کرونا، گائوموتر اور نشئی ہاتھی

کرونا وائرس سے بچنے کیلئے ابھی تک کوئی ویکسین ایجاد ہوسکی ہے اور نہ ہی باقاعدہ سے کوئی دوا ایجاد یا دریافت ہوسکی ہے۔ امریکہ کے ادارے ایف ڈی اے نے جو دوا منظور کی ہے وہ قریب ترین ہے ابھی بھی کوئی بھی دوا حتمی نہیں قرار دی جاسکتی۔ احتیاط ہی واحد اور مؤثر دوا ہے لیکن ٹھہرئیے برصغیر پاک وہند کے مختلف ماہرین نے اپنے اپنے تجربے شروع کردئیے ہیں اور وہ مجھ سے زیادہ آپ آج کل ہر قسم کے میڈیا میں دیکھ سن اور پڑھ رہے ہیں۔ سوشل میڈیا کے کرونا ماہرین نے تو آسمان وزمین کی دوائیں روشناس کروا دی ہیں۔ پاکستان کے ماہرین نے پہلے پیاز اور پھر دیگر کئی جڑی بوٹیوں کو کرونا وائرس کا علاج ہونے کا دعویٰ کیا ہے اور اتنے اعتماد کیساتھ لوگوں کو اپنی ایجاد سے مستفید ہونے کیلئے اکسا رہے ہیں کہ جیسے وہ امریکہ کی صحت کے کنٹرول کے سب سے بڑے ادارے کے سربراہ یا سائنسدان ہوں۔ دم درود کے بابے بھی سرگرم ہیں اور مختلف تعویز ودھاگے وشف کرکے لوگوں کو بروقت ویکسین دے رہے ہیں اور سب امراض کا تریاق کلونجی تو ان سب ادویات میں پہلے نمبر پر ہے۔ شہر تو شہر دیہاتیوں نے بھی ان ادویات کا نہ صرف استعمال شروع کر دیا ہے بلکہ اچھی خاصی مقدار میں زخیرہ کرنا بھی شروع کر دیا ہے۔
پاکستان کے سائنسدانوں کی ادویات کا سن کر ہمارے پڑوسی نے چپ تھوڑے ہی بیٹھنا تھا لہٰذا بھارت کے طب کے نام نہاد ماہرین نے بہت سی ادویا ت کیساتھ ساتھ گاؤ موتر (گائے کے پیشاب) کے استعمال کو نہ صرف کرونا کا علاج قرار دیدیا بلکہ گاؤ موتر پی کر آپ کرونا کی ویکسین کا فائدہ بھی لے سکتے ہیں۔ جتنا گاؤ موتر پئیں گے اتنا آپ کرونا کے خطرے سے بچ سکتے ہیں لوگوں نے سننا تھا اور پھر کیا تھا ہر فارما سوٹیکل مینوفیکچرر کی طرح گاؤ موتر کے ڈسٹری بیوٹرز سرگرم عمل ہوگئے اور گاؤ موتر پینے کیلئے آپ کو گائے ڈھونڈنے اور اس کے پیشاب کرنے کا انتظار سے بچانے کیلئے تیار موتر آپ کے گھر پہنچانے کا بندوبست بھی کر دیا گیا۔ بھارت میں ہندو انتہاپسند جماعتیں سادہ لوح لوگوں کو کرونا سے بچاؤ کیلئے گاؤ موتر پینے کا مشورہ دے رہے ہیں۔ اس طرح کئی لوگ پیشاب پینے کے باعث بیمار پڑنا شروع ہوگئے ہیں لہٰذا بھارت کے صوبہ مغربی بنگال سائنس فورم نے پیشاب پینے پر پابندی کیلئے کولکتہ ہائیکورٹ میں درخواست دائر کر دی ہے۔ ساؤتھ ایشین وائر کے مطابق فورم کے وکاش رنجن بھٹاچاریہ اور سینا جی بھٹا چاریہ نے اپنی درخواست میں کہا ہے کہ کچھ لوگ گائے کا پیشاب پینے کے بعد بیمار پڑ رہے ہیں لہٰذا عدالت پیشاب پینے پر پابندی عائد کر دے۔ عدالت نے اس کیس کو قابل سماعت قرار دیکر منگل 24مارچ کو سماعت کیلئے تاریخ مقرر کردی ہے۔بات پاکستان اور ہندوستان میں ہونے والے واقعات تک محدود نہیں بلکہ چین میں کچھ علاقوں میں حفظ ماتقدم کے طور پر ابھی بھی کچھ علاقوں میں لاک ڈاؤن ہے یعنی لوگ گھروں تک محدود ہیں، بازار جانا تو درکنار وہ کھیتوں تک میں نہیں جار ہے، لوگوں کے گھروں میں قید ہونے کا فائدہ جنگلی جانوروں نے لینا شروع کر دیا ہے۔ ہاتھیوں نے مکئی کے کھیت پر دھاوا بول دیا، غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق یہ واقعہ چین کے صوبہ یونن میں پیش آیا جہاںدرجن بھر سے زیادہ ہاتھیوں کے جھنڈ نے کھانے کی تلاش میں مکئی کے کھیت میں خوب من بھر کر کھایا اور یہیں پر ہی بس نہیں بلکہ وہ کھیت کے مالک کے گھر کے صحن میں پڑے تیس کلو نشہ آور مشروب بھی پی گئے اور یوں ہاتھی بے ہوش ہوکر وہیں گر پڑے۔ چین کے ہاتھی کے مقابلے میں ایک پاکستانی نے بھی کچھ اسی طرح کی حرکت کرکے سب کو حیران کر دیا، ہوا یوں کہ گجرات کے ایک نوجوان سپین سے پاکستان آیا، ایئرپورٹ پر چیک ہونے پر پتہ چلا کہ کرونا پازیٹو ہے یعنی کرونا وائرس کا شکار ہو چکا ہے تو موصوف نے ایئر پورٹ انتظامیہ کو صرف چھ ہزار روپے دئیے اور گھر پہنچ گیا۔ اب وہ اپنے بیٹے سمیت قرنطینہ میں ہے۔ اللہ ہی اس قوم کا حامی وناصر ہو۔
سب لطیفوں سے ہٹ کر سنجیدہ بات یہ ہے کہ کرونا نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے، یہ وائرس چین سے شروع ہوا تھا اب چین میں تقریباً ختم ہوچکا ہے، اس مشن میں جن کارکنوں نے حصہ لیا تھا اور فاتح اپنے گھروں کو لوٹے تو پوری قوم نے ان کی خدمات کو شاندار انداز میں خراجِ تحسین پیش کیا، پورے چین میں ہر ہزاروں سکرینز پر انہی ہیروز کی تصویریں ہیں اور چین کی یہ صحت کی ٹیمیں پوری دنیا کو اپنے تجربہ سے مستفید کرنے کیلئے مختلف ملکوں کے دوروں پر ہیں۔ پاکستان کو بھی ان کا بھرپور تعاون حاصل ہے اور ملک کے مختلف ہسپتالوں کو ویڈیو لنک کے ذریعے اپنے تجربے کے مطابق مشورہ دے رہے ہیں۔ عوام سے التماس ہے کہ وہ گھروں میں رہیں اور خوب عبادت کریں اور اللہ سے دعاؤں میں رحمت کی درخواست کریں۔