1 565

حادثات درحادثات

عیدالاضحی کے پہلے روز راغگان ڈیم ضلع باجوڑ میں کشتی ڈوبنے سے کئی افراد موت کے منہ میں چلے گئے یہ خبر سن کر علاقے کا فرد فرد آشکبار اور غمزدہ ہوا عید کی خوشیاں غم میں تبدیل ہوگئیں کئی روز گزرنے کے باوجود بعض لاشیں ابھی تک لاپتہ ہیں ریسکیو کے تجربہ کار غوطہ زن ٹیمیں تشکیل دی گئیں جنہوں نے باقاعدہ آپریشنز کئے لیکن تاحال ان کو کامیابی نہیں ملی۔ غم زدہ گھرانے لاشوں کے حصول کے لیے تڑپ رہے ہیں اسی طرح عید سے ایک روز پہلے ڈیرہ غازی خان میں ایک بس اور ٹرک کا خوفناک تصادم ہوا جس سے 35 مسافر فوت ہوئے وہ بد قسمت مسافر عید کی خوشیاں منانے کے لیے اپنے پیاروں کے پاس جارہے تھے سوال یہ ہے کہ یہ واقعات کیوں رونما ہوتے ہیں؟ ان واقعات میں کون قصور وار ہے ؟ آئندہ ہم اس طرح کے واقعات سے کیسے محفوظ رہ سکتے ہیں؟ہر واقعہ کی الگ الگ وجوہات ہوتی ہیں لیکن ان تما م واقعات میں ایک سبب مشترک ہے اور وہ بے احتیاطی ہے دو سال پہلے جولائی2019میں تربیلہ ڈیم میں کشتی ڈوب گئی تھی اس میں بھی35 افراد لقمہ اجل بنے تھے باجوڑ اور تربیلہ دونوں میں ایک جیسے اسباب موجود ہیں یعنی دونوں کشتیوں میں اپنے مقررہ حد سے زیادہ افراد سوار تھے ۔ سارے پاکستان میںایک ایک دن میں کتنی اموات بے احتیاطی سے ہوتی ہیں۔اب ان اموات سے ان کے خاندان کے لیے کتنے مسائل جنم لیتے ہیں ان واقعات سے کتنے بچے یتیم اور خواتین بیوہ ہوئیں۔ دوسرا سوال یہ ہے کہ اس میں غلطیاں کس کس کی ہوتی ہیں؟ ایسے واقعات و سانحات میں زیادہ لوگ شریک ہوتے ہیں سب سے پہلے ہمارے نظام تعلیم میں تربیت کا فقدان ہے نصاب میں قوانین کے احترام، اداروں کے احترام، حکومت اور عوام کے احترام کے بارے میں کوئی صحیح مضامین موجود نہیں اور نہ اساتذہ بچوں کو نصاب کے علاوہ اس طرح کے رہنماء اصول اور قوانین بیان کرتے ہیں۔ ترقی یافتہ ممالک میں ہر شخص ملک کے قوانین اور اصول کا احترام کرتا ہے اگر کوئی شخص قانون توڑے تو دوسرے افراد حکومتی ادارے کو اطلاع دیں گے کہ فلاں شخص نے فلاں غلط کام کیا ہے مثلاً کشتی میں بٹھانے سے پہلے مسافروں کو لائف جیکٹ دیئے جائیں اگر ایسا نہیں کیا جائے تو حکومتی ادارے فورا اس کی گرفتاری کے لیے سرگرم عمل ہوں اور سزا دی جائے ۔ ہمارے ملک میں سب سے زیادہ قوانین اعلی عہدوں پر فائز افراد توڑتے ہیں ان سے کوئی پوچھنے والا نہیں بڑے لوگوں کے خلاف پولیس ایف آئی آر درج نہیں کرتی اگر ایف آئی آر درج ہوجائے تو کوئی اس کو پکڑتا نہیں اس ملک میں قوانین کا احترام غریبوں کے لیے ہی ہے۔ یہاں عوام میں شعوروآگہی موجود نہیں۔ والدین کی طرف سے بھی بچوں کی تعلیم وتربیت نہ ہونے کی وجہ سے بچوں کی عادات واخلاق متاثر ہیں ہر سال پندرہ سے پچیس سال کے بچے ہزاروں کی تعداد میں موٹرسائیکلوں کے حادثات کی وجہ سے لقمہ اجل بن جاتے ہیں پھر بھی والدین اپنے چھوٹے بچوں کے لیے بہ وجہ محبت موٹر سائیکلیں خریدتے ہیں۔ حکومت کی طرف سے واضح قوانین موجود نہیں اگر موجود ہیں تو اس پر عمل درآمد نہیں حکومت کو چاہیے کہ ہر ادارے کے لیے واضح پیغام جاری کرے کہ اپنے اپنے دائرہ اختیار میں لوگوں کو شعور و آگہی دے باقاعدہ تربیت کے حوالے سے جگہ جگہ بڑے بڑے سیمنارز کا انعقاد کیا جائے۔ اس میں لوگوں کو شعور و آگہی دی جائے۔ محکمہ ٹرانسپورٹ کو زیادہ سے زیادہ فعال کیا جائے پرانے بوسیدہ گاڑیوں کا معائنہ کیا جائے جو گاڑیاں قابل استعمال نہ ہوں تو ان کو روڈ پرچلنے کی اجازت نہ دی جائے زیادہ تر پرائیویٹ سکولز، کالجز اور یونیورسٹیوں کی بسیں بہت پرانی ہو چکی ہیں وہ حادثات کا باعث بنتی ہیں ان پر پابندی لگائی جائے۔ کشتیوں کے مالکوں اور ملاحوں کے لیے قانون سازی کرکے کشتیوں میں مقررہ افراد سوار کرنے کا پابند بنایا جائے زیادہ افراد سوار کرنے پر سخت سزائیں مقرر کی جائیں۔ ہر قسم کے ٹرکوں کو مقررہ وزن لے جانے کا پابند بنایا جائے۔ ماربل کے بڑے بڑے پتھر بغیر باڈی کے ٹرکوں میں لے جانے پر پابندی لگائی جائے۔ اس سے بھی بہت حادثے پیش آتے ہیں۔ گاڑیوں کی تیز لائٹس پر پابند لگائی جائے وہ بھی حادثوں کا سبب بنتے ہیں بلکہ ان لائٹوں کی فروخت پر پابند لگائی جائے ۔ گاڑیوں کی باڈیوں کے باہر چیزیں نکالنے پر پابندی لگائی جائے۔ کم عمر بچوں کے موٹرسائیکل چلانے پر پابندی لگائی جائے۔بڑے بڑے روڈوں کے قریب گھروں کی تعمیر پر پابندی لگائی جائے اور جو پہلے سے موجود ہوں تو روڈ کے کناروں پر حفاظتی باڑ لگائی جائے تاکہ جانور، بچے، اور دیگر افراد گاڑیوں کی ٹکر سے محفوظ ہوں ۔جہاں گنجان آباد علاقے ہوں تو وہاں پر روڈ کراس کرنے کے لیے ہوائی پل تعمیر کیا جائے۔ ان شا اللہ ان تجاویز پر عمل درآمد ہوجائے تو ہم بہت سے حادثات سے محفوظ ہو سکیں گے۔