کورونا وائرس کے معاملے پر جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کا بیان

پوری دنیا کورونا وائرس کی لپیٹ میں ہے جسکو عالمی وبا بھی کھا جاسکتا ہے،بڑے بڑے ممالک جو وسائل کے اعتبار سے ترقی یافتہ تصور کئیے جاتے ہے مگر اس وباء کے سامنے وہ بھی بے بسی کا اظہار کر رہے ہے، ڈبلیو ایچ او نے جو اعداد شمار شائع کئیے ہے جس کہ مطابق دو لاکھ 94 ہزار 110 افراد اس مرض کا شکار ہوچکے ہے، ڈبلیو ایچ او رپورٹ کے مطابق بارہ ہزار 944 افراد اس وبا سے انتقال کرگئے ہے یہ ایک بہت بڑا انسانی سانحہ ہے، اس وقت علماء ، ڈاکٹرز انسانیت کی خدمت اور رہنمائی میں مصروف ہے علماء اور ڈاکٹرز لوگوں کو روحانی علاج اور احتیاط کے حوالے سے لوگوں کو اگاہ کر رہے ہے اس وقت ہمیں ذیادہ سے ذیادہ توبہ استغفار کرنا چاہئیے اس وقت تک اس مرض کو کوئی علاج دریافت تو نہیں ہوسکا ، تو ظاہر ہے پھر ہمیں احتیاط ہی برتنا ہوگی، لوگوں سے ملنا جلنا اور غیر ضرور طور پر گھر سے باہر نہیں نکلنا چاہئیے ایسے حالات میں اقوام عالم ہر نقصان کو برداشت کر رہے ہیں کیونکہ انسانی جان سے اہم کوئی چیز نہیں،

جمعیت علماء اسلام نے اپنی تمام سرگرمیاں پانچ اپریل تک معطل کردی ہے ہم نے اپنے رضاء کاروں کو ضلعی انتظامیہ کے ساتھ رابطہ میں رہنے کی ہدایت کی ہے ہمارے رضاء کار کرونا سے متاثر افراد کی مدد کو پہنچے،احتیاطی تدابیر کو مدنظر رکھتے ہوئے کارکن اپنے یونین کونسل اور علاقہ میں دیہاڑی دار مزدوروں اور غریب لوگوں کا بھی خیال رکھے،ہر شخص انفرادی طور پر عبادت کرے اور خاص وضائف کا ورد کرے،قومی سطح پر جب ہم اس قسم کی ازمائشوں سے دوچار ہوتے ہے تو اس کا بنیادی سبب ہمارے اجتماعی گناہ بھی ہوتے ہیں، ستر سالوں سے ہم اسلامی طریقے سے زندگی گزارنے کیلئے تیار نہیں ہیں، ہمارے حکمران بھی مغربی طریقے اور اپنے اقائوں کو خوش کرنے میں مصروف رہتے ہے اور اسے اپنی کامیابی سمجھتےہیں، پوری قوم کو چاہئیے کہ وہ اللہ سے معافی مانگے اور سیدھے راستے پر ائےہمیں اپنا نیا مستقبل تشکیل دینا ہوگا، مولانا فضل الرحمن