4 428

عید کے ذائقے

گزشتہ عیدالاضحی کے پانچویں روزہمارے دیرینہ دوست جلالی باوا، جو عید پر ہم سے شرف ملاقات سے بے بہرہ ومحروم رہ گئے تھے ،ہمیں اپنی چوڑی وکشادہ چھاتی اورگندھی ہوئی توند سے مِلاتے ،بلکہ مَلتے مَلاتے ہوئے ،اپنی رفتہ وگزشتہ جوانی اور عید قرباں میں کھائی جائی جانے والی مرغن غذاؤں کی اضافی طاقت (قوت کا لفظ شایدزیادہ موزوںہو )کے بل بوتے پر ہم سے گلے ملتے ہوئے کہنے لگے کہ ”جناب گزری ہوئی عید مبارک ہو”۔ہم ان کے اس نیم تشددآمیز معانقے پر چیں بہ جبیں تو ہوئے ہی ساتھ ہی ایک چِیں کی غیرارادی آواز بھی حلق سے جب برآمد ہوئی تو ہم نے اپنے اس جارحانہ دوست سے اپنی چِیں والی خفت مٹانے کے لیے یوں گویا ہوئے کہ”قبلہ جلالی باوا! قربانی والی عید کہاں باسی ہوتی ہے۔اللہ بھلا کرے جاپانیوں کا اور اب چینیوں کا اور بالخصوص پاکستان میں سمگلنگ کی اشیاء ”بہم”پہنچانے والوں کا کہ ان کی بدولت گھر گھر میںفرج اور ڈیپ فریزر آگئے ہیں ،خوشحالی ہی خوشحالی ہے اور راوی چَین ہی چین لکھتا ہے ۔”ایک بہت ہی ٹیکنیکل موضوع پر ہماری جلالی باواسے توتومیں میں ہوگئی کہ جب انہوں نے ہمیں اپنے گھربڑے گوشت کے پسندے کھلانے کی دعوت دے ڈالی ،ہمارے دوست بھی بڑے غیرت مندواقع ہوئے ہیں(غیرت مند ہونے اور واقع ہونے میں فرق ملحوظ خاطر رہے) انہیں بھی ہماری طرح اس بات پر غصہ آیا ،اپنی توہین ان سے بھی برداشت نہ ہوئی لیکن اخلاقاًچپ اس وجہ سے رہ گئے کہ ہم نے عید سے ایک ہفتہ پہلے انہیں مارکیٹ میں اوے لیبل سب سے گہراڈیپ فریزر قسطوں پراپنی ضمانت پر دلوایا تھا۔ایسا نہیں تھا کہ جلالی باواکی معاشی حیثیت مشکوک تھی، بلکہ عید سے پہلے مارکیٹ میں ڈیپ فریزر کی ”لوڈ شیڈنگ ”چل رہی تھی ،گویاکہ ڈیپ فریزر مارکیٹ سے ”مترا ”ہی ہوگئے تھے۔وہ تو بھلا ہوہمارے ایک پڑوسی کا کہ جو ایک الیکٹرنک کی دکان پر سیلز مین ہیں، انہیں ہمارا ایک احسان یاد رہ گیا تھاسو انہوں نے ہمیں ایک ڈیپ فریزر دلوا کر احسان کا بدلہ چکاہی دیا۔۔اس واقعے بعد اپنے دوست کی شاعری کی بھی قدر اس انداز سے کرنے لگے ہیںکہ خود اپنے شاعر نہ ہونے پر کچھ کچھ افسوس افسوس سا ہونے لگا ہے ۔جلالی باوا ،اب بھی مصر ہیں کہ گزرا ہوا زمانہ اچھا تھا۔ بھئی کیسے اچھا تھا؟ تو فرماتے ہیں کہ قربانی کے بعد گوشت کو تین حصوں میں بانٹنا،ٹوکرے میں دوستوں رشتہ داروں کے لیے ان کے بخروںکی بھاجیاں ڈالنا ،گھر گھر ان گوشت کی بھاجیوں کو پہنچانا،رشتہ داروں سے ملنا ملانا۔دورچار روز میں گوشت سے ”مکھتی ”حاصل کرلینا۔گوشت کا زیادہ حصہ غرباء ومساکین کو ملناوغیرہ وغیرہ۔ہم نے پوچھا یہ کیا بڑی بات ہوئی بولے کہ اب ذبیحہ
کے بعد جوان موبائل فون عید مبارک کے میسج فارورڈ کرتے رہتے ہیں یا فیس بک فیس بک کھیلنے میں مشغول رہتے ہیں۔گوشت فریزر اور فرج کے سرد خانوں کی نذر ،اس زمانے میں نہ فریزر نہ فریج کا مسلہ ،نہ حرص نہ لالچ ،غریبوں کو ملنے والاگوشت رسیوں پر ڈال کر سوکھادیاجاتا ،اب گوشت کون سکھائے ،تازہ بہ تازہ فریزر سے نکالو،خود بھی کھاؤ،دوستوںکو بھی کھلاؤ۔ ہم نے کہا جب اگلے زمانے کو یاد کرتے ہوتو زمین دوز گہرائیوں والا
فریزر کیوں خریدا توبولے کہ خانگی مسائل نہ ڈسکس کیے جائیں تو دوستی برقراررہنے کے امکانات قائم رہتے ہیں۔جلالی باوا کا کمال یہ ہے کہ بے وقوفی کی باتیں پوری سنجیدگی اور سنجیدہ باتیں انتہائی غیرسنجیدگی کے ساتھ کرتے ہیں۔ہم نے ان سے کہا گوشت کو کم از کم چالیس ڈگری فارن ہائیٹ پر فریزر میں دو یا زیادہ سے زیادہ چار دن تک رکھا جاسکتا ہے کیونکہ گوشت میں بیکٹیریاز اپنا عمل کرتے رہتے ہیں فریزشدہ گوشت میں یہ عمل سست تو ہوجاتا ہے مگر ختم نہیں ہوتا ان بیکٹیریاکی مثال تو”یہ تو چلتی ہے تجھے اونچااڑانے کے لیے ”والی ہے۔خدا جانے ان بیکٹیریاز کا ہمارے معدے میں پہنچ کر کیا حال ہوتا ہوگا۔کتنی پریشانیاں خود ان بیکٹیریاز کو جھیلنی پڑتی ہوں گی ،وہا ں تو انہیں جان کے لالے پڑجاتے ہوں گے کہ یہ ہم کہاں آگئے ہیں۔اس موقع پروہ ہمیں بھینس کی مثال دیتے ہیں کہ باڑوں میں جس ماحول میں وہ رہتی ہیں وہ کسی بھی طور حفظان صحت کے مطابق نہیں ہوتا لیکن ان کی صحت پنجابی اور پشتو فلموں کی ہیروئیزکی طرح قابل رشک ہوتی ہے ۔ہمارے شہر بھی تو بھینسوں کے باڑوں جتنے ہی گندے ہیں پھر ہماراامیون سسٹم کیوں نہ بھینسوں سے کم پائیدار ہو۔مذیدفرماتے ہیں کہ اگر کسی نے تحقیق کی تو ہمارے معدے دنیا کے سب سے مضبوط معدے قرار دیے جائیں گے ،ہوسکتا ہے کہ چائینہ والے ہمارے جیسے تھریشر قسم کے معدے ایکسپورٹ کرنا بھی شروع کردے۔یہ بھی ہوسکتاہے کہ مستقبل میں امریکہ اپنے نازک مزاج فوجیوں کے معدوں کی سخت ٹریننگ کے سلسلے میں انہیں ہمارے شہر بھیج دیا کرے تاکہ حالت جنگ میں وہ کچھ بھی کھاکراور کہیں بھی رہ کر زندہ رہ سکیں۔جلالی باوا کے اس طویل مگر پرمغزاور جذباتی لیکچر نے تو ہماری کایا ہی پلٹ دی ہے ۔اب ہمیں کسی قسم کا ڈرنہیں ہے۔