engineer-doctor-zakaullah

خوابوں میں بھی خیال سے آگے نہیں گئے

خواب پر ہم کوئی اختیار نہیں رکھتے ۔ہمیں یہ معلوم نہیں ہوتا کہ ہم نے کب اور کس قسم کا خواب دیکھنا ہے۔یہ خواب پہ ہی منحصر ہے کہ ہمیں کس حال میں کیا کیا دکھاناہے اورکہاں پر کس کس سے ہمیں دوچار کرنا ہے۔ کچھ خوابوں میں تو اس قدر دھندلاہٹ ہوتی ہے کہ جاگنے پر یاد ہی نہیں رہتا کہ کیا دیکھا۔بس ذہن میںایک خفیف سا تاثر رہ جاتا ہے۔ کچھ خواب تو اتنے روشن ہوتے ہیں کہ جاگ کر بھی یہ احساس نہیں ہوتا کہ کوئی خواب دیکھاہے بلکہ حقیقت کا گمان ہوتا ہے۔ ماہرِنفسیات سگمنڈ فرائیڈ نے جب خوابوں پر تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ خواب ہمارے لاشعور تک جانے والی ایک شاہراہ ہے۔ یہ جوہم کبھی سہانے اور کبھی ڈراؤنے خواب دیکھتے ہیں۔دراصل ہمارے روزمرہ کے معاملات سے پیدا ہونے والے باطنی جذبات ، احساسات اور تصورات کا نتیجہ ہے۔ ہمارے لاشعور میں پیدا ہونے والے یہ خواب ہم سے مکالمہ کرتے ہیں ۔ہمارے ہی خیالات ہم سے کھل کھیلتے ہیں ۔ ہم خواب مختصر دورانیے کے لیے دیکھتے ہیں مگر اس کی شدت ہماری یادوں میں برسوں تک رہتی ہے۔
جرمن ماہر نفسیات پال تھیولے لکھتا ہے کہ '' خواب سے بھاگنے کی کوشش نہ کریں بلکہ دوستانہ انداز میں پوچھیے کہ تم کون ہو ؟ یا مَیں کون ہوں؟
بسا اوقات ہم بیداری میں بھی خواب دیکھتے ہیں ۔جس کا ہمیں احساس ہوتا ہے۔ یہ روشن خواب ہمارے اند ر تبدیلی پیدا کرنے کی بڑی طاقت رکھتے ہیں ۔ اس سے ہم اپنی زندگی کو زیادہ روشن اور واضح طور پہ دیکھتے ہیں۔ وہ لوگ جو ایسے روشن خوابوں سے فیض یاب ہوتے ہیں ،وہ اس کی لذت سے بھیانک خوابوں کو میٹھے خوابوں میں تبدیل کر دیتے ہیں۔ روشن خواب ذات کی آگہی میں نہایت مفید ثابت ہوتے ہیںبلکہ کسی حد تک نفسیاتی علاج میں بھی معاون ہو سکتے ہیں۔ اسی لیے ماہرین کہتے ہیں کہ اصل مسلہ خواب کے مواد پر اختیار حاصل کرنا نہیں ہے لیکن یہ ضروری ہے کہ خواب کے مقابل ظاہر کیے جانے والے ردِعمل کو قبول کیا جائے ،جس سے خواب اور بیداری کے دوران شعور میں تعاون فروغ پاتا ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے اکثر خواب گزشتہ چند دِنوں کے دوران دیکھے یا سُنے ہوئے مواد پر مبنی ہوتے ہیں لیکن بعض خواب کئی برس پہلے کی یادوں سے جڑے ہوتے ہیں۔جیسے بڑی عمر میں بچپن کے واقعات کا خواب۔ کیونکہ یہ یادیں لاشعور کے کسی کونے کھدرے میں محفوظ ہوتی ہیں۔ جیتے جاگتے انسان کے ذہن میں خواہشات اور خدشات پیدا ہوتے ہیں۔ اِن میں نامکمل خواہشات اور خدشات انسانی لاشعور کے اندر جمع ہوتے رہتے ہیں ۔ پھر یہ کسی وقت بھی خوابوں کی صورت سامنے آتے ہیں۔ غلام ربانی تاباں کا شعر ہے کہ
زندگی کی تلخیاں دیتی ہیں خوابوں کو جنم
تشنگی صحرا میں دریا کا سماں دکھلائے ہے
دنیا بھر میں خوابوں اور اس کے اثرات کے بارے بہت زیادہ دلچسپ کتابیں لکھی جا چکی ہیں۔ اسی طرح بہت سی شخصیات کا ایک حوالہ ان کے خواب ہیں۔ قران مجید میں حضرت یوسف علیہ السلام کے خواب کا ذکر موجود ہے اور یہ کئی علامتوں سے بھی ظاہر کیا گیا ہے جو پیش آنے والے واقعات کو نمایاں کرتے ہیں۔ بابل کے بادشاہ بخت نصر، سقراط، سکندر اعظم ، سسی، رومن سلطنت کے مشہور ڈکٹیٹر جولئیس سیزر کی بیوی کیلپورنیا، جرمنی کے بابائے قوم بسمارک ، سائنسدان آئن سٹائن اور امریکی صدر ابراہم لنکن کے خوابوں کو بھی شہرت ملی ہے۔ اسی طرح بہت سے لوگوں کو اپنے ذہنی لگاؤ کے باعث خواب میںبرگزیدہ ہستیوں کی زیارت ہوئی ، تاریخ اور سیاست سے دلچسپی رکھنے والوں نے خوابوں میں بڑے بڑے کرداروں اور رہنماؤں سے ملاقاتیں کی ہیں اور ان کا احوال لکھا ہے۔
خوابوں نے عالمی ادب کو بھی خوب متاثر کیا ہے۔ فرانس سے سریلزم کی جو ادبی اور فنی تحریک شروع ہوئی ،اس کا مقصد کسی قسم کی مذہبی،اخلاقی اور سماجی روک ٹوک کے بغیر صرف لاشعوری خیالات کے مطابق ادب اور آرٹ تخلیق کرنا تھا۔ دنیا کی ہر زبان کے ادب میں چاہے شاعری ہو یا نثر، اس میں خواب اور لاشعور میں پیدا ہونے والے خیالات کی بنیاد پر کہانیاں اور نظمیں لکھی گئی ہیں۔ خوابوں کے مطالعہ اور اس کے تجزیہ سے یہ امرواضح ہوتا ہے کہ انسان اپنی عمر، ذہنی سطح اور تجربہ کے مطابق جو کچھ سوچتا ہے ،وہی کہنے پہ قادر ہے۔ میرے ایک کرم فرما کے پاس اُن کا ایک پڑوسی ملنے آیا اور بتایا کہ رات کو ان کے مرحوم والد خواب میں آئے تھے۔ یہ تاکید کی کہ صبح میرے بیٹے کے پاس جانا ،وہ تمہاری مالی امداد کریں گے۔ انہوں نے پوچھا کہ میرے والد کس وقت خواب میں ملے۔ پڑوسی نے جواب دیا کہ عشاء کی نماز پڑھ کر سویا تو یہ خواب دیکھا۔ اب انہوں نے کہا کہ آج صبح کی نماز پڑھ کر مجھے نیند آئی تو والد مرحوم نے خواب میں آکرحکم دیا کہ ایک شخص میرے حوالہ سے ملنے آئے گا مگر اس کی امداد ہرگز نہیں کرنی۔