23مارچ’ تحریک آزادی کا روشن باب

23مارچ 1940ء ہماری تاریخ کا وہ سنہری دن ہے جس نے برصغیر کے مسلمانوں کیلئے ان کے مستقبل کے تعین میں اہم کردار ادا کیا۔ لگ بھگ ڈیڑھ صدی قبل 1857ء میں جب ہندوستان سے مسلمانوں کے اقتدار کا مکمل طور پر خاتمہ ہوا اور انگریزوں کے اقتدار سنبھالتے ہی مسلمان دوہری غلامی میں مبتلا ہوگئے تھے تو ایک جانب انگریزوں کی حکمرانی اور جبر تھا تو دوسری جانب انہیں انگریزوں کی سرپرستی میں ہندوؤں کی اقتصادی غلامی کا سامنا تھا جبکہ ہندوؤں نے مسلمانوں کے کئی صدیوں پر پھیلی ہوئی حکمرانی کے دوران جو بغض وعناد دلوں میں پال رکھا تھا کہ ہندوؤں کے اقتدار کو مسلمان بادشاہوں نے ختم کرکے ہندوستان کے طول وعرض میں اپنی بادشاہت قائم کی تھی اسلئے جب برصغیر میں تاجروں کے روپ میں انگریز' فرانسیسی اور ولندیزیوں نے آکر پہلے تجارتی کوٹھیاں قائم کیں اور بعد میں ہندوستان کی تجارت پر مکمل قبضے کیلئے یہ تینوں طاقتیں ابتداء میں آپس میں اُلجھتی رہیں جس کیلئے مقامی طور پر بھی انہوں نے فوجیں بھرتی کرکے معرکہ آرائی شروع کی جس کے نتیجے میں بالآخر انگریزوں کی ایسٹ انڈیا کمپنی نے ولندیزیوں اور فرانسیسیوں کو مار بھگایا اور پھر ہندوستان پر آہستہ آہستہ قبضہ جمانا شروع کیا تو ان کی امداد ہندوؤں نے کی' نواب سراج الدولہ اور ٹیپو سلطان کی ریاستوں کو سازشی عناصر کی مدد سے انگریزوں نے اپنی عمل داری میں شامل کرنے کے بعد بالآخر لال قلعہ دہلی پر بھی قبضہ جما کر آخری مغل شہنشاہ بہادر شاہ ظفر کو رنگون جلاوطن اور قید وبند کی صعوبتوں میں مبتلا کرنے میں جہاں مسلمانوں نے ان کیخلاف مزاحمت کی وہاں ہندوؤں نے ہر قدم پر انگریزوں کا ساتھ دیکر اپنے لئے انگریزوں کے دل میں نرم گوشہ پیدا کرلیا، اسلئے1857ء کی جنگ آزادی (جسے انگریزوں نے غدر کا نام دیا) کے بعد برصغیر کے مسلمانوں پر عرصہ حیات تنگ کر دیا گیا۔ انگریزوں نے نہ صرف مسلمانوں کے مقابلے میں ہر شعبۂ زندگی میں ہندوؤں کو ترجیح دی بلکہ ان کو اقتصادی اور تعلیمی طور پر دباؤ میں رکھنے کیلئے ہر حربہ استعمال کیا۔ ایسے موقع پر سرسید احمد خان واحد شخص تھے جنہوں نے مسلمانان برصغیر کی کسمپرسی کے اسباب سمجھتے ہوئے انہیں انگریزی ذریعہ تعلیم سے آشنا کرنے کی ذمہ داری سنبھالی۔ اگرچہ اس دور کے مسلمان اکابرین نے ان کی بھرپور مخالفت کی مگر وہ بھی ہار ماننے والے نہیں تھے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ اگر مسلمان ضد میں آکر انگریزی سے اپنی آنے والی نسل کو دور رکھنے سے باز نہ آئے تو مسلمان زندگی کی دوڑ میں بہت پیچھے رہ جائیں گے۔ بہرحال مسلمانان برصغیر کو بھی احساس ہوگیا کہ اگر انگریزوں اور ہندوؤں کے گٹھ جوڑ کا مقابلہ کرنا ہے اور مسلمانوں کی تنہائی ختم کرکے انہیں زندگی کے دوڑ میں شامل کرنا ہے تو سرسید اور ان کے ساتھیوں کی باتوں پر عمل کرنا ہے تاہم انگریزوں کی غلامی سے نجات کا راستہ ترک نہیں کیا گیا اور اس دوران حریت پسندوں کو جو قربانیاں دینی پڑیں وہ بھی ایک روشن باب ہے' قید وبند کی صعوبتیں انہیں اپنے مقصد کی تکمیل سے باز نہیں رکھ سکیں' اس زمانے کے ایک حریت پسند رہنما مفتی سرحد عبدالرحیم پوپلزئی کے اس شعر سے صورتحال کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔
داد دے صیاد کچھ تو حریت کا راگ ہم
عمر بھر زنجیر کی جھنکار پر گاتے رہے
انگریز حکومت کی سرپرستی میں ایک ریٹائرڈ انگریز افسر مسٹر ہیوم نے انڈین نیشنل کانگریس کی بنیاد ڈالی جس نے شروع ہی سے ایسے مطالبات کئے جو مسلمانوں کے مفاد کے منافی تھے مثلاً ملک کی کونسلوں میں سادہ اور غیرمشروط انتخاب کا اصول' نمائندہ حکومت اور تمام اسامیوں کو پر کرنے کیلئے مقابلہ کا امتحان۔ اس موقع پر سرسید نے مسلمانوں کو متنبہ کیا کہ اگر کانگریس کے مطالبات مان لئے گئے تو ملک پر برطانیہ کے زیرسایہ ہندو اکثریت کی حکومت قائم ہو جائے گی اور مسلمان محکوم ہو جائیں گے۔ انہوں نے صاف صاف کہہ دیا کہ ہندو اور مسلمان دو جداگانہ قومیں ہیں چنانچہ ان کے مشورے پر مسلمان کانگریس کی تحریک سے الگ رہے۔ مسلمانوں میں تعلیمی ترقی کیساتھ ساتھ بتدریج سیاسی شعور پیدا ہوا۔ جب1906ء میں انگریز حکومت نے کچھ آئینی اصلاحات کا ارادہ کیا تو سرسید احمد خان کے جان نشین نواب محسن الملک نے مسلمان زعماء کا ایک وفد ترتیب دیا جس نے سرآغاز خان سوئم کی قیادت میں حکومت سے مطالبہ کیا کہ نئی کونسلوں میں مسلمانوں کو اپنے نمائندے خود منتخب کرنے کا حق دیا جائے، اس کے بعد ڈھاکہ میں نواب محسن الملک' نواب وقار الملک اور نواب سلیم اللہ کی کوششوں سے آل انڈیا مسلم لیگ کا قیام عمل میں آیا جس کی پہلی کامیابی یہ تھی کہ اس نے منٹو مارلے اصلاحات میں مسلمانوں کیلئے جداگانہ انتخاب کا اصول تسلیم کرایا۔
1928ء میں کلکتہ کے مقام پر ایک آل پارٹیز کنونشن منعقد ہوا جس میں قائداعظم نے مسلمانوں کی جانب سے نہرو رپورٹ کی سکیم میں چند معمولی ترامیم پیش کیں لیکن کنونشن نے ان کو حقارت سے ٹھکرایا تو قائداعظم نے کہا کہ اب ہماری راہیں جدا جدا ہیں اس کے بعد بھی مسلمان لیڈروں نے کوششیں کیں کہ ہندوؤں اور مسلمانوں میں کوئی سمجھوتہ ہوجائے' 1937ء میں انتخابات کے بعد صوبوں میں وزارتیں قائم ہونے لگیں تو مسلم لیگ نے تعاون کی پیشکش کی مگر کانگریس نے اقتدار کے نشے میں مخلوط وزارتیں بنانے سے انکار کردیا' کانگریسی وزارتوں کے دور میں مسلمانوں پر بے پناہ مظالم ہوئے کہ ہندو مسلمان مفاہمت کی سب اُمیدیں خاک میں مل گئیں جس کے بعد قائداعظم کی قیادت میں مسلمانوں سے علیحدہ وطن کیلئے جدوجہد کا آغاز کیا اس سلسلے میں لاہور کے منٹو پارک (جہاں اب مینار پاکستان تعمیر کیا گیا ہے' 23مارچ 1940ء میں قائداعظم کی صدارت میں جلسہ عام میں مولوی فضل الحق مرحوم نے قرارداد پاکستان پیش کی اور اس کے بعد آزادی کی منزل پانے کیلئے مسلمانان برصغیر نے جو قربانیاں دیں وہ قوم کی تاریخ میں روشن باب ہے جسے رہتی دنیا تک یاد رکھا جائے گا۔