اقتدار کے کھیل نہیں رکتے

وفاقی حکومت کی جانب سے میئر کراچی کو ایک ارب روپے کے ترقیاتی بجٹ کی ادائیگی کے اعلان کے بعد متحدہ قومی موومنٹ نے وفاقی کابینہ میں دوبارہ شمولیت کا اعلان کر دیا ہے، اس بار ایم کیو ایم کو ایک کے بجائے دو وزارتیں دینے کا فیصلہ ہوا ہے۔ملک میں جاری حالات میں مفاہمت کا ہر قدم احسن ٹھہرتا ہے لیکن ایم کیو ایم کی سودے بازی کے بعد واپسی کے سودے پر حالات پردہ ڈال دیں لیکن ان کے چہرے سے سودے بازی اور مزید فوائد سمیٹنے کا پردہ چاک ہو چکا ہے۔ ایم کیو ایم اگر وزارتوں کی تعداد میں اضافہ کی بجائے وسائل اورمسائل کے حل کے دعوے پر قائم رہتی اور اس بارے فارمولہ طے ہونے پر وفاقی کابینہ میں واپسی ہوتی تو اس کی گنجائش تھی ۔واضح رہے کہ رواں سال جنوری میں ایم کیو ایم کے رہنما خالد مقبول صدیقی نے حکمران جماعت کی جانب سے کراچی کو فنڈز نہ دئیے جانے کا جواز بنا کر وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے عہدے سے استعفیٰ دیتے ہوئے وفاقی کابینہ سے علیحدگی کا اعلان کیا تھا۔تحریک انصاف سے معاملات طے پانے کے بعد یہ بات سامنے آئی ہے کہ متحدہ کو وفاقی کابینہ میں اب دو وزارتیں دی جائیں گی۔اس حساب سے دیکھا جائے تو ایم کیو ایم مرکز میں اب تین وزارتوں کی حامل جماعت بن گئی ہے جس کے بعد دیگر اتحادیوں کی جانب سے اب مطالبات بڑھنے اور روٹھنے ومنانے کا ایک اور سلسلہ شروع ہونے کا امکان ہے جس کی اس وقت گنجائش نہیں۔سیاسی جماعتوں پر مفاد پرستی اور دبائو ڈال کر کام نکلوانے کا حربہ استعمال کرنے کا الزام بلاوجہ نہیں لگایا جا تا ایم کیو ایم اس حوالے سے ایک ماضی رکھتی ہے، اب کے بار بھی ایم کیو ایم نے اپنا ماضی دہرایا ہے جبکہ ان کے مطالبات کے آگے سر نگوں ہونے سے وفاقی حکومت کی کمزوری اور مجبوریوں کو سمجھنا مشکل نہیں۔ ملک میں یہ پہلی مرتبہ تو نہیں ہورہا ہے لیکن اس وقت کرونا وائرس کے باعث عوام جس طرح کی صورتحال کا شکار ہیں اقتدار کے اس کھیل کو اگر مئوخر کردیا جائے تو زیادہ بہتر ہوگا۔
قوم کا قابل فخر سپوت
ویسے تو کرونا وائرس سے متاثر ہوکرکئی افراد جاں بحق ہو چکے ہیں ان کی موت کا دکھ اور سوگ قومی سطح پر ہے لیکن کرونا وائرس سے لڑتے ہوئے گلگت بلتستان کے نوجوان ڈاکٹر کی موت سے خاص طور پر پوری قوم کا سوگوار ہونا اسلئے فطری امر ہے کہ نوجوان ڈاکٹر کرونا وائرس کے پھیلائو کے تدارک کی سعی میں متاثر ہوکر جاں بحق ہوئے، ان کی قربانی پوری قوم پر احسان کے مترادف ہے جس پر پوری قوم کا سوگوار ہونا اور ان کو خراج عقیدت پیش کرنا فطری امر ہے۔ گلگت بلتستان کی حکومت کی جانب سے شہید کو قومی ہیرو کا درجہ دیئے جانے کی تجویز ہے۔خیال رہے کہ ڈاکٹر اسامہ کے انتقال کے بعد ملک میں کورونا وائرس سے جاں بحق افراد کی تعداد5ہوگئی ہے۔جہاں ایک طرف ایک ایسا نوجوان ڈاکٹر جو سیپشلسٹ کے طور پر خدمات انجام دینے کی دہلیز پر تھے ان کے جاں بحق ہونے کے موقع پر ہمیں اس امر کا بھی جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ نوجوان ڈاکٹر کورونا وائرس کا شکار کیسے ہوگیا؟ کیا حکومت کی طرف سے طبی عملے کو حفاظتی لباس او روہ انتظامات جو محفوظ رہنے کیلئے ضروری اور لازم وملزوم ہیں، فراہم کئے گئے تھے۔ اولاًحکومت کے پاس اس صورتحال سے نمٹنے کیلئے طبی سازوسامان کی کمی ہے، ایسا لگتا ہے کہ اس کی تیاری ہماری منصوبہ بندی کا حصہ ہی نہ تھی۔ بغیر کسی حفاظتی لباس اور آلات کے ڈاکٹروں اور طبی عملے کا ہسپتالوں میں خدمات انجام دینا یقینا بہادری کا کام ہے جبکہ کرونا وائرس کے مریضوں کے علاج اور ان کی خدمات ومنتقلی کا کام کرنے والے حقیقی معنوں میں میدان جہاد میں ہیں جن کیلئے پوری قوم دعاگو ہے۔ نوجوان ڈاکٹر اسامہ ریاض ہمارے معاشرے کا وہ چہرہ ہے جو اپنے ملک وقوم اور اس نیت کی خدمت کیلئے اپنے فرض نبھانے کی مثال قائم کر گئے جنہیں مدتوں یاد رکھا جائے گا۔ مالک حقیقی سے پوری قوم کو ان کے درجات کی بلندی اور اہل خانہ کیلئے صبر جمیل کی دعا کیلئے سر بسجود ہونا چاہئے۔ پاکستانی قوم کو ڈاکٹر اسامہ پر فخر ہے اور بجا طور پر ڈاکٹر اسامہ ہر قسم کے بڑے سے بڑے اعزاز کے مستحق ہیں جو اعزاز ان کو آخرت میں ملنا ہے اس کی جھلک تو ان کو دکھا ہی دی گئی ہوگی ۔قوم کو اپنے سپوتوں پر فخر ہے اور قوم بجا طور پر توقع رکھتی ہے کہ ڈاکٹر اور شعبہ طب سے وابستہ تمام افراد اس قسم کے جذبے کا مظاہرہ کریں گے حکومت کو بھی ڈاکٹروں اور طبی عملے کے تحفظ میں اب مزید تساہل کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہئے اور تمام ممکنہ حفاظتی اقدامات اور آلات کی فراہمی کو بہر صورت یقینی بنانا چاہئے۔