2 547

میر جعفر کی یاد میں

وہ کونسی ڈپلومیسی ہے جو ان لوگوں سے خفیہ ملاقاتیں کرکے کی جاتی ہے جو ہمارے ملک کے بارے میں مغلظات بکتے ہیں۔ ایک ایسے وقت میں جب حکومت پاکستان نے ایک مشکل مؤقف اختیار کررکھا ہے اور امریکہ کو انکار کردیا ہے کہ پاکستان کی زمین امریکی اڈوں کے لئے استعمال نہیں ہوسکتی افغانستان امریکہ سے امداد چاہتا ہے ۔ اس کے عوض یقیناً امریکہ نے اپنے مطالبات بھی افغانستان کے سامنے پیش کئے ہونگے ‘ اور ایک امریکی کٹھ پتلی حکومت ان سے کس قدر انکار کر سکتی ہے اس کے بارے میں کوئی شک نہیں۔ پاکستان میں تحریک انصاف کی حکومت کے انتظامی معاملات سے لاکھ اختلاف سہی لیکن افغانستان کے حوالے سے ان کا مؤقف اکثریت کو درست محسوس ہوتا ہے اور پھر اس فیصلے کی تفصیلات سے بھی اختلاف نہیں کہ سرحدوں کو اس وقت تک بند رکھا جائے جب تک پاکستان مہاجرین کو محدود کرنے کا بندوبست نہ کر لے ۔ امریکہ کو انکار اور افغانستان کے حوالے سے پالیسی کی تپش پاکستان مسلسل محسوس کر رہا ہے ۔ ملک میں دہشت گردی کے واقعات کا آغاز ہو گیا ہے ۔ ایسے میں میاں نواز شریف کو نہ جانے کیا سوجھی کہ انہوں نے اپنے ملک سے وابستہ حمیت کو بھی اپنی منہ زبانی سفارت کاری پر قربان کر ڈالا اور وہ افغان سرکاری اہلکار جس نے پاکستان کے بارے میں انتہائی غلیظ باتیں کیں اسی سے ملاقات کی۔ میاں صاحب اس وقت پاکستان کی سفارت کاری کی غلطیوں کو کیا سدھارنے چلے تھے جبکہ نہ تو ان کے پاس نہ کوئی سرکاری عہدہ ہے اور نہ ہی حکومت وقت نے ان سے ان کے گزشتہ سفارتکاری کے ریکارڈ یا ان کے جذبہ حب الوطنی سے متاثر ہو کران کی مدد مانگی۔ نہ ہی میاں صاحب نے خود حکومت سے اپنی خدمات پیش کرنے کی بات کی۔ ملک سے خود ان کی وفاداری کا عالم یہ ہے کہ جب وہ حکومت میں ہوتے ہیں اس ملک کو ذاتی جاگیر سمجھتے ہیں اور ہر ممکن نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کی بدعنوانی کے قصے ہر دور حکومت میں نت نئے ہوا کرتے ہیں اور ان کا کمال یہ ہے کہ یہ میگا پراجیکٹس میں مال بنایا کرتے ہیں۔ موٹروے اور یلوکیب سکیم تو اب تک پاکستانی قوم بھول چکی ہے ۔ لیکن سی پیک میں بجلی بنانے کے کارخانوں کے حوالے سے کتنے قصے زبان زد خاص و عام ہیں۔ میاں صاحب کی اس ملک سے وفاداری کی مثال کہیں نہیں ملتی کیونکہ وفاداری اگر ہو تو اس کی مثال بھی دی جا سکتی ہے ۔ سیاست ان لوگوں کا بزنس ہے اسے یہ بزنس کے طور پر ہی کیا کرتے ہیں۔ حکومت میں آنے کے فائدے ہوتے ہیں اور اپوزیشن میں رہنے کے الگ فوائد ہیں۔ لیکن اسوقت یہ جس حالت میں ہیں اس کا نہ کوئی فائدہ ہے اور نہ ہی کسی قسم کاکوئی اثر ۔ ان کی بیٹی ان کی اس سیاست کو زندہ رکھنے کی کوشش کر رہی ہے جس کی ممی بنا کر کوئی میوزیم میں رکھنے کو تیار نہیں۔ ایک ملک کاوزیر اعظم کسی دوسرے ملک کے صدر سے جب ایسا رویہ وصول کرتا ہے ‘ سفارتکاری کا اس وقت کیا حال ہوتا ہے اس کے بارے میں بھی سوچنا ضروری ہے ۔ ان کے گھر کے فنکشن پرایک دشمن پڑوسی ملک کا وزیر اعظم جب بنا کسی اطلاع کے ملک میں آن وارد ہوتا ہے ‘ سفارتکاری کواس وقت کیسا جھٹکا لگتا ہے ۔ بات صرف ایم کیو ایم کے ایک دھڑے اور اے این پی سے وابستہ ان کی تاریخ تک ہی کہاں موقوف ہے ۔ آج بھی بلوچستان میں ان کے روابط انہی سیاسی پارٹیوں سے ہیں۔
یہ ملک کی سفارت کاری کوکیا بچائیں گے یہ اس حکومت کی غلطیوں کی تصحیح کرنے کے کیا اقدامات کریں گے ان کا تو اپنا کردار داغدار ہے اور اس کے بارے میں سوالات ہی سوالات ہیں۔ اس وقت افغان اہلکار حمد اللہ محب سے ملنے کے بعد ان کے حوالے سوالیہ نشانات میں اور اضافہ ہو گیا ہے ۔ ان کے دور حکومت میں پاکستان کبھی امریکہ کے سامنے سر نہیں اٹھا سکا اور ان کی اس ملاقات میں عین ممکن ہے کہ آج بھی امریکہ کی ہی ہدایات کا کوئی عمل دخل ہو عین ممکن ہے کہ امریکہ ‘ افغان بھارت گٹھ جوڑ میں میاں نواز شریف سے اس ملاقات کے ذریعے کچھ وعدے وعید لینے کی کوشش کی جارہی ہو۔ مستقبل کے کسی لائحہ عمل کی بات کی گئی ہو ۔وہ حمد اللہ محب جو ایک بار پاکستان کے بارے میں ایسی گندی اور گھنائونی بات کر چکا ہے کہ میں اسے لکھنا بھی نہیں چاہتی اس سے مل کر میاں نواز شریف نے کیا طے کرنا تھا۔ ان کے بھارت سے بھی تعلقات ہیں اور حمد اللہ محب کے بارے میں کوئی دو رائے نہیں ۔ میاں صاحب نے اس ملاقات سے دراصل اپنے عزائم کا اظہار کیا ہے ۔ اس ملک کی اہمیت کا اپنی نظرمیں اظہار کیا ہے ۔ ان کی حالت اب وہی ہے جو الطاف حسین کی رہی ہے ‘ اور یہ اسی راہ پر گامزن بھی ہیں۔ کچھ عرصے بعد ہمیں بحیثیت قوم معلوم ہو گا کہ وہ کس طور را اور سی آئی اے کے ا یجنڈے پر کام کر رہے تھے ۔ ہمیں یہ بھی یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ میر جعفر کبھی باہر سے نہیں آیا کرتے ۔ یہ ہمارے ہی درمیان موجود ہوتے ہیں بس ان کے لیے ذاتی مفادات ‘ ملکی اور قومی مفادات پر بھاری ہوتے ہیں’ اور یہ بھی یادرکھنے کی ضرورت ہے کہ رسول اکرمۖ نے واضح طور پر ہمیں بتا دیا تھا کہ ”حریص کی آنکھ کو صرف قبر کی مٹی ہی بھر سکتی ہے” حکومت وقت ان سے اپنی میٹنگ کی ریکارڈنگ عام کرنے کی بات کر رہی ہے ۔ وہ یہ کیسے کریں گے وہ یہ کر بھی کیسے سکتے ہیں اور کیا واقعی اس میٹنگ کی ریکارڈنگ عام ہونے کی ضرورت ہے ۔ ہم ماضی سے کچھ نہیں سیکھتے ۔ جو شخص اپنی حکومت ہوتے ہوئے اس ملک سے محبت نہیں کر سکا اب اسے اس ملک سے کیا محبت ہوسکتی ہے ۔ مریم نواز کے چہرے سے میاں نواز شریف اپنی سیاست کہاں تک اس ملک میں بچا پائیں گے۔ یہ بازی تو مات ہے ہاں اگر بھائی کی مدد لی ہوتی تو آج انہیں ملک سے باہر بیٹھ کر ملک کے سودے نہ کرنے پڑتے اور اس قوم کو اب وہ جاگ جانے کی ضرورت ہے کیونکہ اب بھی نہ ہوش آیا تو سب ہاتھ سے جائے گا۔ سازشیں ہمارے ارد گرد بنی جارہی ہیں اور یہاں تو قدم قدم پر میر جعفر موجود ہیں۔