درس وتدریس میں تعطل، حل کیا ہے؟

ملک بھر میں اس وقت تمام تعلیمی ادارے بند ہیں، حالات کا تقاضا بھی یہی تھا، دینا بھر میں اکثر سکول وکالج بند کر دئیے گئے ہیں۔ اب تک تو حکومتی اعلان کے مطابق یہ ادارے پانچ اپریل تک بند ہیں، البتہ ممکن ہے کہ حالات کے پیش نظر اس تاریخ میں توسیع کر دی جائے۔ ظاہر ہے کہ ہمیں تعلیمی ادارے اس وقت تک نہیں کھولنے چاہئیں جب تک کہ صورتحال مکمل طور پر قابو میں نا آجائے۔ ہم بچوں کی اس قدر بڑی تعداد کو ایسے خطرے سے دوچار کرنے کے متحمل نہیں ہو سکتے کہ اگر یہ بچے خود وائرس سے متاثر نہ ہوں تب بھی یہ کرونا پھیلانے کا اعلیٰ کار بن سکتے ہیں۔
اگر ہم مئی یا جون تک تعلیمی سلسلہ بحال نہ کر سکے تو اس کے بعد گرمیوں کی چھٹیاں شروع ہو جائیں گی اور یوں ہم جولائی کے وسط تک سکول نہیں کھول پائیں گے۔ سوال یہ ہے کہ ایسے میں تعلیم کا کتنا حرج ہوگا۔ یقینی طور پر اس طویل وقفے کے بعد تعلیمی تسلسل میں کئی قسم کے رخنے پیدا ہوں گے البتہ اگر یہ وقفہ چند ہفتوں تک ہی محدود رہے تو ہم یہ حرج تعلیمی سال کے آخری ہفتوں میں پورا کر ہی سکتے ہیں۔ ہم اس وقت تعلیمی سال کے تقریباً اختتام پر ہی تھے جب یہ غیرمتوقع چھٹیاں دیدی گئیں اور مارچ میں ہونے والے سالانہ امتحانات کو ملتوی کر دیا گیا مگر یہ کوئی بہت بڑا مسئلہ بھی نہیں کیونکہ پہلی سے لیکر آٹھویں تک کے امتحانات سکول اپنے طور ہی لیتے ہیں اور اگر اس سال یہ بچوں کو بغیر امتحانات کے ہی اگلی کلاس میں بھیج دیں توکوئی قیامت نہیں آنے والی۔ بچوں کو اس سال بغیر امتحانات کے پاس کر دینا ان کے تعلیمی کیریئر پر کوئی منفی اثرات مرتب نہیں کرے گا اور یہ کوئی پہلی بار نہ ہوگی کہ اس سے پہلے بھی 1976-77 میں ایسا کیا جا چکا ہے اور میری معلومات کے مطابق اس سے تعلیمی معیار پر کوئی منفی اثرات مرتب نہیں ہوئے تھے۔ البتہ ہم بورڈ کے امتحانات کے بارے یہ طریقہ نہیں اپنا سکتے کہ ان میں امتحانات کا انعقاد ناگزیر ہے۔ انہی امتحانات کی بنیاد پر بچے سکول یا کالج سے اگلے درجے میں جاتے ہیں سو ان کا انعقاد ضروری ہوگا، چاہے جتنی بھی تاخیر ہو جائے۔ اب اگر یہ امتحانات مارچ یا اپریل کی بجائے جولائی یا اگست میں ہوں تو ہمیں چار ماہ کی تاخیر کا سامنا ہوگا اور اگر ہم نتائج کے اعلان میں جلدبازی بھی کریں تب بھی سکول سے فارغ ہونے والے بچوں کیلئے نیا تعلیمی سیشن دسمبر یا جنوری میں ہی شروع ہو پائے گا اور یوں یہ ایک سمسٹر جتنا وقت کھو دیں گے۔ البتہ جامعات اس ایک سمسٹر کا نقصان اگلی گرمیوں کی چھٹیوں میں باآسانی پورا کر سکتی ہیں۔ اس وقت جامعات کی اکثریت اپنے سپرنگ سمسٹر (موسم بہار میں شروع ہونے والے سمسٹر) کے وسط میں تھیں اور اگر یہاں بھی تعلیمی سلسلہ مئی یا جون تک دوبارہ شروع ہو تب بھی تعلیمی نتائج یا بچوں کی سیکھ میں کوئی خاطرخواہ فرق نہیں آئے گا۔ ہائیر ایجوکیشن کمیشن اور کئی جامعات اس صورتحال میں آن لائن درس وتدریس کے سلسلے کو متبادل کے طور پر اپنانے کی سعی کر رہی ہیں۔ یہ نظام تقریباً اگلے دو ہفتوں تک فعال ہو جائے گا البتہ اگر اس سپرنگ سمسٹر کو موسم گرما تک طول بھی دینا پڑے تو کوئی حرج نہیں۔ رواں اور آئندہ سال کے موسم گرما کا وقفہ ان دنوں کے تعلیمی حرج کو پورا کرنے کیلئے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس دو چار ماہ کے وقفے سے اساتذہ، طلبائ، والدین اور جامعات کی انتظامیہ کو پریشان ہونے کی چنداں ضرورت نہیں کہ اس غیرمتوقع تعطل سے پیدا ہونے والی کمی بڑی آسانی سے پوری کی جا سکتی ہیں۔ البتہ ہمیں حالات کے پیش نظر کسی شدید صورتحال کا سامنا کرنے کیلئے بھی کمر بند رہنا چاہئے، ممکن ہے کہ کرونا وائرس سے ہم اتنی جلد چھٹکارا حاصل نہ کر پائیں۔ ہم اس وقت اس وباء کے ابتدائی مراحل میں ہیں، یہ وباء ہمیں اس وقت تک متاثر کئے رکھ سکتی ہے جب تک کہ ہم اس کیخلاف مدعافیت کا نظام مضبوط یا کوئی ویکسین دریافت نہیں کر لیتے۔اگر تمام طلباء اس سال کے آخر تک جماعتوں میں نہ لوٹ سکے یا اگر انہیں آنے کے بعد بھی افراد کی ایک خاص تعداد سے زیادہ کے اکھٹے نہ ہونے جیسی پابندیوں کا شکار رہنا پڑا تو ہمیں شدید غیریقینی صورتحال کا سامنا ہوگا۔ پاکستان میں اس وقت دو لاکھ سے زائد سکول ہیں اور ہمارے ہاں پانچ سے سولہ برس کی بڑی آبادی موجود ہے۔ اس قدر بڑی تعداد کیلئے آن لائن نظام تدریس وضح کرنا نہایت مشکل ہوگا۔ وہ سکول جہاں اشرافیہ کے بچے پڑھتے ہیں اس نظام کو اپنا سکتے ہیں مگر ان عام پاکستانیوں کا کیا بنے گا جو انٹرنیٹ تک رسائی رکھتے ہیں اور نہ اتنے وسائل کہ اس نظام کو اپنا سکیں۔
ترقی یافتہ ممالک میں رائج نظام تعلیم کو اپنانا بھی شاید ہمارے لئے کوئی زیادہ مددگار ثابت نہ ہو سکے کیونکہ ہمارے ہاں سکولوں کا جال بہت وسیع ہے اور یہاں پڑھنے والے بچوں کی تعداد ہمارے وسائل سے کئی گنا زیادہ۔ غربت، والدین کا تعلیم یافتہ نہ ہونا اور انٹرنیٹ تک آسان رسائی کا نہ ہونے جیسے مسائل صورتحال کو مزید گمبھیر بنا دیتے ہیں۔ اس لئے ہمیں کوئی ایسا حل تلاش کرنا ہوگا جو ہماری زمینی صورتحال سے میل کھاتا ہو۔ ملک بھر میں جامعات دو سو کی محدود تعداد میں ہونے کے باوجود یہ اس مقام تک نہیں پہنچیں جہاں وہ آسانی کیساتھ آن لائن نظام تدریس کو متعارف کرا سکیں۔ البتہ اگر ہمیں کرونا کی صورتحال کا یونہی سامنا رہا تو ہم اس دوران باقی دنیا میںاس ضمن میں ہونے والی جدتوں سے فائدہ اُٹھا سکتے ہیں ۔
اگر تو یہ ہنگامی صورتحال چند ماہ ہی کیلئے جاری رہی تو تعلیمی شعبے میں ہونے والے حرج کو باآسانی پورا کیا جا سکتا ہے اور اس سلسلے میں کسی کو بھی پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ اس وقت ہمیں وائرس سے متعلق کئی گنا بڑے مسائل کا سامنا ہے جس کیلئے ہمیں فکرمند ہونا چاہئے۔ اگر یہ صورتحال اس سال کے آخر تک جاری رہی تو ہم ایک غیریقینی صورتحال میں گھر جائیں گے اور ہمارے اسکولوں، کالجوں اور جامعات کو نظام تعلیم میں تعطل کو رفع کرنے سے متعلق گہری سوچ وبچار کے بعد کوئی حل ڈھونڈنے کی ضرورت پڑ جائے گی۔
(بشکریہ ڈان، ترجمہ: خزیمہ سلیمان)