PTI Ministers

ہشام انعام اللہ کا علی آمین گنڈاپور اور گورنر شاہ فرمان کیخلاف انکشافات سامنے آگئے

ویب ڈیسک (لکی مروت): ہشام انعام اللہ سے وزارت کا قلمدان واپس لینے پر اہل علاقہ شدید برہم، پشاور میں سی ایم ہاوس اور گورنر ہاوس کے سامنے احتجاج کیلئے کرم پل پر جمع، مظاہرین میں پاکستان تحریک انصاف کے ضلعی ذمہ داران سمیت صوبائی ذمہ داران بھی موجود، مظاہرین کو احتجاج سے روکنے کیلئے ہشام انعام اللہ کرم پل پہنچ گئے۔

ہشام انعام اللہ کا علی آمین گنڈاپور اور گورنر شاہ فرمان کو چیلنج دیا کہ قرآن پر ہاتھ رکھ کر طلاق ڈال کر دونوں مجھ پر کرپشن اور کمیشن ثابت کرے، میں بھی قرآن پر ہاتھ رکھ کر ثابت کروں گا کہ کبھی کمیشن نہیں کھائی ہے، دونوں نے دوستی میں میرے پیٹھ میں چھرا گھونپا ہے، بزدل سامنے سے وار کرتے ہیں پیچھے سے نہیں، خود کو شیر کہنے والے نے پیچھے سے وار کیا ہے، شیر تو جانور ہوتا ہے اب ہمارا مقابلہ ایک جانور سے ہے، ہماری قوم اس وقت زخمی ہے اور جب انسان زخمی ہوتے ہیں تو وہ شیر کو پچھاڑ دیتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ علی آمین نہیں چاہتا کہ جنوبی اضلاع میں ان کے علاوہ کوئی ترقی کرے، علی آمین نے بھائی کو وزارت دلوانے کیلئے سب کچھ کیا ہے، میں نہیں لوگ اور میڈیا کہہ رہی ہے کہ شاہ فرمان کو کروڑوں کی بندوقیں تحفے میں ملی ہیں، ان دونوں سے پشتون روایات کے مطابق بات کریں گے کہ انہوں نے مروت قوم اور مجھ سے یہ زیادتی کیوں کی ہے؟ کچھ مقامی پی ٹی آئی ذمہ داران اور دوسرے لوگ بھی اس سازش کا حصہ ہیں ان سے بھی قوم جرگہ کرے گی۔

عمران خان اور وزیر اعلی کا مشکور ہوں ہمیشہ مجھے سپورٹ کیا ہے، میں کہیں نہیں جا رہا پاکستان تحریک انصاف کا ایک آدنی کارکن ہوں اور رہوں گا، کوئی فارورڈ بلاک بنانے نہیں جا رہا، وزارت کیلئے مروت قوم کو کسی کے سامنے نیچا نہیں ہونے دوں گا، ہمیں وزارت کی کوئی ضرورت نہیں، سی ایم ہاوس کے سامنے احتجاج کرکے اپنی پارٹی اور سی ایم کو مشکلات میں نہیں ڈالیں گے، اگر احتجاج کرنا ہوا تو ڈیرہ اسماعیل خان میں کریں گے کیونکہ ڈیرہ بھی ہمارا اپنا ہے، مظاہرین پرامن منتشر، پشاور میں احتجاج کا فیصلہ موخر کردیا۔