p613 391

مشرقیات

آج کا مشرقیات خواتین کے نام ،جن کے دم سے ہم قدم اٹھانے کے قابل ہوئے ،بہت کم ہی ہوں گے جو دعویٰ کر یں کہ انہوں نے شیر مادر نہیں ڈبے کا پائوڈر پی کر اپنے قدموں پر کھڑا ہونا سیکھا ہے۔یہ سیلف میڈ بھی بہرحال قدم قدم پر مامتا کے مجبو ر رہے ہیں’ اس ہستی کے سوا کوئی نہیں تھا جو ”پوٹرے” دھونے کے ساتھ ساتھ اپنے لال کی تمام ضروریا ت کا خیال رکھے۔ایک خاتون کی گود میں پل کر جواں ہونے والے پھر آخر کیوں سب سے بڑے دشمن اسی صنف کے ثابت ہوتے ہیں جن کی صف میں ان کی ماں بھی کھڑی ہوتی ہے۔اب آئیں ماں جائی کی طرف۔
بیٹی کے پیدا ہوتے ہی اکثر مرد کسی کو کانوں کان خبر ہونے نہیں دیتے کہ ان کے بیٹی پیدا ہوئی ہے ،بیٹا ہو تو اس کا ڈھنڈورا پیٹنا البتہ لازم ہے ،جس امتیازی سلوک کی ابتدابیٹی کے پید اہوتے ہی شروع ہو جاتی ہے وہ زندگی بھر اس کا پھر مقدر کر دی جاتی ہے۔بھائی لوگ دن بھر بغیر کسی روک ٹوک جو دل چاہے کریں ،جہاں جائیں ان کی مرضی ،کھانے پینے میں ناز نخرے بھی ان کے اٹھائے جاتے ہیںمگر یہ اللہ کی بندی اپنے حق کے لئے دو بول بھی بولے تو اسے” خاموش”کرانے کے لئے سب سر جوڑ بیٹھتے ہیں۔ذرا ہوش سنبھالے تو اس کی تربیت جھاڑ پونچھ سے شروع کر دی جاتی ہے ،سامنے دھرا پانی مانگنا ہویا گھر بھر کے کسی بھی فرد کو بھوک ستانا شروع کرے ،ایک رعب دار آواز سے اسے حکم کی بجا آوری سکھا دی جاتی ہے۔ جب تک ماں باپ کے گھر رہے اس کا فرض اور مقدر کر دیا گیا ہے کہ وہ بھائیوں سے لے کر ماں باپ کے لئے خدمت میں جتی رہے ،بیاہی جائے تو زندگی کے نئے مرحلے میں سوائے اس کے کچھ نیا نہیں ہوتا کہ یہاں حق خدمت وصول کرنے والے رشتوں کی نوعیت بدل جاتی ہے۔ساتھ میں بچوں کی دیکھ بھال کرنا الگ گورگھ دھندا’ اسے نئی زندگی میں نیا پن ڈھونڈنے کی کوئی فرصت نہیں دیتا۔خدمت ،مشقت کے اس دوسرے دور میں بھی وہی جھڑکیاں،گالیاں اور طعنے اس کا مقدر ہوتے ہیں جو شادی سے پہلے ماں جائیوں کی زبان پر تھے۔ جناب! انصاف کی کہئے عورت کا ماں ،بہن ،بیوی اور بیٹی کے حوالے سے جو بھی روپ ہے تمام تر خدمت شعاری کے ہی اس میں رنگ ہیں ،یہی نہیں وجود زن سے ہیں تصویر کائنات میں بھی تما م رنگ تو پھر کیوں ہم اس وجود کے لئے سراپا آزار بنے ہوئے ہیں؟آئے روز اس کے قتل،زیادتی ،تشدد وتوہین کی خبریں پڑھ کر انہیں ہی کٹہرے میں کھڑ ا کر دیا جاتا ہے’ کوئی بھی اپنی ماں ،بہن ،بیٹی یا پھر بیوی کے حق میں آواز نہیں اٹھاتا ،سب مجرموں کی صف میں جا کھڑے ہوتے ہیں’ اس لئے ہم سب خواتین کے مجرم ہیں۔