maryam-gillani

کہانی تو کچھ اور ہے

پاکستان اور افغانستان کے درمیان معاملات بڑے گنجلک ہیں۔ ماضی سے یہی صورتحال ہے اور ابھی تک اس میں کوئی تبدیلی نہیں۔ پاکستان اورافغانستان کے مابین ایک Love and Hateتعلق ہے کوئی درمیانی راستہ نہیں اور اس تعلق کی طنابیں افغانستان کے ہاتھ میں ہیں۔ پاکستان نے گزشتہ کئی دہائیوں میں اس حوالے سے کوئی اہم کردار ادا نہیں کیا۔ افغانستان ' پاکستان سے زیادہ تر نفرت ہی کرتا ہے ۔ محبت کا تڑکا تو کبھی کبھی لگتا ہے جب روس افغانستان میں دوستی کے لبادے میں آن موجود ہوا اور اس کے عزائم کے حوالے سے کوئی دورائے کبھی نہ تھی۔افغانستان کا تمام ترجھکائو روس کی جانب تھا اس تعلق میں افغانستان فراموش کئے بیٹھا تھا کہ روس تو Peter the Great کے زمانے سے افغانستان کے راستے برصغیر تک پہنچنا چاہتا تھا اور اسی مقصد کے حصول کے لئے اس نے وسط ایشیائی ریاستوں خصوصاً ازبک سپاہیوں کا ایک لشکر تیار کیا اور اسے سائبیریا کے راستے بھیجا مگر یہ لشکر کچھ موسم کی سختیوں کا شکار ہوا اور باقی ایک افغان صوبے کے حکمران کی ہوشیاری کے ہتھے چڑھ کر غلام ہو گیا۔ جن کی رہائی کے لئے بعد میں ایک اور لشکر روانہ کیا گیا یہ بھی یاد رہے کہ افغانستان اور روس کے درمیان دوسری عالمی جنگ عظیم کے بعد سے نہایت دوستانہ تعلقات ہیں۔ دونوں کے درمیان دوستی کا پہلا معاہدہ تو 1921ء میں ہی طے پا گیا تھا لیکن اس میں بڑھوتری ہوتی رہی 1978ء میں دوستی کا دوسرا معاہدہ بھی طے پایا اور اسی دوستی کے دوسرے معاہدے کے بعد 1979ء میں روس کی جانب سے operation storm 333 ہوا جس میں افغانستان پر روس نے حملہ کر دیا ۔ روس کی حمایت کرنے والی یہ حکومت افغانستان میں 1992ء تک قائم رہی ۔ دراصل یہ سب اس Great Game کا حصہ تھا جس کی بنیاد تاج برطانیہ اور سلطنت روس کی آپس کی مخاصمت تھی اور اس میں افغانستان کو استعمال کیاگیا۔ اسی Great game میں بعد میں امریکہ شامل ہو گیا کیونکہ روس افغانستان میں الجھا ہوا تھا اور
اس کی معیشت کو نقصان پہنچانا بہت آسان تھا۔ اس میں امریکہ نے پاکستان کو بخوبی استعمال کیا۔ افغان قوم اس جنگ میں پاکستان کی امداد' افغان مہاجرین کا پاکستان کی جانب انخلاء سب کچھ ہی بہت آسانی سے بھول گئی اور اس کا گلہ پاکستانی قوم کو بہت رہتا ہے لیکن ا صل بات تو یہ ہے کہ افغان قوم بہت آسانی سے یہ بھول گئی کہ اس جنگ میں وہ خود شامل ہوئے تھے ۔ روس سے ان کی دوستی اس زمانے کی تھی جب تاج برطانیہ کا سورج نہ ڈھلتا تھا اور روس دنیا کی دوسری بڑی طاقت تھا۔ دونوں ہی طاقتیں برصغیر پر قابض ہونا چاہتی تھیں۔ انہی کوششوں میں برطانیہ کو برصغیر بھی ملا اور امریکہ بھی۔ افغانستان بڑی آسانی سے اپنا ماضی بھول گیا اور پاکستان سے بے پناہ نفرت پال لی۔ یہاں تک کہ وہ جنگ جو افغانستان پراس کے دوست روس نے مسلط کی تھی اس کا الزام بھی پاکستان کے سر لگا پاکستان نے افغان مہاجرین کو پناہ دینے کے نتیجے میں اپنے معاشرے میں جوتبدیلیاں اور پریشانیاں دیکھیں ان کا ذکر کیا کرنا لیکن اس جنگ میں روس کی کمر ٹوٹ گئی طالبان کی حکومت نے آہستہ آہستہ قدم جمائے۔ اس حکومت سے پاکستان کے تعلقات تولامحالہ اچھے ہونے ہی تھے کیونکہ افغان قوم کو پاکستان نے ایک مسلمان ملک ہونے کی نسبت سے بھی سہارادیا تھا بہرحال یہ جنگ دو عالمی طاقتوں کی تھی طالبان کو کسی طور بھی گرا کر اس خطے میں قدم جمانا امریکہ کی حکمت عملی کا حصہ تھا اورجتنی دیر میں امریکہ نے روس کو شکست دی اتنی دیر میں چین کو ہوش آچکا تھا اور وہ اپنی معیشت پر سر جھکائے کام کر رہا تھا۔ چین کے بارے میں کسی نے کہا تھا ابھی مجھے نام یاد نہیں آرہا کہ چین کو سونے دو اگر یہ جاگ گیا تو مصیبت کھڑی ہوجائے گی۔ غالباً کوئی امریکی صدر ہی تھے بہرحال اب صورتحال یہی ہے ۔ امریکہ افغانستان
میں موجود رہنا چاہتا ہے لیکن اس طرح نہیں جس طرح گزشتہ انیس سالوں سے موجود ہے کیونکہ اس کی قیمت بہت زیادہ ہے ۔ افغانستان عالمی طاقتوں کا قبرستان ثابت ہوتا رہا ہے ۔امریکہ کی معیشت کی بھی ہاں کمر ٹوٹ گئی ہے لیکن اب افغانستان میں امریکہ دوست حکومت ہے ۔ پاکستان ہمیشہ ہی افغانستان میں ہوتی اس طاقت کی جنگ سے اپنا فاصلہ رکھنا چاہتا ہے ۔ پہلے پاکستان نے حکمت عملی سے اس معاملے کو لے کر چلنے کی کوشش کی تھی ۔ اب معاملہ سیدھا ہے پاکستان اس صورتحال میں نہ امریکہ کا ساتھ دینا چاہتا ہے اور نہ ہی روس کی کسی خواہش کی پتنگ کی ڈور پکڑنا چاہتا ہے ۔ پاکستان کی معیشت اور معاشرت دونوں پر ہی افغان جنگ کے زخموں کے نشان ہیں اسی لئے جب پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے امریکہ کو اڈوں کے لئے پاکستان کی زمین دینے سے انکار کیا تو پاکستانی قوم نے یک گو نہ اطمینان محسوس کیا۔ ہاں افغانستان کو اس صورتحال میں یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ روس نے بائیڈن حکومت اور امریکہ کو ان اڈوں کے لئے زمین کی پیش کش کی تھی جو امریکہ نے قبول نہیں کی تھی شاید اس لئے کہ روس امریکہ کے لئے قابل اعتبار بھی نہیں اور اب خاصا طاقتور بھی ہے ۔ لیکن یہ بات یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ افغانستان میں امریکہ کی دلچسپی اور مفادات کی جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی۔ پاکستان کے انکار کا غصہ بھی اپنی جگہ قائم ہے افغانستان میں حکومت بھی امریکہ دوست ہے اور افغانستان کا جھکائو ہمیشہ سے بھارت کی جانب ہے ۔ اس جھکائو میں بھارتی سرمایہ کاری کاکلیدی کردار ہے ۔ اب وہ گریٹ گیم جو آج بھی افغانستان میں جاری ہے جس کے کردار اور ان کی جگہیں ہی صرف بدلی ہیں۔ اس گریٹ گیم میں چھوٹی جھوٹی باتیں چھوٹے چھوٹے محرکات پیدا کئے جاتے ہیں۔ ان محرکات کو بنیاد بنا کر اقدامات کئے جاتے ہیں ۔ اقدامات کے شرر کو ہوا دی جاتی ہے اور آگ بھڑکھائی جاتی ہے ۔ پاکستان امریکی اڈوں کی زمین دینے سے انکار کرے تو بم دھماکے ' بھارتی موجودگی ' افغان سفیر کی بیٹی کے ساتھ بدتمیزی اور پھر افغان سفارتی عملے کا فوراً واپس بلایا جانا پاکستان کی جانب سے اس معاملے کی تحقیقات پرانکار تو نہ تھا۔۔۔ کہانی تو کچھ اور ہے اور کھیل بھی کچھ اور کہیں اور رچایا جارہا ہے۔