1 567

تھرڈ آپشن کا عندیہ؟

وزیر اعظم عمران خان نے کوٹلی جلسہ عام میں خطاب کرتے ہوئے کشمیریوں میں دوریفرنڈم کرانے کی بات کر کے گویا کہ ایک بار پھر بِھڑوں کے چھتے میں ہاتھ ڈال دیا ہے ۔معاملے کا پوری طرح فہم نہ رکھنے والے بھی اس قومی موقف کی ڈفلی بجاتے ہوئے ان پر ٹوٹ پڑے ہیں ۔یوں لگتا ہے کہ جیسے اگلے لمحے ہی کشمیر آزاد ہو کر ایک الگ ریاست کی شکل میں اُبھر رہا ہو۔کشمیر ایک اُلجھائو کا شکار مسئلہ ہے اور بھارت کے تکبر انانیت اور مغربی طاقتوں کی بھارت نوازی نے اس مسئلے کو مزید الجھا دیا ہے ۔کشمیریوں کے لئے اقوام متحدہ کی قراردادوں میں صرف دو آپشن ہیں پاکستان اور بھارت ۔اس کے باوجود پاکستان کی قومی اسمبلی نے آئین تیار کرتے ہوئے آرٹیکل 257میں مختلف انداز میں کشمیریوں کے لئے تھرڈ آپشن کا راستہ کھلا چھوڑا ہے ۔اس آرٹیکل میں کہا گیا ہے کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت اگر کشمیری پاکستان سے الحاق بھی کریں گے تو وہ پاکستان کے ساتھ اپنے رشتوں کا تعین کرنے میں آزاد ہوں گے ۔اس نکتے کو وضاحت کے بغیر ختم کرکے لامحدود او ر لامتناہی چھوڑ دیا گیا ہے گویاکہ اگر کشمیر ی آزادی دلانے میں پاکستان کے کردار کا شکریہ ادا کرکے آزاد رہنے کا فیصلہ کریں گے تو پاکستان اپنے آئین کے تحت اس کو تسلیم کرنے کا پابند ہوگا ۔اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد قومی موقف ہے مگر کشمیریوں کو دوبارہ اپنے مقدر اور مستقبل کے فیصلے کا اختیار دینا آئینی موقف ہے ۔اس آرٹیکل کی تشریح محدود نہیں رکھی جا سکتی ۔ماضی میں ایک پھنسے ہوئے مسئلے کے حل اور جمود جمائو توڑنے کے لئے پاکستان کی طرف سے تھرڈ آپشن کی بات مختلف انداز میں ہوتی رہی ۔نوازشریف جب پہلی بار وزیر اعظم بنے تو ایران کے دورے میں ان سے کشمیر کے لئے تھرڈ آپشن کا سوال پوچھا گیا تو انہوں نے کہا ایسا ممکن ہے ۔ابھی وہ ایران ہی میں تھے کہ ملک میں اس حوالے سے قومی موقف سے انحراف کے الزامات کی برچھیاں اور نیزے لے کر کچھ لوگ باہر آگئے اور وطن واپس آکر انہوں نے اسے زبان کی پھسلاہٹ قرار دیا ۔یہ وہ وقت تھا جب آزاد کشمیر میں کنٹرول لائن توڑنے کے لئے جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ کا مارچ ناخوش گوار انجام سے دوچار ہوچکا تھا اور آزادکشمیر پولیس کی فائرنگ سے کئی افراد جاں بحق ہو چکے تھے اور اس وقت ایران تھرڈ آپشن کی شرط پر کشمیر میں پوری دلچسپی لے رہا تھا ۔یہ نوے کی دہائی کا اوائل تھا اس کے بعد
جنرل پرویز مشرف بھی مسلسل آئوٹ آف باکس حل کی بات کرتے رہے۔نوے کی دہائی سے آج تک پلوں تلے بہت سا پانی بہہ چکا ہے۔پورے خطے کے حالات تبدیل ہوچکے ہیں۔ریاست جموں وکشمیر کے لوگوں نے ہر دور میں اپنے انداز سے قربانیاں دی ہیں ۔جموں کا قتل عام ،پونچھ میں بھارتی مظالم ،کنٹرول لائن پر بھارتی فائرنگ تاریخ کے روح فرسا باب ہیں مگر وادی کشمیر کے عوام جو قربانیاں تین عشرے سے دے رہے ہیں اس کی مثال دنیا میں کم ہی ملتی ہے ۔محاصر ے میں آئے ہوئے نوجوان کی اپنی والدہ سے آخری ٹیلی فونک گفتگو میں ماں کی یہ نصیحت کہ بیٹا سرینڈر نہ کرنا جا میں نے تجھے خدا کے حوالے کیا اور ہاں میرے لعل میں نے تمہیں اسی مقصد کے لئے چنا تھا اور اس کے چند لمحوں بعد ایک بھارتی فوجی کی سنسناتی گولی اس نوجوان کو زندگی کی قید سے آزاد کرتی ہے اور آڈیو کلپ میں اس کے بعد خاموشی چھاجاتی ہے اور چند لمحوں تک گولیوں کی ریکارڈ ہونے والی آوازوں میں زندگی کا آخری ثبوت ملتا ہے ۔ اس خاتون کا نام سکینہ بیگم بتا یا گیا ہے ۔سکینہ بیگم وادی کی ان خواتین کی نمائندہ اور علامت ہیں جن کی شناخت اور پہچان حبہ خاتون کا ایک رومانوی اور ادبی کردار ہوتا تھا ۔ زون یعنی چاند کا تخلص رکھنے والی حبہ خاتون سولہویں صدی کے کشمیر کے حکمران یوسف شاہ چک کی محبوبہ تھیں جو بعد میں ان کی بیوی بنیں حبہ خاتون کشمیری زبان کی کمال کی شاعرہ اور آرٹسٹ تھیں ۔ اس پر بالی وڈ کی ایک فلم بھی بنی ۔آج بھی محققین حبہ خاتون کی شاعری پر تحقیق کرتے ہیں ۔وقت نے ان علامتوں کو بدل کر اب ان خواتین کو کشمیری معاشرے کا رول ماڈل اور پرکشش کردار بنا دیا ہے۔وقت بتا رہا ہے کہ کشمیری ایک بہاد رقوم ہے اور اس پر مرضی کے بغیر کوئی حکومت نہیں کرسکتا ۔ بیرونی حملہ آوروں اور حاکموں نے اس میں خوئے غلامی پیدا کرنے کے لئے اس کا لباس اور کلچر بدل دیا اور ہتھیار کو چھین کر اسے ایک فرماں بردار معاشرہ بنا دیا ۔جب وقت پڑا تو اس نے اپنا یہ خول اُتار پھینکا اور تین دہائیوں سے یہ انگاروں پر رقص کناں ہے ۔ایسے میں کشمیریوں کی قربانیوں کے اعتراف اور احترام کا واحد راستہ یہی ہے کہ کشمیریوں کو اپنے مستقبل اور مقدر کا فیصلہ کرنے کے اختیار کا اعتماد دیا جائے ۔