dr. dost muhammad 22

گردش زمانہ اور دہلی و کابل کی شرارتیں

دنیامیںجہاں کہیں استعماری قوتیں قبضہ جما لیتی ہیں ‘ تو محکوم قوم کے افراد تین چار حصوں(طبقات) میں تقسیم ہوجاتے ہیں۔ ایک حصہ وہ ہوتا ہے جو جاں فروشاں کہلاتا ہے اور وہ ہر چہ باداباد حملہ آور قوتوں سے ٹکرا جاتا ہے ۔ دوسرا وہ ہوتا ہے جو حملہ آور قوتوں کو ”زمینی حقائق” سمجھ کر ساتھ مل جاتے ہیں اور ان کے دست و بازو بن جاتے ہیں۔ تیسرا حصہ(فیکشن) وہ ہوتا ہے جن میں نہ مزاحمت کی قوت ہوتی ہے اور نہ ہی استعمار سے ملنے کی ہمت ‘ لہٰذا وہ کنارہ کش ہو جاتے ہیں اور ایک طبقہ وہ ہوتا ہے جو اعلیٰ تعلیم یافتہ ہوتا ہے لہٰذا وہ اپنی علمی سرگرمیوں میں مشغول ہوجاتے ہیں اور ایسی کتب تصنیف کر جاتے ہیں جو آنے والی نسلوں کی رہنمائی اور بالیدگی میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
ہندوستان پر برطانوی راج کی تاریخ سے یہ بات بخوبی واضح ہوتی ہے اور ان ہی طبقات اربعہ کے اثرات آج تک ہندوستانی ‘پاکستانی اور بنگلہ دیشی معاشروں میںپائے جاتے ہیں۔ یہی حال کم و بیش 19ویں اور 20ویں صدی کے استعماروں کی تاریخ سے ہر خطے میں عیاں ہے ۔ افغانستان البتہ اپنی نوعیت کی ایک الگ قوم رہی ہے ۔ سکندر اعظم سے لیکر نیٹو افواج تک مزاحمتی طبقات ہمیشہ ا کثریت میں ہونے کے علاوہ غالب بھی رہی ہیں افغانستان پربرطانیہ کے حملے کے مقابلے میں تو پوری قوم سیسہ پلائی ہوئی دیوار تھی۔ لیکن روس نے افغانیوں میں سے اپنے مطلب کی ایک جماعت یا گروپ نورمحمد ترکئی ‘ حفیظ اللہ امین’ ببرک کارمل وغیرہ وغیرہ کی صورت میں میسرتھا ‘ لیکن اس کے خلاف کے مزاحمت میں پوری اسلامی دنیا شامل تھی ۔
امریکہ کو برطانیہ اور روس کے مقابلے میں یہ فائدہ ضرور حاصل رہا کہ نائن الیون کے واقعہ کے سبب افغانستان میں مزاحمتی قوتوں کو آس پاس کے پڑوسیوں اور اسلامی دنیا کی حمایت بوجوہ میسر نہ آسکی۔ لیکن طالبان بہرحال مزاحمت کرتے رہے ۔ یہاں تک بیس سال گزر گئے لیکن ان کی قوت مزاحمت اور عزائم میں فرق نہیں آیا اور پھر وہ لمحہ آیا کہ امریکہ نے افغانستان سے نکلنے کے لئے طالبان کے ساتھ دوحہ میں عالمی میڈیا کی چکا چوند میں معاہدہ کر لیا۔اصولی طور پر اس معاہدہ پر حرف و لفظ کے ساتھ عمل ہونا چاہئے اور افغان مسئلے کا دیرپا حل اسی میں پوشیدہ ہے لیکن لگتا ہے کہ افغان قوم میں اس وقت عجیب سی چیزیں پیدا ہوئی ہیں ۔ افغان حکومتی حلقوں میں صدر اشرف غنی سے لیکر امریکی افواج کے ساتھ کام کرنے والی افرادی قوت اور افغان افواج تک سب ایک مخمصے کے شکار ہیں اور اسی کیفیت نے افغان مسئلے کو الجھا کر رکھ دیا ہے ۔ اشرف غنی اور اس کے حواری حکمرانی کی عیاشیاں اور ڈالروں کی بارش کہاں بھولنے والی ہے لہٰذا وہ دوحہ معاہدے کی اہم مشق ”طالبان قیدیوں کی رہائی ”میں کھنڈت ڈال رہی ہے ۔ اس لئے طالبان جو اس وقت افغانستان کے سترفیصد علاقوں پر قابض ہیں اب تازہ بیان میں تین ماہ کے لئے جنگ بندی اور اس دوران مذاکرات کے ذریعے معاملات حل کرنے کے لئے پہلی شرط یہ پیش کی ہے کہ سات ہزار طالبان قیدیوں کو رہا کیا جائے جبکہ افغان حکومت جاری جنگ کے اس ماحول میں سات ہزار منجھے ہوئے طالبان قیدی رہا کروا کر طالبان کی طاقت میں مزید اپنے ہاتھوں مزید اضافہ کرنے کے روادار نہیں۔ادھر پاکستان کا ازلی دشمن بھارت بھی افغان حکومت کو ہلہ شیری دینے میں لگا ہوا ہے اور دہلی میں افغان سفیر نے کھلے الفاظ میں کہا ہے کہ ضرورت پڑی تو بھارت سے افواج اور اسلحہ کی امداد کی درخواست کی جا سکتی ہے شاید اسی کے بل بوتے پر اشرف غنی نے طالبان کی کمر جلد توڑنے بھبکی ماری ہے ۔
بھارت اپنی ستر سالہ تاریخ میں پہلی دفعہ دو محاذوں پر سخت ہزیمت کا شکار ہوچکا ہے ۔ ایک لداخ(گلوان)کے محاذ پر اور دوسرا افغانستان میں۔ افغانستان کا زخم بہت گہرا اور تازہ ہے تین ارب ڈالر کی سرمایہ کاری ڈوبنے کو ہے اور سولہ قونصل خانوں سے سینکڑوں ”را” کے ایجنٹس ہاتھ ملتے ہوئے سی ون 30 جہازوں میں دم دبا کر فرار ہوچکے ہیں لیکن افغان حکومت اور بھارت شرارتوں سے باز آنے والے نہیں۔
بھارت افغانستان میں خانہ جنگی کی آگ بھڑکانے کی ہر ممکن کوشش کر رہا ہے تاکہ افغانستان سے لاکھوں مہاجرین پاکستان کے لئے معاشی اور امن عامہ کے مسائل پیدا کرے اور یہاں امن قائم نہ ہو سکے کہ سی پیک کا منصوبہ کامیاب ہونے کے لئے افغانستان میں امن کا قیام ناگزیر ہے ۔ بدقسمتی سے افغان حکومت بھارت کی آلہ کار بن چکی ہے حالانکہ اس میں افغان قوم کا سراسر گھاٹا اور خسارہ ہے افغانیوں کی کامیابی اس میں ہے کہ آپس میں مذاکرات کے ذریعے ایک بہترین حکومت قائم کرے اور اپنے عوام کے لئے خوشحالی و ترقی کی راہیں ہموار کریں اس کے لئے چین ‘ روس ‘ پاکستان اور ایران مناسب اقدامات کر سکتے ہیں اور چین کے صدر نے بجا فرمایا ہے کہ مناسب وقت پر انٹرا افغان مذاکرات کے لئے اقدامات کئے جائیں گے لہٰذا افغان حکومت کو چاہئے کہ پاکستان پر بے جا و بے بنیاد الزامات لگانے کی بجائے انٹراافغان مذاکرات کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگائے کہ یہی مسائل کا ہے اور شرارتوں سے باز آکر بنیا کی چالوں میں نہ آئے۔