1 566

ماحول کی آلودگی کا خاتمہ

اپنے ایک دوست کو عید مبارک کہنے اور ملنے گیا تو اس کے مزاج میں قدرے برہمی تھی۔ وہ ارد گرد جانوروں کی آلائشوں اور ان کے تعفن سے بیزار بیٹھا تھا۔ وہ ہر عیدہمیشہ اپنے گاؤں جا کر مناتا ہے ۔اس بار بھی معمول کے مطابق عیدالاضحی پہ جانورقربان کرنے کے بعددوسرے روز شہر اپنے گھر چلا آیا ۔میں نے اسے بتایا کہ آپ کی بیزاری بجا ہے۔ دیہی علاقوں میںاس مقدس فریضہ کا اتنا خیال رکھا جاتا ہے کہ لوگ قربانی کے جانور ذبح کرنے کے بعد خون اور آلائشوں کو زمین میں دبا دیتے ہیں ۔ شہرمیں جگہ کم ہونے کی وجہ سے شہری آلائشوں کو گلی کوچوں میں پھینک دیتے ہیں اور لاپروائی سے خون نالیوں میں بہہ رہا ہوتا ہے۔ یہ مسلہ صرف ہمارے دوست کی جدید آبادی کا نہیںبلکہ ملک کے ہر شہر کا ہے۔ یوں تو بلدیہ اور بہت سی جدید کالونیوں کی انتظامیہ عید کے موقع پر آلائشیں اور عام دِنوں میں کوڑا اٹھانے کے متحرک رہتی ہے ، انہیں اضافی عملہ اورگاڑیاں بھی فراہم کردی گئیں ہیں مگر شہریوں کی اکثریت بھی صفائی کا کم خیال رکھتی ہے۔ شہروں میں ماحول کو آلودہ کرنے کے دو ذرائع ہوتے ہیں۔ اگر کسی شہر میں صنعتیں ہیں تو اس کا صنعتی فضلہ اور جدید شہری حالات کے رہن سہن میں استعمال سے پیدا ہونے والا فضلہ۔ شہروں میں محدود صنعتی زون سے پیدا ہونے والے صنعتی فضلہ کی واضح طور پہ نشاندہی اور اس کے نکاس کے راستے ڈھونڈ لئے جائیں تو اسے روکنا آسان ہو جاتا ہے۔ چونکہ ہر شہری کسی نہ کسی طرح آلودگی میں اضافہ کرتا ہے لہذا ماحول کی خرابی کے مسلہ کا حل پیچیدہ ہے۔ ماضی میں ایک بار شہر بس جاتا تو مناسب آبادی ،وسائل کے مطابق تعمیر و ترقی اور گزر بسر کے باعث بڑی خوش اسلوبی سے نکاسی آب اور دیگر آلودگی سے نمٹنے کی صلاحتیں موجود تھیں۔آج تہذیبی ترقی نے آلودگی کو اس قدر بڑھا دیا ہے کہ جس سے شہری تنظیمیں اور ادارے بھی عہدہ برا نہیں ہو سکتے۔ بہت سے معروف صنعتی ادارے آلودگی کے ذمہ دار ہیں اور شہری آبادی اس کا شکارہے ملکی ضابطے،قوانین اور شہری تحریکیں اس طرح کی آلودگی کو ختم کر سکتے ہیں لیکن عمومی شہری آلودگی کی حد تک شہریوں کی اکثریت بھی اس کی مجرم ہے۔ہر شہری کو اپنے روزمرہ کے معمولات کا سختی سے محاسبہ کر کے اپنی اصلاح کی کوشش کرنی ہو گی اور اِن تمام عوامل کا تدارک کرنا ہوگا جو آلودگی میں اضافہ کا باعث بنتے ہیں۔ یہ مسلہ مشکل ہے مگر لا نیحل ہر گز نہیں۔ مثلاً دنیا میں بلکہ اپنے مُلک میں کاروں کے رحجان کا تجزیہ کیا جائے ۔ہر سال کار بنانے والے شہریوں کو ترغیب دیتے ہیں کہ نئے اور عمدہ ماڈل والی کاریں خریدیں۔ گویا جدید ترین گاڑی میں سوار نہ ہونا معاشرہ میں معتبر نہ ہونے کے مترادف ہے۔ یہ صنعت کار ،چاہے گاڑی بنانے والے ہوں یا روزمرہ کی اشیائے ضرورت بنانے والے، تشہیری مہم میں بڑے ماہر ہوتے ہیں۔ یہ سارے لوگ اس اصول پر کام کرتے ہیں جسے غیر مروج یا فرسودہ قرار کہا جا سکتا ہے۔ انسان کی خلقی خود غرضی کی اس حریصانہ دلالی نے ہمیں موجودہ زبوں حالی تک پہنچا دیا ہے۔ اگرچہ ماضی میں ہمارے اسلاف کو ہمہ وقت غذا،رہائش اور ضروریاتِ زندگی کی بہت سی اشیاء کی قلت کا سامنا رہتا لیکن زندگی بسر کرنے کا ایک ڈھنگ تھا اور لوگ بڑی خوش اسلوبی سے رہتے تھے۔ ان حالات میں کفایت شعاری کو ایک خوبی اور تعیش کو ایک خرابی سمجھتے تھے لیکن صنعتی انقلاب کے رہن سہن سے اقدار بھی بدل گئے۔ ایک صارف کی سطح پر صنعت کاروں کی نگاہ میں کفایت شعاری خوبی نہیں بلکہ خرابی قرار پائی۔ حرص و ہوس نے جہاں بہت سے خانگی اور معاشرتی بگاڑ پیدا کیے وہاں صنعت اور دیگر تجارتی شعبوں نے اپنے اشتہارات کے ذریعہ حرص کو بڑھا کر کئی نقصانات کیے جس میں آلودگی بھی شامل ہے۔ یہ مہم اب بھی بڑے زور شور سے جاری ہے۔ گھروں،گلی کوچوں،ہوٹلوں، مارکیٹوں اور شادی ہال سے نکلنے والا فضلہ ہو یا سڑک، پارک، بس ہوائی اڈہ ، دفتر اور عوامی مقامات پہ گندگی پھیلانے والی عادتیں ،اسی اشتہار بازی کا نتیجہ ہیں۔ اسی حرص نے ایسے گروہ بھی پیدا کیے ہیںجو جانی و مالی نقصان کے علاوہ درختوں کی غیر قانونی کٹائی اور جنگلات کا صفایا کر کے ماحول میں آلودگی کا اضافہ کررہے ہیں۔ ہوس کا شکار ہو کر ہم احترام آدمیت کھو دیتے ہیں۔ عظمت زندگی کا شعور وہ بنیادی اصول ہونا چاہئے جس پر سارے اعمال کا انحصار ہو۔ سب سے پہلے قدرتی وسائل کے بے جا صرف کو کم سے کم کرنا اور فضلہ کو پیداوار میں استعمال کرنے کا طریقہ وضع کرنا چاہئے تاکہ فضا کی آلودگی کو کم کرنے اور قدرتی وسائل کو ختم ہونے سے محفوظ رکھنے میں مدد ملے۔ انہی اقدام سے یقیناً انسانی صحت کو بہتر اور برقرار رکھنے میں مدد ملتی ہے۔ ہمیں اپنے معمولات میں ان سادہ ضابطوں پر عمل کرتے رہنا چاہئے کہ ایک خوشگوار زندگی بسر کر سکیں۔