5 443

تولا نہیں جا تا

آزاد کشمیر میں پی ٹی آئی سادہ اکثریت حاصل کر کے اس پوزیشن میں آگئی ہے کہ وہ حکومت سازی کے عمل پر روبہ عمل ہو پائے ، گزشتہ انہی کالم میں تحریر کیا تھا کہ آزاد کشمیر کے انتخابات میں جیت پی پی ٹی آئی کی ہو گی کیوں کہ آزاد کشمیر کے انتخابات کی روایت بھی یہ کہہ رہی تھی اور دیگر مسلم لیگ کے ساتھ دوسرے جڑے حالات وواقعات بھی سراغ رسانی کر رہے تھے ، تاہ ہم پی ٹی آئی کی کا میا بی ایسی کوئی خاص بڑی کامیا بی نہیں ہے جس پر دھمال ڈالا جا ئے ، تاہم اس لحاظ سے اہم ہے کہ وزیر اعظم پاکستان کے اعلا ن ریفرنڈم کے بعد ان کے ایک وزیر باتدبیر نے فرما یا ہے کہ اب نیا کشمیر بنا نا عمر ان خان کا وژن ہے آزاد کشمیر کے عام انتخابات کے موقع پر جو دھو م مریم نواز کے جلسو ں کی تھی اس کے مطا بق سکہ بند تبصرہ نگا ر یہ یقین رکھتے تھے کہ مسلم لیگ ن یہ انتخابات بھاری اکثریت سے اڑا لے جائے گی مگر انتخابی نتائج نے تو مسلم لیگ کی وکٹ ہی اڑا کر رکھ دی اس کی وجہ کیا ہے ، ڈھیر ساری ہیں اس میں مسلم لیگ کی جانب سے انتخابی منصوبہ بندی کا نقص بھی شامل ہے ، سیا ست نا م ہی ہے اعلیٰ منصوبہ بندی کا مگر پاکستان کی سیاسی جماعتوں میں اس معاملے میں کا ل ہی پڑا رہتا ہے ہے یہ درست ہے کہ عالمی حالات اور قوتیں بھی پاکستان کے انتخابات پر نظرانداز ہوتی ہیں اس وقت مقبوضہ کشمیر کے حالا ت وواقعات بھارت کو بھاری پڑ ے ہوئے ہیں اس کے اثرات بھی تو کہیں نہ کہیں آشکا رہ ہو تے ہی ہیں ، یہ کہنے میں کوئی باک نہیں کہ عالمی طاقتیں بھارت سے اپنے اقتصادی ، معاشی ، اور سیا سی مفادات کے لیے اس کو مقبوضہ کشمیر کے طوق سے نجا ت دلا نے کی تگ ودود میںہیں ، مقبوضہ کشمیر کے حالات وواقعات کی بناء پر بھارت جس قیا مت خیز مرحلے سے گزر رہا ہے اس کے لیے بھی یہ طاقتیں کا فی سرگر م عمل ہیں اور اس معاملے میں ان کی ہم رکا ب ہیں ۔ بات ہو رہی تھی آزاد کشمیر کے انتخابات کی تو اس کے نتائج سے لا زمی طور پر مسئلہ کشمیر پر بھی اثرات رونما ہو ں گے اور ایک نئی جہت پیدا ہو نے کا پورا امکا ن پا یا جا تا ہے ، وزیر اعظم عمر ان خان نے اپنے کوٹلی کے جلسہ میں اس کا سید ھے سادھے انداز میں اظہا ر بھی کر دیا ہے ۔ چونکہ پی ٹی آئی سادہ اکثریت سے کا میا ب ہو گئی ہے لہذا اب عمر ان خان پر بھاری ذمہ دار ی عائد ہو گئی ہے کہ وہ اپنی کشمیر پا لیسی کی سطور واضح کر دیں تاکہ عوام کو اچھی طرح علم ہوجائے کہ پاکستان کی پالیسی کن خطوط پر محیط ہو گی ، تاکہ ایک قومی ہم آہنگی بروقت پید ا ہو ، تاہم یہ کھلا عقیدہ ہے کہ کوئی حل اس وقت پائید ار نہیں ہواکر تا جب تک اسے عوامی پذیر ائی حاصل نہ ہو ، جس کا عین ثبوت مقبوضہ کشمیر کے حالا ت ہیں ،پی پی کے چیئر مین بلا ول بھٹو نے اپنے بیا ن میںدبے دبے الفاظ کے ساتھ یہ تو کہا کہ دھاندلی ہوئی ہے مگر ساتھ ہی بڑے پر جو ش انداز میں مسلم لیگ ن کو ہدف بناتے ہو ئے یہ بھی فرمایا کہ گزشتہ انتخابات کے مقابلے میں پی پی کو دونشستیں زائد حاصل ہوئی ہیں گویا یہ ان کے نزدیک پی پی کی بڑی کا میا بی ہے اور اس طرح انھو ں نے آازاد کشمیر کے انتخابی نتائج کو تسلیم کرلیا ، جہا ں تک مسلم لیگ ن کا تعلق ہے ، مسلم لیگ ن کے صدر نے ہنو ز زبان نہیں کھولی نہ پارٹی کی جا نب سے کوئی بھاری بھرکم ردعمل آیا البتہ مسلم لیگ ن کی نائب صدر جو پا رٹی کی انتخابی مہم کا بہت اہم کر دار تھیں انھو ں نے انتخابی نتائج کو مسترد کر دیا اور دھاندلی کا الزام بھی لگایا ، اس کے ساتھ ہی دھاندلی کے خلا ف کسی منصوبہ بندی کا بھی کوئی ذکر نہیں کیا ، جب سن2013کے انتخابات ہوئے تھے تو پی ٹی آئی نے بھر پو ر طورپر واویلا مچا یا تھا اور کئی حلقے کھولنے کا مطالبہ بھی کیا تھا جبکہ2018کے انتخابات میں مسلم لیگ ن نے بھی اسی زور کے ساتھ دھاندلی کاالزام لگایا مگر الیکشن کمیشن کو ایک بھی دھاندلی کی نشاندہی کے لیے درخواست نہ دی ، اب آزاد کشمیر کے موجو دہ انتخابات کے بارے میں ان کا پرانا ہی موقف ہے پھر بھی مسلم لیگ ن کی جا نب سے الیکشن کمیشن کو کوئی درخواست دائر ہنوز نہیں کی گئی ہے جبکہ چیف الیکشن کمشنر سلہریا نے سرکا ری نتائج کا اعلان کرتے ہو واضح الفاظ میں بتایا کہ کسی فریق کی جانب سے انتخابات میں دھاندلی کی شکا یت کی کوئی درخواست موصول ہوئی ہے ۔انتخابات کے نتائج بھی ایک گورکھ دھندہ ہی ہو تے ہیں ۔ آزاد کشمیر کے انتخابات کل پڑنے وا لے ووٹو ں میںسے پی ٹی آئی کو 613590ووٹ ، مسلم لیگ ن کو491091ووٹ اور پی پی کو349895ووٹ ملے اسی طرح ان تینو ں پارٹیوں کو پڑنے والے ووٹوں کی شرح پی ٹی آئی 32.5مسلم لیگ ن 25.65پی پی18.28فی صد رہی یو ں ان تینو ں پارٹیو ں کو فی نشست ووٹ ترتیب وار اس طرح ملے کہ پی ٹی آئی 24544مسلم لیگ ن 81848اور پی پی کو 31808پڑے ان اعدا د و شما ر کی روشنی سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ووٹوں کی شرح میں بھی آگے رہنے والی جما عت کونتائج کے مقابلے میں تقریباًنصف نشستیں ملیں یہ اعداد کی جا دو گری نہیں تو اور کیا ہے ان اعد اد وشما ر کی روشنی میں واقعی پی پی خوش قسمت قرار پاتی ہے بلا ول بھٹو زرداری کا پچھلے انتخابات میں دو نشستیں زائد حاصل کر نے پر خوشی سے پھولے نہ سما نا تو بنتا ہے ۔