بقائے شہر ہے اب شہر کے اُجڑنے میں

مارے آج کے کالم کا موضوع کرونا وائرس ہرگز نہیں ہے لیکن یہ کمبخت آج کل ایسا رائج الوقت سکہ بن چکا ہے کہ آپ کچھ بھی سوچ رہے ہوں یہ ذہن میں آدھمکتا ہے، کل ایک دوست سے اس حوالے سے بڑا خوبصورت شعر سننے کو ملا شاعر کے خیال، اپچ اور الفاظ کی نشست وبرخاست نے یقینا دل موہ لیا:
عجیب مرض ہے جس کی دوا ہے تنہائی
بقائے شہر ہے اب شہر کے اُجڑنے میں
شہر کے اُجڑنے سے مراد یہی ہے کہ جناب خاموشی سے گھر بیٹھے رہئے اسی میں ہم سب کی خیر ہے! زندگی خالق کائنات کی عطا کردہ بہت بڑی نعمت ہے اس میں بھی کوئی شک نہیں ہے کہ یہ چند روزہ ہے، مختصر ہے، بہت جلد ختم ہونے والی ہے لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اسی چند روزہ زندگی پر ہماری آخرت کا دار ومدار ہے اگر یہ چند روز ہم نے احکامات الٰہی پر عمل کرتے ہوئے گزار دئیے تو پھر آنے والی زندگی یقینا پرسکون ہوگی ورنہ بقول محمد ابراہیم ذوق:
اب تو گھبرا کے یہ کہتے ہیں کہ مرجائیں گے
مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے
زندگی آج بھی گزاری جا رہی ہے اور آج سے چالیس پچاس برس پہلے بھی گزر رہی تھی جو یقینا آج کی زندگی سے بہت مختلف تھی، اس وقت کی اپنی روایات تھیں اپنے طور طریقے تھے آج کی ہنگامہ خیزیوں میں ہم وہ زمانہ بھلا چکے ہیں لیکن جب کوئی دوست یاد دلاتا ہے تو دل میں ایک ہوک سی اُٹھتی ہے کہ ہم نے بہت کچھ کھو ڈالا ہے! رشتے ناطے، مروت، لحاظ پاس، محبتیں، ملنا ملانا ایک دوسرے کے حالات سے باخبری! یہ سب کچھ ہم بہت پیچھے چھوڑ آئے ہیں، یہ بھولی بسری باتیں ہمیں یاد دلانے والے لالہ پشوری ہیں یہ فیس بک پر ہمارے دوست ہیں اور انہوں نے ایک مختصر سی ویڈیو میں یہ ساری باتیں دوستوں کے گوش گزار کی ہیں۔ ہمیں اچھی لگیں اس لئے ہم نے انہیں اپنے کالم کا حصہ بنا ڈالا، آپ بھی دیکھئے کہ لالہ پشوری کیا کہتے ہیں ''دوستو! آج کا موضوع بڑا میٹھا اور خوبصورت ہے ''صدقہ وخیرات'' ہمارے بزرگ زمیندار تھے جب گندم کی فصل کاٹی جاتی تو اس میں سے سب سے پہلے اللہ پاک کا حصہ نکالا جاتا اور غریبوں پر تقسیم کردیا جاتا اسی طرح اگر گھر میں کوئی پریشانی ہوتی تو ہمیں کہتے جاؤ یہ تیل مسجد کے چراغ میں ڈال دو، اس زمانے میں مساجد میں شام کے وقت دئیے روشن کئے جاتے تھے جو اللہ پاک کا گھر روشن کرتا ہے تو اس کے گھر روشنی کیسے نہیں ہوگی؟ ہر جمعرات کو اپنے مرحوم بزرگوں کی روح کو ایصال ثواب بخشا جاتا، ایک بہت بڑے لگن میں پھلوں، روٹی سالن پر فاتحہ دیا جاتا جسے مسجد بھجوا دیتے، مسجد کے اُستاد دعائیں دیا کرتے تھے! بدھ کے دن کالے مسور کی دال پکائی جاتی جو بہت لذیذ ہوتی مزدوروں کو بلایا جاتا وہ پیٹ بھر کر دال روٹی کھاتے اور دل سے دعائیں دیتے، مساکین کی دعائیں تو اللہ کریم ضرور سنتا ہے، گھر وں میں برکت ہی برکت ہوتی بیماریوں کا نام ونشان بھی نہ تھا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب گھر کا ایک فرد کماتا تھا اور دس کھاتے تھے، اگر گھر میں کبھی کوئی بیمار ہو جاتا یا کوئی اور چھوٹی موٹی پریشان ہوتی تو کہتے جاؤ بیٹا روٹیاں غریبوں میں تقسیم کردو! بھوکے کو کھانا کھلانے کا کتنا بڑا ثواب ہے، ان کے دل سے دعائیں نکلتی ہیں، جنہیں اللہ تعالیٰ درجہ قبولیت بخشتا ہے۔ پشاوریوں کے گھروں میں ہر مہینے شولا ضرور پکتا جو گھر کی بڑی بوڑھیاں پکاتی تھیں (شولا ہندکو زبان کا لفظ ہے موٹے چاولوں میں گوشت، زبان اور بکرے کے سر ڈالے جاتے ہیں انتہائی لذیذ ہوتا ہے) قریبی رشتہ داروں کو بلایا جاتا کوئی پلیٹ، چمچ ڈونگے نہیں تھے ایک بڑے سے لگن میں شولا ڈال کر گھر کے صحن میں رکھ دیا جاتا پھر محلے کے بچوں کو بلایا جاتا بچے آتے، پیٹ بھر کر شولا کھاتے پھر ان بچوں سے کہا جاتا کہ ہمارے لئے دعا کرو، بچے اپنے ننھے منے ہاتھ اُٹھا کر دعا کرتے، بچے اللہ پاک کو اچھے لگتے ہیں وہ ان کے اُٹھے ہوئے ہاتھوں کی لاج رکھتا ہے، ان کی دعائیں قبول ہوتی ہیں! شعلے کیساتھ اناردانے کی چٹنی ہوتی تھی جس میں اخروٹ بادام بھی ڈالے جاتے، کتنی لذت تھی اسی طرح ٹماٹر کی چٹنی ہوتی، ٹماٹر لنگری میں کوٹے جاتے، شولے پر چٹنی ڈال کر کھائی جاتی، ساتھ ہی پیاز ہوتا بغیر چمچ کے سب اپنے ہاتھوں سے شولا کھاتے، ایک ہی لگن میں سب ملکر کھاتے تو برکت ہوتی، پھر اس کے بعد سب مل کر دعا مانگتے! کہتے ہیں کہ پشوریوں کی محفل قہوے کے بغیر ادھوری ہوتی ہے، کھانے کے بعد پشوری قہوہ پکتا جس کے پانی کو کافی دیر تک اُبالا جاتا، کتنا لذیذ قہوہ ہوتا جس میں خوب الائچی ڈالی جاتی سب ملکر شوق سے پیتے تھے، یہی ملاپ تھا محبت تھی ایک دوسرے کے حالات سے باخبری تھی، بہن بھائی ایک دوسرے کیساتھ مل جل کر بیٹھتے گپ شپ لگتی ایک دوسرے کیساتھ دکھ سکھ بانٹے جاتے، خاندان اکٹھا ہو جاتا، آج بھائی بیمار ہو تو بھائی کو خبر ہی نہیں ہوتی اور اگر خبر ہو بھی جائے تو فیس بک یا واٹس ایپ پر ہی حال احوال پوچھ لیا جاتا ہے یا پھر اس وقت خبر ہوتی ہے جب بھائی صحت یاب ہوچکا ہوتا ہے اور کسی تقریب میں ملاقات ہو تو ایک بھائی دوسرے سے کہتا ہے یار آپ بیمار تھے ہمیں پتہ ہی نہیں چلا؟ پتہ کیسے چلے جب ایک دوسرے کیساتھ ملنا ملانا ہی نہیں ہے، اب تو ملاقات بھی خوشی غمی کے موقع پر ہوتی ہے! آج ہم سب پریشان ہیں مسائل میں مبتلا ہیں اگر اپنے بزرگوں کی فراموش کی ہوئی روایات ہی کو زندہ کر لیا جائے تو کتنا اچھا ہو!