فوری فیصلے اور سخت حالات سے سمجھوتہ ناگزیر ہے

دنیا بھر میں کورونا وائرس سے گزشتہ روز ایک ہزار مزید افراد کا لقمہ اجل بننا دنیا بھر میں لاک ڈائون کی کیفیت اور خاص طور پر اشیاء میں نئی لہر کے خطرات اس امر کے متقاضی ہیں کہ کورونا وائرس کے پھیلائو اور خطرات کا ادراک کیا جائے اور اس حوالے سے مزید سخت اقدامات کئے جائیں۔ سندھ حکومت نے لاک ڈائون کر کے دیگر صوبوں اور وفاق پر دبائو بڑھا دیا ہے کہ وہ بھی اس قسم کے اقدامات کے ذریعے شہریوں کی نقل وحرکت کو محدود کرے۔اگرچہ وزیراعظم عمران خان نے ایک مرتبہ پھر لاک ڈائون کی تجویز سے اتفاق تو نہیں کیا لیکن فوج طلب کرنے سے اس امر کا عندیہ ملتا ہے کہ حکومت بغیر کسی ہنگامہ خیزی اور خوف وہراس کی فضا پیدا کئے بغیر بالحکمت وبتدریج لاک ڈائون کرنے جارہی ہے اور یہی مناسب طریقہ ہے کیونکہ اگر بغیر تیاری کے لاک ڈائون کا اعلان کیا جائے تو شاید اشیائے خوردنی کی دکانیں اس طرح سے اچانک خالی ہوجائیں کہ پھر حکومت کیلئے صورتحال کو سنبھالنا مشکل ہوجائے۔ خیبرپختونخوا میں جزوی لاک ڈائون اور بازاروں کی بندش کے باعث صورتحال بڑی حد تک بہتر نظر آتی ہے البتہ صوبہ بھر میں بین الاضلاعی ٹرانسپورٹ کی بندش کا توڑ گاڑیاں تبدیل کر کے نکالنے کا جو سلسلہ جاری ہے اس کے باعث یہ طریقہ کار محفوظ ہونے کی بجائے زیادہ خطرناک صورتحال کا پیش خیمہ بن سکتا ہے، اس سے تو بہتر تھا کہ ایک ہی گاڑی میں سفر کی اجازت دی جاتی اس کے پیش نظر بین الاضلاعی ٹرانسپورٹ کو اس طرح منقطع کیا جائے کہ کسی بھی ضلع کی سرحد پر گاڑیاں دستیاب نہ ہوں اس طرح کی صورتحال کے باعث پوری طرح لاک ڈائون کی ضرورت اور بڑھ گئی ہے اور مکمل لاک ڈائون کی تجویز وضرورت کا احساس بڑھ جاتا ہے۔ جہاں تک سندھ میں لاک ڈائون کے عمل کا تعلق ہے کراچی پورٹ ٹرسٹ اور کراچی سے سامان کی نقل وحمل اور آمدورفت کے تدارک کا مطلب پورے ملک میں تقریباً ساٹھ فیصد لاک ڈائون سمجھا جائے، سندھ میں لاک ڈائون کے اثرات سے دیگر صوبوں میں بھی جب لاک ڈائون کی کیفیت پیدا ہوگئی ہے تو دیگر صوبوں کو بھی اب اس نتیجے پر پہنچنے کی ضرورت ہے کہ وہ بھی لاک ڈائون کا فیصلہ کریں۔ وفاقی حکومت کے لاک ڈائون متحمل نہ ہونے کے کئی وجوہات ہوسکتی ہیں، آئینی طور پر صوبوں کے پاس یہ اختیار ہے کہ وہ صوبائی سطح پر لاک ڈائون کریں، وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو عوام کے ایک طبقے کی مشکلات کے پیش نظر لاک ڈائون سے احتراز اب انسانی جانیں بچانے اور لوگوں کو بھوک سے بچانے میں سے کسی ایک عمل کے اختیار کرنے کا ہے، حکومتیں مل کر کرونا وائرس کا تومقابلہ نہیں کر سکتی البتہ کفالت کی ذمہ دری نبھانے میں حکومتی وسائل کو بروئے کار لانے کیساتھ ساتھ عوام سے بھی بڑے پیمانے پر اس کا رخیر میں حصہ ڈالنے کی اپیل ہوسکتی ہے جس کے مئوثر ہونے اور عوام کا اس موقع پر تمام تراختلافات سے بالا تر ہو کر اپنے ہموطنوں کی دستگیری کے فریضے کی ادائیگی ماضی کے تجربات سے ثابت ہے ۔اس وقت بھی مخیر تنظیمیں جس طرح کی خدمات انجام دے رہی ہیں اور لوگوں کے گھروں تک راشن پہنچانے کی ذمہ داری نبھارہی ہیں اس قابل تحسین امر میں ہر شہری کو اپنا حصہ ڈالنا چاہئے، اس طرح کی قابل اعتماد تنظیموں نے جب بھی عوام سے تعاون کی اپیلیں کی ہیں عوام نے ان کے اعتماد کو کبھی ٹھیس نہیں پہنچائی ۔ہم سمجھتے ہیں کہ حکومتی اقدامات کے باعث لوگوں کے محدود ہونے کا عمل حوصلہ افزاء ہے صوبائی حکومت اگر مکمل لاک ڈائون کے فیصلے میں یکسو نہیں تو سندھ کی طرح پولیس کی مدد سے لوگوں کو اکٹھا ہونے سے روکنے کا طریقہ کار اپنائے ۔لوگوں کے اجتماعات کی اطلاع پر پولیس حرکت میں آئے، اس طرح کے اجتماعات کی اطلاع کیلئے ہر تھانے کی حدود میں اطلاع دینے کے مراکز قائم کر کے ان کے نمبر مشتہر کئے جائیں جب لوگوں کو پولیس کی آمد کا خوف دلایا جائیگا تو خود بخود اجتماع منعقد کرنے کی حوصلہ شکنی ہوگی۔ پشاور اور نوشہرہ میں لاک ڈائون کی خلاف ورزی اورتقریبات پر چھاپے وگرفتاریاں مئوثر حکمت عملی ہے جس کا دائرہ کار وسیع کر کے پانچ سے زائد افراد کے اکٹھے ہونے پر پابندی پر عمل درآمد کروانے تک لانے کی ضرورت ہے۔ لوگوں کے بغیر حفاظتی اقدامات اختیارکئے باہر نکلنے کو ممنوع قرار دیا جائے اور پولیس کو ہدایت کی جائے کہ وہ اس طرح کے لوگوں کو ضروری خریداری کیلئے مارکیٹ آنے سے روکے، میڈیکل سٹوروں اور جنرل سٹوروں میں ماسک کی فراہمی کیلئے سرکاری طور پر اقدامات کئے جائیں اور لوگوں کو کسی بھی قسم کے حفاظتی سامان کی عدم دستیابی کی صورت میں کم از کم رومال اور چادر سے منہ ڈھانپ کر بازار اور مسجد جانے کی ہدایت کی جائے اور ممکنہ حد تک خلاف ورزی کرنے والوں کو روکا جائے جب تک حکومت سختی کا برتائو نہ کرے اس امر کی کم ہی توقع ہے کہ لوگ رضا کارانہ طور پر حفاظتی اقدامات اختیار کریں گے۔ جن لوگوں کو حفظ ما تقدم عزیز نہیں کم از کم دوسرے لوگوں کی حفاظت اور بچائو کی خاطر ان سے بھی حفاظتی واحتیاطی تدابیر اختیار کرنے میں سختی برتی جائے اور اس سلسلے میں حکومت ممکنہ ذرائع کا سختی سے استعمال کرے تو مضائقہ نہ ہوگا جن ملکوں نے فوری اور سخت فیصلے کئے اور عوام نے سخت حالات سے سمجھوتہ کیا اس کے نتائج سب کے سامنے ہیں۔