arif-bahar

سیاسی مہم میں مقابلہ بد زبانی

آزادکشمیرمیں انتخابی مہم آخری مراحل میں داخل ہو رہی ہے۔ جوں جوں انتخابی مہم میں تیزی آتی گئی ناخوش گوار واقعات میں بھی اضافہ ہوتا چلا گیا ۔خوش آئند بات یہ ہے کہ ابھی تک انتخابی مہم میں تشدد کا کوئی بڑا واقعہ نہیں ہوا اور مہم زبانی توتکار تک محدود ہے ۔پتھرائو وغیرہ کے واقعات تو ہو تے رہے مگر یہ انتخابی مہم میں معمول کی کارروائی ہے ۔آزادکشمیر کی ماضی کی سیاست اس سے زیادہ سخت واقعات اور اس سے سخت زبان اور طعنہ دشنام سے بھری پڑی ہے ۔ انتخابات میں کئی لاشیں گرنے اور کراس فائر کے درمیان کئی روز تک بے گوروکفن پڑے رہنے والے واقعات بھی ہوتے رہے ہیں ۔گزشتہ انتخابی مہم میں مسلم لیگ ن کے وزیر امور کشمیر برجیس طاہر نے پیپلزپارٹی کے وزیر اعظم چوہدری مجید کو انتخابی جلسے میں'' پہاڑی بکرا'' کا خطاب مرحمت فرمایا تھا۔نوے کی دہائی میںہی آزادکشمیر کے ایک بڑے سیاست دان نے وفاق کی طرف سے انتخابی مہم چلانے والی خاتون کوپہاڑی لوگ اور جھاڑیوں میں لے جانے جیسی خوفناک تنبیہہ کی تھی ۔ یہاں کئی علاقوں سے کے ایچ خورشیداور سردارابراہیم خان جیسے بڑے لیڈروں کی گاڑیوں کا شیشے بچا کر نکلنا کاردارد رہا ہے ۔ نوے کی دہائی میں انتخابی مہم چلانے والے ایک لمبی مونچھوں والے وفاقی وزیر کو آزادکشمیر میں مقامی سیاسی حریفوں کی طرف سے سندھ کا ڈاکا خطاب دیا گیا ۔علی امین گنڈا پور نے ایک ٹیلی فون کال میں پوچھے گئے سوال میں اپنی پارٹی کے ان کارکنوں کو دوٹکے کا قراردیاجو ان پر ٹکٹوں کی فروخت کا الزام لگا رہے تھے ۔اب ٹکٹوں سے محروم رہ جانے والے یہی زخم خوردہ کارکن اس اصطلاح کو پورے کشمیرکے بارے میں ریمارکس قرار دے کر کشیدگی کا ایک نیا ماحول پیدا کررہے ہیں ۔ باغ کا واقعہ جس میں ایک نوجوان نے وزیر امور کشمیر کے جلسے میں جوتا اچھا لا،بھی اسی سلسلے کی کڑی تھا۔آزادکشمیر کی ماضی کی سیاست راستہ روکنے جلائو گھیرائو اور سنگ باری سے عبارت رہی ہے ۔علی امین گنڈا پورماضی کے وزرائے امور کشمیر حیات ٹمن،قائم علی شاہ ، فیض علی چشتی ،قاسم شاہ،حنیف خان، جنرل مجید ملک ،آفتاب شیرپائو،افضل خان لالہ،قمرالزمان کائرہ،برجیس طاہر کا تسلسل ہیں۔آج کی انتخابی مہم میں کوئی انوکھا اور نیا کام نہیں ہورہا کئی حوالوں سے آج کی اصطلاحات میں تہذیب اور شائستگی کا عنصر ماضی سے زیادہ ہے۔شاید اس کی وجہ وڈیو کیمروں کی آمد اور حرکات وسکنات سے زبان وبیان تک سب کچھ ریکارڈکرنے کی صلاحیت ہے اور سوشل میڈیا کے ذریعے عام آدمی بھی اس ریکارڈ کو آگے پھیلانے اور سوال پوچھنے کا حق رکھتا ہے ۔ہمارے میعار اور پیمانے ہر کسی کے لئے ایک نہیں ہوتے ۔یہ لچک دار باٹ ہیں جن کی کارگزاری کا تعلق کسی اصول سے نہیں ترازو بردار ہاتھوں کی پسند وناپسند سے ہوتا ہے ۔اس وقت تک تینوں بڑی سیاسی جماعتوں نے شخصی اور ذاتی حملے کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ۔لیڈر کا لب ولہجہ کارکن اور معاشرے کا دہن اور ذہن بناتا ہے ۔لیڈر انٹ شنٹ بولے گا تو ماحول چارج ہوجائے گا ۔کشیدگی کی فضا بنے گی ۔لیڈر تحمل سے اپنی بات کرکے اپنا منشور پیش کرے گا تو اس کے مثبت اثرات ماحول اور معاشرے پر مرتب ہوں گے۔ دلچسپ بات یہ کہ محض جمہوری رسم کے طور پر ہی سہی اس بار سوائے جماعت اسلامی اور پی ٹی آئی کے مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی نے اپنا منشور بھی تحریر ی شکل میں عوام کے سامنے پیش کرنے کی زحمت گوارا نہیں کی۔ مریم نواز کوہالہ پل سے آزادکشمیر کی حدود میں داخل ہوئیں تو وہ عمران عمران کا منتر پڑھ رہی تھیں۔ چھ سات دن انہوںنے آزادکشمیر کے عوام کو انتخابی تقریر کے نام پر ''عمران نامہ '' سنایا اور جب وہ منگلا پل عبور کرکے آزادکشمیر کی حدود سے باہر نکل گئیں تو بھی ان کی زبان پر یہی منتر جاری تھا ۔وسطی پنجاب اور جی ٹی روڈ کے عوام کے لئے اس داستان غم میں کوئی کشش تو ہو سکتی ہے مگر آزادکشمیر کے شہری کو اس موقف سے قطعی سروکار نہیں ۔اس طرح کی جوشیلی تقریروں سے وقتی واہ واہ ہو گئی مگر پارٹیوں کے امیدواروں کو خاطر خواہ فائدہ نہیں ہوا۔ بلاول نے تو آزادکشمیر کی سرزمین پر پائوں رکھتے ہی آزادکشمیر کے عوام کو ''عمران سیریز '' سنانا شروع کردی تھی ۔ریاستی تشخص کے اس نعرے کی تشہیر غیر ریاستی جماعت اور پرچموں تلے ایک طرفہ تماشا ہی تھا ۔ریاستی سیاست صرف ریاستی جماعت کے بینر تلے ہو سکتی تھی اور اپنی ریاستی جماعت مسلم کانفرنس کو ایک عشرہ قبل خود ہی وہ توڑ پھوڑ کر مسلم لیگ ن کی صورت میں ایسی جماعت قائم کرچکے تھے جس کی قیادت اور فیصلہ سازی کا مرکز ومحورلاہو میں ہے ۔مریم اور بلاول کے جواب میں عمران خان نے کسی مہربان کا مشورہ مان کر جواب میں نوازشریف نامہ اور آصف زرداری نامہ تو نہیں سنایا اور اس سے علی امین گنڈا پور کے سٹائل سے پیدا ہونے والی تلخی کسی حد تک کم ہوئی ۔ایسا نہیں کہ آزادکشمیر کی انتخابی فضا میں سارا تکدر علی امین گنڈا پور کی تقریروں نے بھرا ہوا۔یہ پرانی روایات کا تسلسل ہے اوراس بار بھی مقابلۂ بدزبانی میںکوئی سیر رہا تو کوئی سوا سیر ۔