؤن کا اعلان کرتے ہوئے عوام کو گھروں تک محدود رہنے' بلااشد ضرورت باہر نہ نکلنے کا حکم جاری کیا ہے۔ خیبرپختونخوا میں ہنگامی بنیادوں پر 1300نئے ڈاکٹرز بھرتی کرنے کا اعلان کرتے ہوئے وزیراعلیٰ محمود خان نے اپوزیشن سے کورونا وائرس سے نمٹنے کیلئے مدد مانگ لی ہے جس پر اے این پی کے سردار بابک نے بھرپور تعاون کی یقین دہانی کرا دی ہے۔ ادھر قومی وطن پارٹی کے قائد آفتاب شیرپاؤ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ موجودہ صورتحال میں تمام سیاسی جماعتوں کو اختلافات سے بالاتر ہو کر کورونا وائرس کا مقابلہ یکجہتی کیساتھ کرنا چاہئے۔ ادھر قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف میاں شہباز شریف اور پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے مکمل لاک ڈاؤن کا مطالبہ کرتے ہوئے صورتحال کے تدارک پر زور دیا ہے۔ دوسری جانب حکومت نے کورونا وائرس کی تشخیص اور بچاؤ کے حفاظتی سامان کو تین ماہ سے ہر طرح کے ٹیکس اور ڈیوٹی سے مستثنیٰ قرار دیا ہے اور ورلڈ بنک کے منصوبے میں تاحال استعمال نہ ہونے والے 4کروڑ ڈالر کورونا وائرس سے بچاؤ کے آلات کی خریداری کیلئے خرچ کرنے کی اجازت دے دی ہے۔ جہاں تک صوبائی حکومتوں کی جانب سے کورونا وائرس سے نمٹنے کیلئے اُٹھائے جانے والے اقدامات کا تعلق ہے' خصوصاً ڈاکٹروں اور پیرا میڈیکس سٹاف کی بھرتی' موجودہ صورتحال میں اس کی اشد ضرورت ہے کیونکہ وائرس کو پھیلنے سے بچانے کیلئے احتیاطی تدابیر کیساتھ ساتھ مشتبہ مریضوں کی مناسب دیکھ بھال اور صحت کے ضمن میں دیگر معاملات بغیر طبی عملے کی مدد کے ممکن نہیں ہے۔ متاثرہ مریضوں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنے سے بیماری کے زیادہ شدت کیساتھ پھیلنے کے خدشات کے پیش نظر ان کے متعلقہ اضلاع میں زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کرنے سے نہ صرف یہ کہ مریضوں کو فوری طبی امداد مہیا کی جا سکتی ہے بلکہ صحت مند افراد کو ان سے محفوظ بھی رکھا جاسکتا ہے۔ انٹرنیشنل پروازوں پر پابندی عائد کرنے سے بھی دوسرے ممالک سے مشتبہ مریضوں یا بیماری کی علامات کے حامل افراد کو روکا جاسکتا ہے اور یہ قدم صرف پاکستان نے ہی نہیں اُٹھایا بلکہ دنیا کے بیشتر ممالک احتیاطی تدابیر کے طور پر اسی پالیسی پر عمل پیرا ہیں' البتہ جہاں تک موجودہ جزوی لاک ڈاؤن کا تعلق ہے اس حوالے سے ملک کے اندر دو آراء ہیں' ایک تو وہی ہے جس پر صوبائی حکومتیں کارفرما ہیں جبکہ دوسری رائے بعض افراد کی جانب سے مکمل لاک ڈاؤن کے مطالبے پر مبنی ہے۔ یقینا اس وقت حکومت کیلئے اس صورتحال میں کسی حتمی رائے تک پہنچنا ناممکن تو نہیں مگر بہت مشکل ہے' کیونکہ جزوی لاک ڈاؤن سے جہاں متوسط اور خصوصاً غریب لوگوں کو پھر بھی کہیں نہ کہیں کچھ نہ کچھ مزدوری مل جاتی ہے اور دیہاڑی دار مزدوروں کے گھروں کا چولہا بھی تھوڑا بہت جلتا رہتا ہے البتہ مکمل لاک ڈاؤن کی صورت میں پہلے سے بیروزگاری کے عفریت سے نبردآزما لوگوں کے گھروں میں فاقے ڈیرے جما کر انہیں بھوک سے مارنے کی صورتحال جنم لے سکتی ہے اور اگر موجودہ جزوی لاک ڈاؤن کے باوجود خدانخواستہ صورتحال قابو میں نہ آسکی تو بھی حالات مشکلات کا باعث ہوں گے۔ اس لئے مکمل لاک ڈاؤن کی صورت میں حکومت کی ذمہ داری غربت کا سامنا کرنے والے لوگوں کی مکمل اعانت بھی ٹھہرے گی جبکہ ملک کے اندر وہ رفاہی ادارے اور مخیر حضرات جو مجبور وبے کس خاندانوں کی کفالت کیلئے سرگرم رہتے ہیں ان سے بھرپور تعاون کی درخواست کرکے صورتحال پر قابو پایا جاسکتا ہے۔ اس لئے حکومت مکمل لاک ڈاؤن کے فیصلے تک پہنچنے سے پہلے ان تمام پہلوؤں کا جائزہ لے کر ہی اقدام اُٹھائے تاکہ بیماری کے تدارک کے نتیجے میں کسی غریب مسکین کو مشکلات سے دوچار کرنے کی نوبت نہ آسکے۔