1 564

ویکسی نیشن کتنی ضروری؟

کورونا وائرس نے جب دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیا تو وبا کے آغاز پر کہا جا رہا تھا کہ دنیا مل کر اس وبا کا سامنا کرے گی، ترقی یافتہ ممالک نے ترقی پذیر و غریب ممالک کو اس مشکل سے نکلنے کی یقین دہانی کرائی تھی اور اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم سے پسماندہ ممالک کو فنڈز فراہم کرنے کی بات کی گئی تھی، مگر ویکسین کی آمد کے ساتھ ہی عالمی یکجہتی کی باتیں دھری کی دھری رہ گئی ہیں، ترقی یافتہ ممالک پسماندہ ممالک کے ساتھ تعاون کے برعکس ان سے پیسے بٹورنے کی امید لگائے بیٹھے ہیں، مفت ویکسین فراہم کرنے کی بجائے انہیں مقروض بنا رہے ہیں تاکہ غریب ممالک قرضوں کی دلدل میں پھنس جائیں، عالمی سطح پر کی جانے والی اس حکمت عملی کا نقصان پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کو ہوا ہے جو امید لگائے بیٹھے تھے کہ امیر ممالک عالمی وبا سے نکلنے میں ان کی مدد کریں گے۔ اب جا کر عقدہ کھل رہا ہے کہ جو ممالک اپنے شہریوں کو ویکسین نہیں لگوائیں کیلئے ان کیلئے آنے والے وقت میں بے شمار مشکلات پیدا ہو جائی گی۔ جو لوگ ویکسین کو معمولی لے رہے ہیں انہیں خوب سمجھ لینا چاہئے کہ ویکسین کو باقاعدہ تجارت کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے، چین نے جن 72 ممالک کو خوراکیں دینے کا وعدہ کیا ہے ان میں سے 2 کو چھوڑ کر باقی وہ ممالک شامل ہیں جو بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کا حصہ ہیں۔ عالمی سطح پر انفرااسٹرکچر پر مشتمل اس منصوبے کا مقصد چینی اثر و رسوخ کو بڑھانا، سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا کرنا اور منصوبے میں شامل تمام ملکوں میں اقتصادی اور تجارتی تعاون کو مضبوط بنانا ہے۔روس بھی ویکسین کی جلد برآمد سے بھرپور فائدہ اٹھا رہا ہے۔ روس نے مشرقی یورپ اور بالکن کو ویکسین کی فراہمی یا اس کی مشترکہ طور پر پیداوار کی پیش کش بھی کر ڈالی اور یوں اپنی نرم طاقت کا پیغام بھی دے دیا، جس سے دنیا کی توجہ یورپی یونین کی ناکامیوں اور یورپی یونین کی توسیعی اور ہم سایہ پالیسیوں میں شامل ملکوں کی روسی مدد کی طرف مبذول ہوئی۔ویکسین کی عام فراہمی میں سب سے بڑی رکاوٹ محدود پیداواری صلاحیت ہے۔دنیا میں عام سطح پر ویکسین لگانے کے عمل سے متعلق ایک اور امید افزا بات یہ سامنے آئی ہے کہ جیسے جیسے پیداوار بڑھتی جائے گی ویسے ویسے ویکسین کی کمی اور ان کے مہنگے داموں کے مسائل بھی آئندہ ماہ میں کم ہوجائیں گے۔
پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جن ممالک میں کورونا ویکسین بہت محدود تعداد میں لگائی گئی ہے، حکومت اورعوامی سطح پر اس حوالے سے لاپرواہی برتی گئی ہے، جس قدر کورونا ویکسین کی ضرورت تھی حکومتی سطح پر اس کا بندوبست نہیں کیا گیا، جبکہ عوام نے ویکسین لگوانے میں عدم دلچسپی اور عدم تعاون کا مظاہرہ کیا ہے، یہی وجہ ہے کہ 22 کروڑ سے زائد آبادی میں سے محض ڈھائی کروڑ افراد کو ہی ویکسین لگائی جا سکی ہے، یہ تعداد بہت کم ہے، موجودہ حالات اور مستقبل میں ویکسین کے حصول میں آنے والی رکاوٹوں کے پیش نظر پاکستان کو ایک ایسی حکمت عملی اپنانی ہوگی جس کی مدد سے ویکسینیشن کے وسائل کو زیادہ سے زیادہ مؤثر بنایا جا سکے۔حکمت عملی میں وائرس کے پھیلاؤ سے جڑے تمام پہلوؤں کو ملحوظ خاطر رکھا جائے، جہاں شواہد واضح ہوں۔جولائی کے مہینے میں پاکستان میںویکسین لگانے کے عمل میں تیزی آئی ہے،اس کا اظہار این سی او سی کے سربراہ اسد عمر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے بیان میںکیا ہیکہ پیر کو پہلی بارملک میں ایک دن میں 6لاکھ سے زیادہ ویکسی نیشن کی گئی، ویکسی نیشن کی بڑھتی تعدادحوصلہ افزاہے لیکن اورتیزی ضروری ہے، سماجی، معاشی پابندیاں ختم کرنے کے لیے زیادہ ویکسی نیشن ضروری ہے، بیشترآبادی کی ویکسی نیشن تک پابندیاں ناگزیر ہیں،اسی طرح حکومت نے ویکسین نہ لگوانے والوں کے ساتھ سختی سے نمٹنے کا فیصلہ کیا ہے، این سی او سی کی ہدایت پر سول ایوی ایشن اتھارٹی نے اندرون ملک فضائی سفر کیلئے نیا ہدایت نامہ جاری کے دیا ہے جس کے مطابق اٹھارہ سال سے زائد عمر کے افراد ویکسی نیشن کے بغیر اندرون ملک سفر نہیں کرسکیں گے۔ سی اے اے کے مطابق پابندی کا اطلاق یکم اگست سے اندرون ملک پروازوں پر ہوگا، بیرون ملک سفر کرنے والے پابندی سے مستثنیٰ ہوں گے، ایسے مریض پابندی سے مستثنیٰ ہوں گے جنہیں ویکسی نیشن کے ری ایکشن کی وجہ سے ڈاکٹرز نے منع کیا ہو۔ سی اے اے کے مطابق غیرملکی شہری بھی پابندی سے مستثنیٰ ہوں گے ، ایسے پاکستانی جن کے پاس بیرون ملک ویکسی نیشن کی دستاویزات موجود ہوں، انہیں بھی پابندی سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔پاکستان نے اگرچہ قدرے تاخیر سے ویکیسن نہ لگوانے والوں کے ساتھ سخت برتنے کا فیصلہ کیا ہے لیکن یہ بہت ضروری ہے، اب اس سختی میں اس وقت تک کسی قسم کا لچک کا مظاہرہ نہیں کیا جانا چاہئے جب تک ویکسی نیشن کا عمل مکمل نہیں ہو جاتا۔