2 548

ہمارے بھی ہیں مہرباں کیسے کیسے

ایک نجس جانور کے حوالے سے محاورہ کچھ یوں ہے کہ کوئی کچھ بھی کرے اس کی دم سیدھی نہیں ہو سکتی اس حوالے سے ایک واقعہ روایت کے طور پرمشہور ہے کہ ایک شخص پر جنات کوقابو کرنے کی دھن سوار ہوئی تو اس نے ایک کامل بزرگ سے ایسا وظیفہ دینے کی درخواست کی جس سے وہ جنات کو مطیع کر سکے بزرگ نے اسے ٹالنے کی کوشش کی مگر وہ کسی طور مان کر ہی نہیں دے رہا تھا ‘ تنگ آکر بزرگ کامل نے اسے وظیفہ تو دے دیا تاہم چلہ کاٹنے کے دوران حد درجہ ا حتیاط کی بھی تاکید کی ‘ اس شخص نے حسب ہدایت اپنے گرد حصار کھینچتے ہوئے چلہ کشی شروع کر دی ۔ اس دوران اسے کئی ڈرائونی شکلیں دکھائی دیتی رہیں مگر وہ اپنی دھن کا پکا تھا اور کسی خوف ڈر کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے چلہ کشی میں مصروف رہا ‘ بالآخر چلہ مکمل ہونے کے قریب آیا تو ایک جن نے حاضر ہو کر کہا”کیا حکم میرے آقا؟” جن نے دوستی کا ہاتھ اس شرط پر آگے بڑھایا کہ اگر میرے ساتھ تعلق رکھنا ہے تو مجھ پر آپ کا ہر حکم بجا لانا تو فرض ہوگا لیکن میری بھی ایک شرط ہے ‘ اور وہ یہ کہ مجھے فارغ نہیں چھوڑنا ‘ جیسے ہی ایک حکم پورا کر کے واپس آئوں ‘ فوراً دوسرا کام حوالے کرنا ہے ‘ اگر ایسا نہ ہوسکا تو میری تمہاری دوستی ختم ہوجائے گی اور اس کے بعد میں تمہیں جان سے بھی مار سکتا ہوں ‘ اس شخص نے ایک لمحے کو سوچا اور ہاں کہہ دی ‘ اس کا خیال تھا یہ کونسی بڑی بات ہے ‘ ایک حکم بجا لائے گا تو دوسری فرمائش کر دوں گا ۔ بس جناب دوستی کا معاہدہ ہونے کے بعد احکامات جاری ہوتے رہے جسے جن پلک جھپکتے میں پورا کرکے پھر حاضر ہوجاتا ‘ اس کا نتیجہ مگر یہ ہوا کہ اس کا چین ختم ہو گیا ‘ وہ ایک لمحے کے لئے بھی آرام سے سو نہیں سکتا تھا ‘ ادھر اس کی آنکھ لگی اور جن حاضر ہو جاتا ‘ حضور حکم بجا لاتا ہوں ‘ اب مزید کیا حکم ہے ؟اب تو وہ شخص بہت ہی پریشان ہو گیا ‘ اور اس نے جن سے جان چھڑانے کے لئے اسی کامل بزرگ کے پاس جانے کا فیصلہ کرتے ہوئے جن کو حکم دیا کہ وہ فلاں کام کرے مگر ایسے کہ اس کام پر کم از کم چھ سات گھنٹے لگ جائیں نہ کم نہ زیادہ ‘ اس حکم کا مقصد اپنے لئے اتنا وقت حاصل کرنا تھا جس کے دوران وہ اس بزرگ سے دل کا حال کہے ‘ جن حکم ملتے ہی چلا گیا اور ادھر یہ شخص بھی دوڑتا ہوا بزرگ کے پاس پہنچ گیا ‘ جو اس وقت درس دینے میں مصروف تھے ‘ درس سے فارغ ہوئے تو اس پریشان حال نے بزرگ کے پائوں پڑ کر جن سے جان چھڑانے کی درخواست کی ‘ بزرگ نے کہا ‘ میں نے تمہیں منع بھی کیا تھا مگر تم کہاں مان کر دے رہے تھے ‘ اب بھگتو ‘ مگر یہ شخص گڑ گڑا کر معافی مانگتا رہا ‘ بالآخر بزرگ کو اس پر رحم آگیا اور اسے آئندہ توبہ کرنے کی نصیحت کی اور کہا اب جیسے ہی جن کام مکمل کرکے واپس آئے تو اسے حکم دو کہ باہر گلی میں وہ جو ایک نجس جانور بیٹھا ہوا ہے ‘ اس کی ٹیڑھی دم سیدھی کرتے رہو ‘ شنید ہے تب سے جن یہی ڈیوٹی انجا دے رہا ہے ‘ مگر دم ہے کہ سیدھی ہونے ہی میں نہیں آرہی ہے ‘ اس روایتی کہانی کی یاد اس لئے آئی کہ بقول شاعر
ہمارے بھی ہیں مہرباں کیسے کیسے
ان کی حالت بھی اسی ٹیڑھی دم کی طرح ہے جس کو آپ چاہے سو سال تک لوہے کے ایک پائپ کے اندر بھی ڈالے رکھیں مگر باہر نکالو گے تو یہ ٹیڑھی کی ٹیڑھی ہی رہے گی ‘ تازہ خبر یہ ہے کہ پاکستان کی ”کرم نوازی” بھی ان صاحب سے ہضم نہیں ہونے پا رہا ہے جو ایک عرصے سے موقع ملتے ہی اپنے خبث باطن کا اظہار کئے بنا نہیں رہ سکتا ‘ جی ہاں وہی ہمسایہ ملک کے نائب صدر امر اللہ صالح ایک بار پھر پاکستان کی گزشتہ چالیس سالہ مہربانیوں کو بھول کر گزشتہ کچھ عرصے سے جس طرح احسان فراموشی کا مظاہرہ کر رہے ہیں ‘ ایک بار پھر پاکستانی حکام کی تازہ مہربانی پر بھی نکتہ چینی کر رہے ہیں اور افغان فوجیوں کی حالیہ دنوں میں پاکستان میں پناہ لینے کی غرض سے آنے کے بعد انہیں بہ حفاظت واپس کر دیا ہے ‘ اس کو موصوف نے پروپیگنڈہ سٹنٹ قرار دے کر احسان فراموشی کی ایک نئی مثال قائم کر دی ہے ‘ یاد رہے کہ گزشتہ دنوں 46افغان فوجیوں نے پاکستانی حکام سے رابطہ کرکے پاکستان میں پناہ لینے کی درخواست کی تھی کہ خبروں کے مطابق انہیں افغان طالبان کے مبینہ دبائو کا سامنا تھا اور اپنی جانوں کے حفاظت کے لئے پاکستان میں پناہ کی درخواست کرنی پڑی ‘ آئی ایس پی آر کے جاری کردہ ایک ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک پاکستانی افسر افغان فوجی ا فسر کے ساتھ ہاتھ ملاتے ہوئے یہ کہتے ہوئے نظر آتا ہے کہ آپ کو چائے پلانے اور کھانا کھلانے کے بعد واپس بھیج دیا جائے گا۔ امر اللہ صالح نے فوجیوں کی حوالگی کی اس فوٹیج کو پروپیگنڈہ سٹنٹ قراردیتے ہوئے کہا کہ اس پروپیگنڈے سے حقیقت کو بدلا نہیں جا سکتا۔ بے خود دہلوی نے کہا تھا
جادو ہے یا طلسم تمہاری زبان میں
تم جھوٹ کہہ رہے تھے مجھے اعتبار تھا
احسان شناسی اور احسان فراموشی کے درمیان فرق بھارت کے پائلٹ ابھی نندن اور امر اللہ صالح کے بیانیوں میں دیکھا جا سکتا ہے ابھی نندن کی گرفتاری کے حوالے سے چائے کا ٹرینڈ چل پڑا تھا اور ابھی نندن نے واپس وطن پہنچ کر بھی پاکستانی حکام کے رویئے پر مثبت بیانات دے کر بھارتی میڈیا کے منفی پروپیگنڈے کو غلط قرار دیا تھا مگر افغان نائب صدر امر اللہ صالح ایک حقیقت کو پروپیگنڈہ قرار دے کر احسان فراموشی کی داستان رقم کر رہا ہے ‘ ان سے سوال کیاجا سکتا ہے کہ اگر افغان فوجیوں کی مہمان نوازی کے بعد انہیں بہ حفاظت افغان حکام کے حوالے کر دیا گیا ہے تو اس میں پروپیگنڈہ کہاں سے آگیا ہے ؟ اور اگر یہ پاکستان کا پروپیگنڈہ ہے تو اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ افغان فوجیوں نے اس ”کہانی” میں خود اپنی مرضی اور خوشی سے کردارادا کیا نہ کہ یہ سب کچھ پاکستان کے کہنے پر کیا گیا توپھرامر اللہ صالح متعلقہ فوجیوں سے پوچھیں کہ وہ کیا کرنے آئے تھے؟ گویا اس کے پیچھے بھی افغان حکام ہی کی کوئی سازش تھی جسے پاکستانی حکام نے ناکام بنا دیا ‘ اس لئے وہ جو دم ٹیڑھی دکھائی دے رہی ہے اس کا علاج خود افغان حکومت ہی کرے تو بہتر ہے ‘ پاکستان پر کوئی الزام تراشی کامیاب نہیں ہوسکتی۔
دلیل تھی نہ حوالہ تھا ان کے پاس کوئی
عجیب لوگ تھے بس اختلاف رکھتے تھے