4 427

افغانستان میں نئی جنگ !

امریکا ہار گیا، اسے ہارنا ہی تھا۔ امریکا باز نہ آئے گا۔ متکبر طاقتیں ملیامیٹ ہونے سے پہلے کہاں باز آتی ہیں، امریکا بھی نہ آئے گا۔ افغانستان میں ایک نئی جنگ کا آغاز ہوگیا۔ طالبان ظفریاب ہوئے۔کابل اُن کے انتظار میں ہے ،مگر انہیں جلدی نہیں۔ عجلت میں اشرف غنی ہے۔آنکھوں کے آگے کیلنڈر رکھتے ہیں، ہاتھ پہ گھڑی باندھتے ہیں۔ ان کے آقا بھی جنہیں دنیا کی سب سے بڑی طاقت ہونے کے زعم سمیت افغان سرزمین پر نشانِ عبرت بنادیا گیا۔ یہ طالبان ہیں، مردانِ کہستان! امریکا کی اس مچلتی، پھیکی آرزو کو کیسے پورا ہونے دیںگے؟امریکا ایک دہائی قبل جان چکا تھا،افغانستان میں شکست اس کا مقدر ہے۔ تب امریکا کے طاقت ور اداروں کی راہداریوں میں ایک اصطلاح کی گونج سنائی دینے لگی۔ فتح نہیں تو فتح کا مغالطہ ! انگریزی میں جسے ”semblance of success” کہا گیا۔ امریکی فکری مراکز (تھنک ٹینک) اس پر سرکھپاتے تھے۔ ڈونلڈ ٹرمپ بعد میں طلوع ہوئے ، اباما انتظامیہ 2010ء میں ہی اس پر غور کرنے لگی تھی کہ افغانستان میں کامیابی کی تعریف کیا متعین کی جائے؟ تمام امریکی سربرآوردگان ناکام ہوئے۔ پھر فتح کا مغالطہ تخلیق کرنے کی مہم شروع ہوتی ہے۔ تب بھارت کے انگریزی اخبارات بھی چیخنے لگے کہ افغانستان میں فاتح بھی دو ہوں گے اور شکستہ بھی دو ممالک۔جون 2010 ء میں ”دی ہندو” چیخ رہا تھا کہ فاتح طالبان اور پاکستان ہوں گے۔ شکست خوردہ ممالک میں امریکا اور بھارت! جو بات نظر انداز کی جارہی ہے، وہ یہ کہ یہ دونوں ممالک اب بھی باز نہ آئیں گے۔
آشکار ہے کہ افغانستان میں ایک نئی ہائبرڈ جنگ مسلط کی جارہی ہے۔ اس کی پولی پولی ڈھولکی پاکستان کی سرزمین پر سنائی دے رہی ہے۔ افغان سفیر کی بیٹی کے ساتھ جو کچھ ہوا، اور اس واقعے کی بنیاد پر جو کچھ کیا جارہا ہے، وہ اس ہائبرڈ جنگ کے دھیمے سروں کی ہی چھیڑ چھاڑ ہے۔ اس سے قبل داسو ڈیم کی تعمیر میں شریک چینی انجینئرز کی گاڑی پر حملہ بھی اسی جہت سے مرضی کے مطابق حالات کو ترتیب دینے کی ایک مہم جوئی محسوس ہوتی ہے۔ مگر ٹھہریے! میدان جنگ تو ابھی بھی افغانستان ہے، وہاں کیا ہورہا ہے؟برطانوی اخبار ڈیلی ٹیلیگراف نے رواں ماہ کے آغاز میں ایک پھلجڑی چھوڑی کہ” برطانیہ افغانستان میں افغان فورسز کی تربیت کے لیے اپنی ایک ایلیٹ اسپیشل فورس کی تعیناتی پر غور کررہا ہے”۔ اس سے ذرا قبل امریکا نے یہ اعلان کیا تھا کہ وہ محدود تعداد میں اپنی فورسز کو افغانستان میں اپنے سفارتی مشن کے تحفظ کی خاطر ٹھہرائے گا۔ تاہم نیو یارک ٹائمز نے ڈیلی ٹیلی گراف کے ساتھ یہ اطلاع دی کہ امریکا نے فوجی انخلاء مکمل ہونے کے باوجود افغانستان میں متعین اپنے اعلیٰ امریکی کمانڈر جنرل آسٹن ایس ملر کو مزید کچھ وقت کے لیے وہاں تعینات رکھنے کی منظوری دی ہے۔ ان خبروں کے ٹیڑھ پن سے واضح ہے کہ امریکا افغانستان میں اْس روسی نمونے (ماڈل) کی پیروی کرنا چاہتا ہے جو اسد حکومت کو برقرار رکھنے کے لیے شام میں اختیارکیا گیا۔ روس نے شام میں ایک ہائبرڈ جنگ مسلط کررکھی ہے۔روس کی اس میں بظاہر کامیابی امریکا کو للچاتی ہے۔ یہاں ہم سمجھ سکتے ہیں کہ جنرل آسٹن کو افغانستان میں مزید کچھ عرصے کے لیے کیوں ٹھہرایا جارہا ہے۔ دراصل وہ طالبان کے خلاف امریکی فوجی مشن کی ہائبرڈ جنگ میں منتقلی کے عمل میں معاونت کریں گے۔گویا کھیل ابھی جاری ہے۔اس سے بڑھ کر امریکا خطے میں اپنی صلاحیتوں کو مزید وسعت دے رہا ہے، یہاں تک کہ اپنے فوجی اثاثوں کی بھی تنظیمِ نوکررہا ہے۔اس کھیل کے خطرناک مرحلے میں وزیراعظم پاکستان کا اچانک دورہ ازبکستان بھی آتا ہے۔ یہ کوئی خطے کے ممالک کی سفارتی کوشش نہیں تھی۔ بلکہ یہ دورہ بھی اسی امریکی ہائبرڈ جنگ کا حصہ تھا۔ وزیراعظم عمران خان کے ”not absolutely” کا اپنا ایک مزہ ضرور ہے۔ مگر پاکستان کی اپنی ایک تاریخ اور حکمرانوں کی امریکا کے آگے سجدہ ریزی کی ایک نہایت مکروہ روایت بھی ہے۔ فوجی حکمران اور سربراہان بھی اس باب میں کچھ مختلف ثابت نہیں ہوئے۔ یہ پوری سیاسی اور عسکری اشرافیہ کسی دورکی ہو،کبھی بھی دھوکا دے سکتی ہے۔ بدقسمتی سے وزیراعظم عمران خان کے دورہ ازبکستان سے ذرا پہلے ازبکستان اور تاجکستان کے وزرائے خارجہ واشنگٹن میں ”مشاورت” کے لیے ” مدعو” تھے۔ یہ” مشاورتی عمل” افغانستان میں طالبان کے خلاف ایک متبادل (بیک اپ) منصوبے کا حصہ تھا۔ امریکا ان دونوں ممالک میں اپنی کچھ افواج کے ساتھ موجود رہنا چاہتا ہے۔ اشارے یہ ہیں کہ ازبکستان تقریباً قائل ہو چکا ہے۔ اگرایسا ہوتا ہے تو اس کا واضح مطلب ہے کہ واشنگٹن وسط ایشیائی ممالک میں مناسب عسکری سہولیات کے ساتھ اڈے اور اپنی پہلے درجے کی فوج کو ڈرون، بمبار طیاروں اور انٹیلی جنس اثاثوں کو ہروقت فعال حالت میں رکھنے میں کامیاب ہوجائے گا۔ یہ سب کچھ طالبان کے خلاف ہوگا یا پھر ان کے خلاف لڑنے کے نام پر ہوگا۔ آپ خطرے کی گھنٹی سن سکتے ہیں۔ اس کھیل میں وزیراعظم عمران خان اپنے ”not absolutely” کے ساتھ ازبکستان کیا کرنے گئے تھے؟ اس کا جواب کچھ زیادہ مشکل نہیں۔ عمران خان کی شکل میں ملک کے اندر جو بھی بندوبست موجود ہے، وہ اپنے دعووں اور وعدوں کے بالکل برعکس اقدامات کرنے کی لامحدود صلاحیت رکھنے کے حوالے سے مشہور یا پھر بدنام ہے۔ مزید کچھ کہنے کی ضرورت نہیں۔