p613 391

ویکسی نیشن کا عمل خطرے میں

خیبرپختونخوا میں جہاں ایک جانب کورونا ویکسین لگانے کے عمل کی سست روی کا سرکاری طورپراعتراف کرکے اسے تیزکرنے کی ہدایت کر دی ہے وہاں یہ بھی المیہ سے کم نہیں کہ بیرون ملک جانے کے خواہشمند افراد کو مسلسل مشکلات کا سامنا ہے ہمارے نمائندے کے مطابق خیبر پختونخوا کے بیشتراضلاع میں کورونا سے بچائو کیلئے فائزر اور موڈرنا ویکسین کا سٹاک ختم ہونے کے نتیجے میں بیرون ممالک جانے والے افراد ایک مرتبہ پھر سے پھنس گئے ہیں جس کی وجہ سے بیرونی ممالک جانے والے ہزاروں افراد کے ویزے متاثر ہونے کا خدشہ ہے واضح رہے کہ یورپی ممالک ، سعودی عرب اور متحدہ امارات میں پاکستان میں لگائی جانے والی ویکسین قابل قبول نہ ہونے کی وجہ سے صوبہ کے مختلف اضلاع میں لوگوں کو مشکلات کا سامنا تھا جس کے حل کیلئے مذکورہ ممالک میں رجسٹرڈ موڈرنا اور فائزر ویکسین کا سٹاک صوبے کو دیا گیا تھا لیکن کئی ہسپتالوں میں اس ویکسین کا سٹاک ختم ہونے کی شکایات ہیں اور ویکسین دستیاب نہیںجس قسم کی صورتحال درپیش ہے ایسے میں ویکسین لگانے کے عمل کی تکمیل کا کوئی امکان نہیں اور نہ ہی جھجھک کا شکار عوام کوویکسین لگانے پر قائل کیا جا سکے گا۔ ویکسین لگانے کے عمل میں سست روی کی بڑی وجہ عملے کی عوامی مقامات پر ڈیوٹی لگانے کی بجائے دفتروں میں بٹھا کرلوگوں کے آمد کا انتظار ہے جولوگ ویکسین کی اہمیت سے واقف ہیں اور جو ویکسی نیشن کے خواہاں تھے انہوں نے ویکسی نیشن کرالی اب وہ لوگ باقی رہ گئے ہیں جس کو حکومت کی جانب سے مختلف پابندیوں کے دھمکیوں کی بھی پرواہ نہیں اس طرح کے لوگوں تک ٹیموں کو خود پہنچنا ہوگا جہاں تک بیرون ملک جانے والوں کی پریشانی کا تعلق ہے تمام تر حکومتی دعوئوں کے باوجود ان کو مطلوبہ ویکسین کی فراہمی میں ناکامی حکومت کے لئے لمحہ فکریہ ہے مزید تاخیر کے بغیر ان کے لئے ویکسین کا بندوبست کیا جائے ۔
سیدوشریف ایئرپورٹ کی ایک مرتبہ پھر بندش
سیدوشریف ایئرپورٹ کھولتے وقت بتایا گیا تھا کہ اس سے سیاحت کو ترقی ملے گی اور سوات کے عوام کوبالخصوص کاروباری طبقے کو آمدورفت کی بہتر سہولت میسر آئے گی سیدو شریف ائیر پورٹ پر فلائٹ آپریشن پھر بند کردیا گیا ہے۔ اس سے پہلے 17سال بعد موجودہ حکومت نے 26مارچ2021ء کو سیدو شریف ائیر پورٹ پر فلائٹ آپریشن کا آغاز کیا تھا۔ ہفتے میں دو فلائٹس سیدو شریف، اسلام آباد، لاہوراور لاہور، اسلام آباد، سیدو شریف شروع کی گئی تھیںایئرپورٹ کی بندش کی کوئی وجوہات نہیں بتائی گئیں وجوہات سے عوام کو آگاہ کیا جاتا تو اس فیصلے کی توجیہ ممکن تھی سالوں بعد سوات ایئرپورٹ کو کھولنے کے کچھ عرصہ بعد بند کیوں کیا گیا اگر مسافروں کی تعداد کم تھی یا کوئی او وجہ تھی تو بندش کے وقت اس سے آگاہی دی جانی چاہئے تھی۔اس وقت جبکہ سیاحت عین عروج پر ہے اور سیاحوں کی بہت بڑی تعداد سوات اور ملحقہ علاقوں کا رخ کر رہی ہے ایئر پورٹ کی بندش سمجھ سے بالاتر امر ہے حکام کم از کم عوام کو اس قابل تو سمجھیں کہ ان کو آگاہ کیا جائے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا بندش کے بعد ہونے والی پہلی فلائٹ سے سوات گئے تھے ان کو چاہئے کہ وہ اس ضمن میں وزارت دفاع اور پی آئی اے کے حکام سے رابطہ کریں اور پروازوں کی بحالی میں اپنا کردار ادا کریں۔
متاثرہ خاتون کو انصاف فراہم کیا جائے
تھا نہ ڈیر ہ ٹائون کی حدود میں واقع گائوں رکنائو میں چھ جو لائی2021ء کو دن دیہاڑے گلی میں سر عام میں خاتون کو مبینہ طور پر زدو کوب کر کے اس کو بر ہنہ کرنے کا واقعہ آج بیس روز بعد سوشل میڈیا کی زینت بن چکا ہے۔ اس واقعہ کے سلسلہ میں میڈیا رپورٹس اور دیگر مقامی ذرائع سے متضا د بیانا ت اور خبریں منظر عام پر آئی ہیںاگرچہ اس واقع کے ایف آئی آر میں اس کا تذکرہ نہیں لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پولیس نے متاثر خاتون اور ان کے خاندان کوتحفظ دینے اور حقائق بیان کرنے کی حوصلہ افزائی نہیں کی او رنہ ہی غیر جانبدارانہ تفتیش کے ذریعے اصل صورتحال سے آگاہی حاصل کرکے قانون کے مطابق کارروائی کی ذمہ داری پوری کی ایک مرتبہ پھر اس مسئلے کے ایشو بننے کا وزیر اعلیٰ ‘ وزیر قانون اورآئی جی کو نوٹس لیکر واقعے کی ازسر نو تحقیقات اور متاثرہ خاندان کوا نصاف کی فراہمی کی ذمہ داری نبھانی چاہئے اور ملزموں کے خلاف آزادانہ تحقیقات کے بعد سامنے آنے والی صورتحال پر قانون کے مطابق کارروائی کرنی چاہئے تاکہ انصاف کی فراہمی کی ذمہ داری پوری ہو سکے۔
وزیر اعلیٰ کو سخت نوٹس لینا چاہئے
حیات آباد کے گلی کوچوں میں منشیات کے عادی افراد کے ہجوم کے باعث مکینوں کی تشویش بجا ہے حیات آباد کے مختلف فیزز کے اسٹریٹس میں ہیروئنچیوں کی موجودگی متعلقہ انتظامیہ کی کارکردگی پرسوالہ نشان ہے جہاں منشیات کے عادی افراد کھلے عام نشہ کرتے ہیںحیات آباد کا علاقہ منشیات فروشوں اور منشیات باآسانی ملنے کے باعث نشے کے عادی افراد کا گڑھ بن چکا ہے اس کی بار بار سوشل میڈیا اور ذرائع ابلاغ میں نشاندہی ہونے کے باوجود متعلقہ اداروں کا ٹس سے مس نہ ہونا ملی بھگت اور سنگین غفلت کا بین ثبوت ہے جب تک انسداد منشیات کے اداروں اور خاص طور پر مقامی پولیس کے خلاف کارروائی نہیں ہوگی حیات آباد کو منشیات اور منشیات فروشوں سے پاک کرنے کا خواب شرمندہ تعبیر نہ ہو گاوزیر اعلیٰ خیبر پختونخوامحمود خان کو اس امر کا سخت نوٹس لینا چاہئے۔