p613 393

دعویٰ خوش آئند ‘ کسوٹی پربھی پورا تو اترے

عیدالاضحی سے قبل کی بارش سے شہر میں پیدا مسائل کے برعکس ڈبلیو ایس ایس پی کے ترجمان کا یہ بہت بڑا دعویٰ سامنے آیا ہے کہ مون سون کے آغاز سے قبل ایک سو پچپن کلو میٹر نالیوں کی صفائی کی گئی ہے ممکنہ بارشوں کے باعث عملہ چوکس اور ایک سو بائیس افراد پر مشتمل ٹیمیں تعینات ہیں۔اس پر پشتو کا ضرب المثل ہی بہتر تبصرہ ہے کہ ”خداے دے اوکی چہ دا دروغ رشتیا شی”ہاتھ کنگن کو آرسی کیا کے مصداق جب تیز بارشیں ہوں گی تو اس دعوے کی حقیقت خود بخود سامنے آئے گی۔ ”دا گز دا میدان” کے مثل اس معاملے پر مزید تبصرہ کی ضرورت نہیں ڈبلیو ایس ایس پی کے ترجمان کے بلند و بانگ دعوے کی حقیقت کھل جائے تو
اگر اس میں حقیقت ہوئی اور شہری سیلاب کی نوبت نہ آئے تو یقیناً ڈبلیو ایس ایس پی کے حکام انعام و اکرام کے مستحق ٹھہریں گے اور اگر یہ محض دعویٰ ثابت ہوا اور زمینی حقائق سے ثابت نہ ہوا تو ان کو باز پرس سرزنش اور سزا کے لئے تیار رہنا چاہئے ان کی نیت پر شک و شبے کا اظہار کرنے کا ہمیں کوئی حق نہیں ممکن ہے ماضی کی غلطیوں اور کوتاہیوں سے کمپنی کے حکام نے سبق سیکھا ہو گا لیکن معمول کا مشاہدہ اس کے برعکس رہا ہے اولاً مون سون کی بارشوں کے نکاس کی تیاری نہیں ہوتی نالیاں اٹی پڑی ہوتی ہیں اور پانی گھروں ‘ گوداموں اور تہہ خانوں میں داخل ہوجاتا ہے صرف اگر یونیورسٹی روڈ ہی کو بطور مثال سامنے رکھیں تو سالوں کی محنت اور کروڑوں روپے کے اخراجات اور نالیاں بنانے و اکھاڑنے کے بار بار کے تجربات کے باوجود ابھی تک مسئلہ اگر جوں کا توں نہیں تو زیادہ بہتری بھی نہیں آئی سو رے پل کا تالاب بھی کوئی کہانی نہیں شہریوں کوبخوبی علم اور تجربہ ہے کہ کتنی بارش کے بعد کس علاقے کی کیا حالت ہوتی ہے اور جانے نجانے گل ہی نجانے باغ تو سارے جانے ہے کے مصداق ڈبلیوایس ایس پی کے حکام ہی بالآخر غافل ثابت ہوتے رہے ہیں۔ ان تمام مشاہدات اور تجربات کے باوجود ہمیں بجا طور پر توقع ہے کہ ڈبلیو ایس ایس پی نے اس سال مون سون کی بارشوںسے پیدا شدہ مسائل سے نمٹنے کے لئے یقیناً بہتر تیاری کی ہوگی میڈیا کو اس مرتبہ بطور خاص ڈبلیو ایس ایس پی کے دعوے کے پیش نظر صورتحال کا جائزہ لیکر عوام اور حکومت کو پورے شہر کی صورتحال سے درست آگاہی دینے کی ذمہ داری نبھانی ہو گی جبکہ حکومت کو بھی اس دعوے کی جانچ کرکے جزاوسزا اور انعام و اکرام کا فیصلہ کرنا چاہئے تاکہ اس کی روشنی میں دیگر محکموں میں بھی بہتری کے اقدامات پر توجہ دی جاسکے۔
وزیراعلیٰ کے بروقت احکامات
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے صوبے کے بیشتر اضلاع میں مون سون بارشوں کے پیش نظر تمام متعلقہ محکموں اور اداروں کو الرٹ رہنے اور کسی بھی ممکنہ خطرے سے بروقت نمٹنے کیلئے تمام متعلقہ محکمے اور ادارے ہر لحاظ سے تیار رہنے کی بروقت ہدایت کی ہے انہوںنے یہ کہاکہ ہنگامی صورتحال میں ریسکیو اور ریلیف کی سرگرمیوں کو منظم انداز میں چلانے کیلئے متعلقہ محکموں اور اداروں کے درمیان مربوط روابط کا موثر نظام وضع کیا جائے تاکہ ریسکیو کی سرگرمیوں میں کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ ہو۔وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے احکامات پر عملدرآمد نہ ہونے کی کوئی وجہ نہیں ہوسکتی ان ہدایات پر حقیقی معنوں میں عملدرآمد کی سعی کی جائے تو کوتاہی کی گنجائش کے ساتھ بھی عوام کی بروقت مدد اور مشکل حالات سے نکالنا ممکن ہو گا۔ قدرتی آفات کی نوعیت کے حوالے سے کوئی بھی اندازہ درست نہیں ہوتا اس لئے حتی ا لمقدور تیاری اور فعالیت اختیار کرنے کی ضرورت ہے ۔ توقع کی جانی چاہئے کہ صوبہ بھرمیں حکام سنجیدگی سے حالات سے نمٹنے کی سعی کریں گے اور ہر قسم کے حالات میں عوام کی دستگیری یقینی بنائی جائے گی۔
محصورسیاحوں کو ہنگامی طور پرمنتقل کیا جائے
صوبے میں سیاحت کے فروغ کے لئے حکومتی اقدامات کسی سے پوشیدہ نہیں سیاحوں کی خیبر پختونخوا کے سیاحتی مقامات میں دلچسپی بھی کوئی ڈھکی چھی بات نہیں جس کے پیش نظر انتظامات میں کمی نہیں ہونی چاہئے مگر صورتحال یہ ہے کہ سوات میں پٹرول کی قلت کی وجہ سے سینکڑوں کی تعداد میں سیاح پھنس گئے ہیں۔ مقامی لوگ بھی پٹرول نہ ملنے کی وجہ سے شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ کالام کے کسی ہوٹل میں کوئی کمرہ خالی نہیں۔ پٹرول کی قلت کی وجہ سے سیاح کالام میں پھنسے ہوئے ہیں۔ دوسری جانب کالام میں پانی سے بجلی پیدا کرنے والا ہائیڈرو پاور سٹیشن خراب ہونے کی وجہ سے کالام میں تین دنوں سے بجلی بند ہے۔ پٹرول اور ڈیزل کی قلت کی وجہ سے مقامی ہوٹل جنریٹر بھی نہیں چلا سکتے جس کی وجہ سے ہوٹلوں میں پھنسے ہوئے سیاح شدید پریشان ہیں۔پٹرول کی قلت اور سیاحوں کا پھنس جانا تو اب معمول بن چکا ہے گزشتہ سال بھی ایسا ہی ہوا تھاان حالات کوغیر متوقع صورتحال قرار نہیں دیا جاسکتا بلکہ حکام کو اس کا ادراک ہونا چاہئے تھا ضرورت اس امر کی ہے کہ اب ہنگامی اقدامات کے ذریعے سیاحوں کو منزل مقصود روانہ کر دیا جائے اور آئندہ کے لئے زیادہ سے زیادہ تیاریوں اور انتظامات پرتوجہ دی جائے تاکہ اس طرح کی صورتحال پھر درپیش نہ ہو۔