2 545

طالبان کی فتح کے کشمیر پر اثرات؟

جوں جوں افغانستان میں طالبان کے قدم کابل کی طرف بڑھ رہے ہیں اور حکومت کی گرفت کمزور ہوتی جا رہی ہے بھارتی ذرائع ابلاغ میں یہ بحث زور پکڑ رہی ہے کہ سقوط کابل کے کشمیر پر کیا اثرات مرتب ہوں گے؟۔اس سوال کا جواب ماضی کے آئینے میں تلاش کیا جا رہا ہے جب سوویت افواج کے انخلا کے بعد مجاہدین نے افغانستان کا زیادہ علاقہ کنٹرول میں لیا تھا اور افغانستان سے فارغ ہونے والے عسکریوں نے چیچنیا اور کشمیر کا رخ کیا تھا۔اس بار بھی امریکی فوجیں اسی سٹائل میں افغانستان میں کسی تصفیہ اور مستقبل کا نقشہ بنائے بغیر رخصت ہو چکی ہیں اور طالبان ماضی کے مجاہدین کی طرح تیز رفتار پیش قدمی کر رہے ہیں اور ایک بار پھر بھارت کو پرانا سوال اور پرانا روگ کھائے جا رہا ہے۔بھارت میں اس بات پر اتفاق پایا جاتا ہے کہ طالبان کی حتمی فتح کے کشمیر پر اثرات مرتب ہوں گے ۔ان اثرات کو کم کرنے کے لئے آخری تدبیر یہی ہے کہ دم توڑتی ہوئی افغان حکومت کو آکسیجن ٹینٹ فراہم کیا جائے تاکہ وہ طالبان کو شکست دینے کی پوزیشن میں نہ آئے مگر خانہ جنگی جاری رکھنے کی سکت ضرور رکھے ۔افغانستان میں خانہ جنگی کا ماحول بنائے رکھنے کے پیچھے یہی خوف ہے کہ امن کی صورت میں اس محاذ سے فارغ ہونے والے عسکری کشمیر کا رخ کر سکتے ہیں ۔بھارت کے ایک دفاعی تجزیہ نگار پراوین سوانی نے کہا ہے کہ بھارت کو بدلی ہوئی صورت حال میں چین ،پاکستان اور طالبان کے مشترکہ محاذ کا سامنا کر نا پڑ سکتا ہے۔سوانی کا کہنا تھا کہ وہ سقوط کابل کے کشمیر میں یقینی اثرات دیکھ رہے ہیں۔ایک طرف بھارت کے فوجی حکام یہ تسلیم کر رہے ہیں کہ حالیہ سیز فائر معاہدے کے بعد کشمیر میں حالات بہتر ہوئے ہیں اور وادی کے اندربھی مسلح تصادم کے واقعات کم ہو گئے ہیں دوسری طرف وہ افغانستان میں طالبان کی فتوحات کو کشمیر کے حوالے سے ایک نئے اور اعصاب شکن خطرے کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔اسی خطرے کوکم کرنے کے لئے بھارت نے دوجہتی حکمت عملی اپنائی تھی ایک طرف فوری طور پر طالبان سے دوحہ میں ملاقاتوں کے لئے سرتوڑ کوششیں کیں جو کامیاب نہیں ہو سکیں دوسری طرف کشمیر میں پانچ اگست کے بعد پیدا ہونے والے سیاسی خلاء کو پر کرنے کے لئے بھارت نواز سیاسی قیادت کے ساتھ نریندر مودی کے ساتھ ملاقات کا اہتمام کیا ۔جس کا مقصد یہ تاثر دینا تھا کہ کشمیر میں سیاست اور طاقت کا کوئی خلا نہیں بلکہ بھارت بہت جلد کشمیرمیں کشمیریوں کی اپنی حکومت قائم کرنے جا رہا ہے۔ پانچ اگست سے اب تک دوسال ہونے کو ہیں بھارت جموں وکشمیر کو یونین ٹیرٹری قرار دے کر تمام معاملات لیفٹیننٹ گورنر کے ذریعے چلا رہا ہے ۔
کشمیری سیاست دانوں سے یہ ملاقات بھی کچھ زیادہ نتیجہ خیز نہیں رہی کیونکہ دونوں فریقوں کے پاس ایک دوسرے کو دینے کے لئے کچھ نہیں تھا ۔نریندر مودی نے کشمیریوں کو پانچ اگست کا فیصلہ واپس لینے کا یقین دلایا اور معاملے کے عدالتی ہونے کا عذر ِلنگ اپنالیا جبکہ مقبوضہ جموں وکشمیر کی سیاسی قیادت تو سرے سے خالی ہاتھ تھی جو اپنی داستان سنا کر تھکے تھکے قدموں اور جھکی جھکی نگاہوں سے واپس لوٹ آئے ۔محبوبہ مفتی سے فاروق عبداللہ اور جموں کے بھیم سنگھ سے بھارتیہ جنتا پارٹی کے رویندر رینا تک ہر شخص نے اپنی ہی کہانی باہر بیان کی ۔کشمیری سیاست دانوں سے یہ ملاقات عین اس وقت ہوئی تھی جب بھارتی حکومت دوحہ میں طالبان نمائندوں کے ساتھ سلسلۂ جنبانی کی سرتوڑ کوششیں کر
رہی تھیں اور دوبار بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر دوحہ میں موجود پائے گئے تھے۔طالبان سے بات چیت اور کشمیر سے نظریں ملانے سے گریز کے طعنے سے بچنے کے لئے بھارت نے یہ دونوں کام بیک وقت کرنے کی کوشش کی تھی مگر یوں لگتا ہے دونوں کا کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا۔طالبان بار بار یقین دہانیاں کر ارہے ہیں کہ وہ اپنی سرزمین کسی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے ۔یہ صرف پاکستان کے لئے ہی نہیں بھارت کے لئے بھی سندیسہ ہوتا ہے مگر بھارت چونکہ کشمیر کوادھیڑ بیٹھا ہے اور یہ صورت حال سنبھلنے کی کوئی صورت اور طریقہ نظر نہیں آتا اس لئے کابل کے حالات کا عکس کشمیر میں دکھائی دینے کا ایک خوف لاشعورمیں موجود ہے۔بھارتی کی ایک سکالر اکنکشا نرائن نے اس صورت حال کا تجزیہ یوں کیا ہے کہ افغانستا ن کی صورت حال پھر اسی مقام کی طرف جا رہی ہے جب سوویت افواج کا انخلاہو اتھا اور وہاں سے فارغ ہونے والے عسکری کشمیر سے چیچنیا اور مشرق وسطیٰ تک پھیل گئے تھے ۔اس لئے بھارت کے دروازے پر دوبارہ پرانا خطرہ نئے انداز سے دستک دے رہا ہے۔ایک اور تجزیہ نگار راہول بیدی کا کہنا ہے کہ گوکہ حالات اب نوئے کی دہائی سے بدل چکے ہیں اس وقت کشمیر میں عسکریت کا سیلاب اچانک تھا بھارتی فوج اور کشمیر پولیس کے پاس اس صورت حال سے نمٹنے کا تجربہ نہیں تھا مگر تین عشرے تک عسکریت کے مقابلے نے بھارتی فوج اور پولیس کو تجربہ کار بنا دیا ہے۔ بیدی کے مطابق کنٹرول لائن پر سیز فائر کے باوجود پاکستان نے کشمیر میں اپنے عزائم اور ارادے ترک نہیں کئے ۔ایسے میں طالبان پاکستان کی طاقت میں اضافے کا عنصر ہیںاگر، لیکن اور کب ؟کے سوالوں کی اس حقیقت کے سامنے کوئی اہمیت نہیں۔یہ وہ خوف ہے جو بھارت کو افغانستان کو ایک دلدل بنائے رکھنے پر مجبور کر رہا ہے ۔افغان سیاسی حکومت اپنی اتھارٹی بحال کرنے کے نام پر اس دلدل کو مزید گہرا اور وسیع کر رہی ہے۔