3 445

ہے سخت مضر یہ نسخہ

اب ہماری سیاست کا مزاج بدلنا چاہیے ‘ آخر کب تک ہم سیاست دانوں کو گلی محلے کی ان پڑھ عورتوں کی طرح لڑتے دیکھتے رہیں گے ۔آخر کب تک بدزبانی اور بدکلامی کا زہر ہماری سماعتوں میں گھولا جاتا رہے گا۔ کب تک اپنے اپنے حصے کے جھوٹ چھاتی ٹھونک کر اس اعتماد سے بولے جاتے رہیں گے ‘گویا کوئی ان کی باتوں کی حقیقت سے واقف ہی نہیں’ کوئی سمجھتا ہی نہیں کہ مسلسل جھوٹ بولا جاتا ہے ۔ایسی بات بالکل بھی نہیں ۔ہم جانتے ہیں ‘سب سمجھتے ہیں ۔ہم نااہل نہیں بدعنوان ہیں ،ہم جھوٹ پسند کرتے ہیں لیکن اس کا قطعی یہ مطلب نہیں کہ ہمیں یہ پتا ہی نہیں چلتا کہ کب کوئی کس حد تک جھوٹ بول رہا ہے ۔سیاست دان جھوٹ بولتے ہیں’ ہمارے ساتھ مکروفریب کرتے ہیں ‘ہمیں دھوکہ دینے کی کوشش کرتے ہیں ‘ہم سب جانتے ہیں ۔ہم اپنے گھروں میں ان کی باتوں پر قہقہے لگاتے ہیں ۔ ہم یہ ذکران سے نہیں کرتے کیونکہ ہم خود بھی دھوکہ دیتے ہیں ۔ اس لیے ان کی باتوں پر ہم اعتراض نہیں کرتے ۔ جب مسلم لیگ ن ملک میں عورتوں کے خلاف ہونے والے جرائم کی وجہ عمران خان اور ان کی جماعت کو بتاتے ہیں تو یہ نہیں کہ ہم ان کے جھوٹ کو سچ سمجھنے لگتے ہیں ۔یہ نہیں کہ ہمیں زینب بھول جاتی ہے’جنت بھول جاتی ہے ‘اوکاڑہ ‘قصور میں بچوں کے خلاف ہوئے جرائم بھول جاتے ہیں۔ ایک مشہور صحافی کابلیک نیٹ پر بچوں کے حوالے سے نامناسب ویڈیوز کی وہ پوری کہانی بھول جاتے ہیں اور ساتھ یہ بھی کہ انہیں کیسے خاموش کروا دیا گیا تھا ۔لوگوں کو وہ سرگوشیاں بھی یاد ہیں جو مسلم لیگ (ن)سے وابستہ کسی سیاست دان کے حوالے سے ہوتی رہیں کہ اس سارے گھنائونے پن کو ان کی پشت پناہی حاصل ہے ‘کوئی نہیں بھولتا ۔ بس لوگ بولتے نہیں ۔وہ بولتے نہیں کیونکہ وہ ڈرپوک ہیں ،بزدل ہیں۔ اور انہیں صرف اپنے مفادات عزیز ہیں ۔وہ خود بھی مجرم ہیں ۔ اس معاشرے کے سدھار میں انہیں کوئی دلچسپی نہیں کیونکہ وہ اس سدھار کے اس وقت متحمل نہیں ہوسکتے جب یہ ان کے دروازوں پر دستک دینے لگے’ ان کے صحنوں میں چھاتی ٹھونک کرآ کھڑا ہو ۔یہ سدھار دوسروں تک رہے اس کے خواہشمند تو وہ رہتے ہیں لیکن پھر جاتے ہیں کہ بات یہاں تک ہی کہاں موقوف ہوگی ‘سو وہ کچھ کہتے ہی نہیں ۔یہ درست ہے کہ ہمارے معاشرے میں عورتوں کے خلاف جرم بہت بڑھ رہا ہے ۔لیکن اس جرم کی جڑ آج میں نہیں۔اس جرم کی جڑونی میں ہے ‘کاری کئے جانے میں بھی ہے ۔جائیداد کے لیے قرآن کے ساتھ شادی میں بھی ہے ۔یہ جرم صرف لباس بدلتا ہے ،نام بدلتا ہے’ یہ جرم ازل سے ہے اور ابدتک شاید رہے گا ‘کیونکہ یہ جرم طاقتور کا کمزور پر ظلم ڈھانے سے وابستہ ہے۔ یہ جرم معاشرے کی گھٹن یا بے راہ روی سے فرار کا جرم ہے اور اس کا نشانہ اس لیے عورتیں اور بچے بنتے ہیں کیونکہ وہ کمزور ہیں ۔ اس جرم کا نہ عمران خان اور موجودہ حکومت سے کوئی تعلق ہے ‘نہ نواز شریف اور ان کے دور حکومت سے کوئی تعلق تھا۔ فرق صرف اتنا تھا کہ کسی بھی دور حکومت میں اس کا سد باب کرنے کے لئے کیا اقدامات کئے گئے ۔اگرچہ عمران خان اور موجود حکومت کے اقدام کو میں درست نہیں سمجھتی’ لیکن چلئے کسی نے سزا کی بات تو کی۔ اس جانب توجہ تو دی ،گزشتہ ادوار میں کیا ہوا ۔مسلم لیگ ،پیپلزپارٹی نے کبھی بھی اس حوالے سے کیا اقدامات کئے ۔پیپلز پارٹی کے دور میں عورتوں کے تحفظ کا ایک بل پاس ہوا لیکن مسلم لیگ کے پاس ایسا کچھ بھی کرنے کی فرصت ہی نہ تھی۔
اور اب یہ ایک نیا جرم ہے جسے روکنے کے لیے ہم کچھ نہیں کررہے ۔سیاست دان مسلسل ایک دوسرے کے حوالے سے فضول قسم کی باتیں کرتے ہیں ۔بے ہودہ الفاظ استعمال کئے جاتے ہیں ۔نہ کسی بڑے چھوٹے کا لحاظ باقی رہا ہے ‘نہ کسی خاتون کا احترام برقرار ہے ۔اور نہ ہی عورتوں نے اپنی زبان پر اپنے صنف نازک ہونے کی قدغن باقی رہنے دی ہے۔ ایک طوفان بدتمیزی ہے جو مسلسل بپا ہے اور کسی کو اس میں کوئی شرم کوئی جھجھک نہیں۔ آخر ہم کیا کرنا چاہتے ہیں ۔سیاست دان اس ملک وقوم کو کیا پیغام دینا چاہتے ہیں ۔یہ کون سی آزادی اظہار رائے ہے جو اخلاقیات کے کسی دائر ے کو اثر نہیں پکڑنے دیتی اور کسی حدکو واجب نہیں ہونے دیتی ۔سیاست دان جن باتوں میں الزام تراشیوں میں اور لغو باتوں میں الجھے ہوئے ہیں اس سب کا کیا فائدہ ہے ۔ ہم ایک مشکل دور سے گزر رہے ہیں ۔پاکستان کو مسلسل دشمنوں کا سامنا ہے ۔امریکہ بپھرا بیٹھا ہے ۔بھارت اور اسرائیل کسی نہ کسی طور پاکستان کو زک پہنچانے کی کوششوں میں لگے ہیں ۔اس وقت تو پاکستان کے اندر تما م تر سیاسی جماعتوں کو مجتمع ہونا چاہئے کہ ابھی ہماری ذاتی پسند نا پسند سے زیادہ اہم ہمارا ملک ہے ‘ جسے ہمار ی ضرورت ہے ۔ اس وقت پاکستان چاروں طرف سے دشمنوں میں گھرا ہوا ہے ۔امریکہ کے سامنے پاکستان نے نہ صرف ایک مناسب حکمت عملی اختیار کی ہے بلکہ اپنی انفرادی سوچ اور ترجیحات کو بھی ظاہر کیا ہے ۔اس وقت سب ایک ہو جاتے ۔حکومت وقت کے حوالے سے فضول باتیں کرنے کے بجائے ان کی مدد کرتے ۔ اور حکومت بھی خصوصاً عمران خان صاحب اپنے ساتھیوں کو یاوہ گوئی سے منع کرتے ۔ حکومت قوم کا مزاج بناتی ہے ۔اگر موجودہ حکومت عوام کی ایسی تربیت کرنا چاہتی ہے کہ وہ اپنی بات چیت میں کسی کا لحاظ نہ کریں تو یہ ایک انتہائی نامناسب صورتحال ہے ۔ اور جہاں تک سیاسی جماعتوں کے باہمی تعلقات کا سوال ہے تو بقول اکبر الہ آبادی
وہ لطف اب ہندو مسلماں میں کہاں
اغیار ان پر گزرتے ہیں اب خندہ کناں
جھگڑا کبھی گائے کا زباں کی کبھی بحث
ہے سخت مضر یہ نسخۂ گاؤ و زباں
یہ وقت ذرا ہٹ کر اپنے معاملات پر نظر ثانی کرنے کا ہے کیونکہ سیاست تو تب باقی رہے گی جب ملک ہوگا۔ اور اگر اغیار یونہی ہمارے حالات پر خندہ کناں رہے اور ہمیں سمجھ نہ آئی تو اس ملک کو بہت نقصان پہنچ سکتا ہے ۔