2 546

چراغ اب کسی شب میں مخل نہیں ہوگا

”میںنہ مانوں” کا بیانہ ایک بار پھرسامنے آیا ہے ‘ آزاد کشمیر کے انتخابات کے نتائج کے حوالے سے اپوزیشن جماعتیں ایک بار پھرماضی کے بیانات سامنے لارہی ہیں ‘ چلئے نہیں مانئے تو حضور مت مانئے ‘ مگر آپ کی بھی کون مانتا ہے ؟ ایسا ہوتا تو یہ جو 2018ء کے ا لیکشن کے حوالے سے آپ تواتر کے ساتھ اسی بیانئے پر اصرار کر رہے ہیں تو اس کا کیا نتیجہ نکلا؟ اور معاف کیجئے گا ‘ بعض وی لاگرز جن خدشات کااظہار کر رہے تھے کہ عوام کا جم غفیر تو اپوزیشن کے جلسوں میں دکھائی دے رہا ہے مگر جیت اسلام آباد کی ہوگی تو وہی ہوا نا کہ اب آپ پرانے راگ الاپ رہے ہیں ‘تاہم انہی تجزیہ کاروں اور تبصرہ نگاروں نے جو”خدشات” ظاہر کئے ہیں کہ آزاد کشمیر کے انتخابات تو ریہرسل ہیں اصل”امتحان” تو2023ء میں ہو گا ‘ آپ تب بھی میں نہ مانوں کی رٹ لگاتے پھریں گے ‘ یعنی”تیری گٹھڑی کو لاگا چور”اپنا کام دکھا سکتا ہے ‘ کیونکہ محاورہ تو یہ بھی ہے ناں کہ چور ‘ چوری سے جائے ہیرا پھیری سے نہ جائے ‘ اسی لئے اگر محولہ تجزیہ کاروں کی بات پر دھیان دیا جائے تو حالیہ آزاد کشمیر انتخابات ”مشتے از خروارے” ہی قرار دینے کی بات کچھ کچھ دل کو بھاتی دکھائی دے ر ہی ہے ‘ رہا آپ کا میں نہ مانوں والا بیانیہ تو حضور گزشتہ تین سال کے دوران مختلف شعبوںمیں بڑھتی مہنگائی اور نت نئے ٹیکسوں کے نفاذ پر آپ کے احتجاج کا کیا نتیجہ سامنے آیا یعنی جب بھی مہنگائی مسلط کی گئی خواہ وہ بجلی کی مد میں ہو ‘ گیس کی مد میں ‘ چینی آٹے اور دیگر اشیائے صرف کی قیمتوں میں اضافہ ہو تو آپ نے اس مہنگائی کو”مسترد” کرنے کے بیانات داغنے کے سوا کیا ہی کیا ہے؟ آپ نے صرف ایک نام نہاد”احتجاج” کی اوڑھنی اوڑھ کر اپنی ”ذمہ داری” نبھانے تک ہی خود کو محدود کیامگر پارلیمنٹ میں سرکاری مہنگائی کے آگے بند باندھنے کی کوئی تدبیر نہیں کی ‘ اب آپ فرما رہے ہیں کہ ”آزاد کشمیر کے دھاندلی زدہ نتائج قبول نہیں کریں گے”۔چلئے مت کیجئے قبول تو پھر؟ آپ کے احتجاج میں اب وہ دم خم کہاں باقی رہ گیا ہے ‘ جبکہ انتخابی نتائج کی گٹھڑی سمیٹ کر لے جانے والے آپ کی صفوں میں پڑنے والی دراڑوں پر خوشی سے پھولے نہیں سما رہے ہیں ‘ اور معاف فرمایئے آپ کے بارے میں تو عابد ملک نے بہت پہلے کہا تھا
ہزار طعنے سنے گا ‘ خجل نہیں ہو گا
یہ وہ ہجوم ہے جو مشتعل نہیں ہو گا
اندھیرا پوجنے والوں نے فیصلہ دیا ہے
چراغ اب کسی شب میں مخل نہیں ہوگا
ریمنڈ ڈیوس یاد آگیا ہے ‘ اسلام آباد میں انتہائی سفاکانہ اندازمیں قتل کی جانے والی نور مقدم کے مبینہ قاتل کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا اس کا فیصلہ تو استغاثہ کی کارروائی اور عدالت کے اس کیس پر فیصلے کے بعد ہی وثوق کے ساتھ کچھ کہا جا سکے گا کیونکہ معاملہ اب قانون کے ہاتھ میں ہے اور اصولی بلکہ قانونی طورپر کچھ کہنا ممکن نہیں ہے ‘ تاہم ریمنڈ ڈیوس کی یاد کا معاملہ یہ ہے کہ ملزم ظاہر جعفر نے گزشتہ روز جوبیان دیا اس میں موصوف نے کہا کہ میں امریکی شہری ہوں پاکستان کا نہیں جو کچھ بھی آپ کو بتائے گا میرا وکیل ہی بتائے گا ‘ اس پر سبحان اللہ ‘ ماشاء اللہ وغیرہ کہنے کی ضرورت ہے یا نہیں ہے؟ اس پر ضرور غور کرنا چاہئے ‘ جبکہ دوسری جانب پشتو زبان کے ایک مقولے کے مطابق ”پائوں پانی میں ہونے” کے طرز پر ریمنڈ ڈیوس کو”سفارتی استثنیٰ” دے کر نہ صرف قید سے آزاد کیا گیا بلکہ پاکستانی قانون کی گرفت سے بھی آزادی دلوا کر نکال باہر کیا گیا۔ جبکہ موجودہ واقعے میں ملوث ملزم دستیاب معلومات کے مطابق نہ تو امریکی سفارتکار ہے نہ یہ مقتولہ کے اہل خانہ کو دبائو میں لانے کی کوششیں کسی طور کامیاب ہو سکتی ہیں’ تو پھر”امریکی شہری” کی تڑی کس حد تک کارگر ہو سکے گی اس پر بھی کوئی رائے نہیں دی جا سکتی ‘ کیونکہ دنیا میں(فلموں کی حد تک) صرف ایک شخصیت ایسی ہے جسے بہ یک وقت سات افراد کو جان سے مارنے کا لائسنس دیا گیا ہے یعنی برطانوی خفیہ ادارے کا جاسوس جیمز بانڈ اس کے علاوہ کسی اور شخص کے پاس ایک ہی حملے کے دوران اکٹھے سات افراد کو جان سے مار دینے کا لائسنس جسے بانڈ سیریز کی فلموں کے اشتہاری کمپیئن کے دوران 007-License To Killجیسے الفاظ میں واضح کیا جاتا ہے ‘ اور جب وہ بہ یک وقت سات افراد کو قتل کرتا ہے تو اس کے بعد اسے کوئی تاسف بھی نہیں ہوتا نہ ہی توبہ تائب ہوتا ہے مرزا غالب کے اس شعر کی مانند کہ
کی مرے قتل کے بعد اس نے جفا سے توبہ
ہائے اس زود پشیماں کا پشیماں ہونا
پشیماں ہونے کا مظاہرہ تو نور مقدم کے مبینہ قاتل ظاہر جعفر نے بھی نہیں کیا بلکہ بڑی رعونت کے ساتھ خود کو امریکی شہری قرار دے کر اپنی جانب سے جوابات کی ذمہ داری بھی اپنے وکیل پر ڈال دی ہے کہ بقول حضرت عثمان مروندی
بیا جاناں تماشا کن کہ درا بنوہ جاں بازاں
بہ صد سامان رسوائی سربازار می رقصم
تو آں قاتل کہ از بہر تماشا خون من ریزی
من آں بسمل کہ زیر خنجر خونخوار می رقصم
ادھر امریکہ نے افغانستان میں امریکی افواج کے ساتھ بطور مترجم خدمات انجام دینے والے 18 ہزار افغان شہریوں کو امریکہ منتقل کرنے کے لئے اقدام اٹھاتے ہوئے فنڈز کی منظوری دے دی ہے جبکہ ایک اور خبر کے مطابق طالبان نے امریکی فوج کے ایک مترجم کا سر قلم کردیا ہے ‘ سہیل پردیسی نامی مترجم کے قتل کے بعد امریکہ کے لئے کام کرنے والے افراد خوفزدہ ہو گئے ہیں دریں اثناء دو خبریں گزشتہ ہفتوں کے دوران گردش کر رہی تھیں ایک تو طالبان کی جانب سے یہ اعلان سامنے آیا تھا کہ امریکہ کے ساتھ بطور مترجم کام کرنے والوں کو کچھ نہیں کہا جائے گا اور امریکہ نے بھی ان سے آنکھیںپھیر لی تھیں کہ جب طالبان انہیں کچھ نہیں کہتے اور سب کے لئے عام معافی کا اعلان کر دیا ہے تو امریکی کیوں فکر مند ہوں بقول خالد خواجہ
دیوتائوں کا دیس ہے جس میں
راکھشس احتساب مانگتے ہیں