3 448

تہمت لگا کے ماں پہ۔۔۔

24جولائی صبح تین بج کر انیس منٹ پر پاکستان کے سابق وزیر اعظم نواز شریف کے گھر واقع لندن میں افغانستان کے ایک وفد نے ملاقات کی ہے ۔ سوشل میڈیا کے اس دور میں یہ تصویر پاکستان کے کونے کونے میں پہنچ چکی ہو گی۔ حکومت سے وابستہ لوگوں اور سیاستدانوں کے درمیان ملاقاتیں ہوتی رہتی ہیں لیکن بعض ملاقاتوں کی بعض تصاویر دیکھ کر حساس لوگوں کے کان کھڑے ہوجاتے ہیں۔ افغانستان کے اس وفد میں افغانستان کے سیکورٹی ایڈوائزر حمد اللہ محب بطور قائد وفد شامل تھے ۔ یہ وہی حمداللہ محب ہیں جنہوں نے حال ہی میں پاکستان (وطن عزیز) کے بارے میں چاند پر تھوکنے کی کوشش کرکے ہزلیات بکی تھیں۔ اس کے رد عمل میں پاکستان کے وزیر خارجہ اور چیف آف سٹاف نے کہا تھا کہ اس شخص کا بائیکاٹ کیا جائے گا اور کسی فورم پر اس سے ہاتھ نہیں ملایا جائے گا۔لیکن نواز شریف کے گھرمیں اس شخص کو دیکھ کر حیران بھی ہوا اور غصہ بھی آیا۔ کہ کیا نواز شریف کو معلوم نہیں کہ اس شخص نے پاکستان کے لئے اخلاقیات سے گرے ہوئے الفاظ استعمال کئے تھے اگر نہیں معلوم تو جہالت کی انتہا ہے اگر معلوم تھا اور پھر اس شخص کواپنے گھر آنے دیا تو اس کا مطلب اس کے سواکیا ہو سکتا ہے کہ نواز شریف بغض میں اندھے ہو چکے ہیں بلکہ بے حس سے ہوچکے ہیں۔جو شخص ہماری دھرتی ماں کو گالیاں دیتا ہے اور دشمن سمجھتا ہو کیا کسی طور بھی ایسے شخص سے ایک ذمہ دار پاکستانی کی ملاقات اور وہ بھی اپنے گھر میں کو جائز قرار دیا جاسکتا ہے ۔
افغانستان وہ سرزمین جہاں سے ہماری طرف ٹھنڈی ہوائیں بہت کم آتی ہیں لیکن جب سے پاکستان بنا ہے ان کے وبال سے پاکستان ضرور بری طرح متاثر ہوا ہے ‘ یہاں تک کہ قیام پاکستان کے بعد اقوام متحدہ میں جب دنیا بھر کی اقوام پاکستان کو بطور آزاد ملک تسلیم کرنے جارہی تھیں۔ افغانستان کے بادشاہ ظاہر شاہ نے ہمارے خلاف ووٹ ڈالا تھا۔ ابھی سال ڈیڑھ قبل عبدالرزاق نام کا ایک خود ساختہ جرنیل پاکستان کے خلاف زہر اگلا کرتا تھا۔ پنجابیوں کے خلاف پختونوں میں تعصب ابھارنے اور جگانے کا کوئی موقع ضائع ہونے نہیں ہوتا تھا’ قندھار اور سپین بولدک میں پاکستانی کرنسی میں لین دین ممنوع قرار دیاتھا اور پھر احسان فراموشی کی فطری بھینٹ چڑھا اور کل سپین بولدک میں اس کے گھر پر طالبان کا قبضہ دیکھا اور سناکہ اس کا جاں نشین بھائی(وہ بھی جرنیل تھا) بھاگ گیا ہے ۔ تو خدا کی قدرت اور امر کے کرشمے دیکھئے کہ بے شک ”دن رات کی گردش میں عقل والوں کے لئے نشانیاں ہیں”۔
پاکستان واقعی عظیم ملک ہے کہ اپنے سخت مخالفین کوبھی برداشت کرتا ہے اور کھلاتا پلاتا ہے اور اظہار رائے کی آزادی کے حوالے سے یہ دنیا کے بیسیوں ملکوں سے بہتر ہے ۔ لیکن اس ملک سے خدا واسطے کا بیر رکھنے والے پھر بھی راضی و خوش نہیں۔ پچھلے دنوں پاکستان کے قومی اسمبلی کے ایک معروف رکن اسمبلی کی تقریر کی ایک کلپ سن رہا تھا جس میں وہ ببانگ دہل پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے انٹرویوکی اس بات کو سیاق و سباق سے ہٹا کر پیش کر رہا تھا کہ ”طالبان کا لباس سادہ ہے لیکن فکر وسچ کے لحاظ سے اس دفعہ وہ بڑے سمارٹ ہیں” پرتنقید کرتے ہوئے بڑے دور کے اشارے کر رہا تھا کہ اگر طالبان اتنے اچھے لوگ ہیں تو پاکستان میں حکومت ان کے حوالے کیوں نہیں کی جاتی۔ ان لوگوں کو اشرف غنی کی وہ حکومت جائز(Legitimate)لگتی ہے جس کو دو کروڑ ووٹ ڈالنے کے اہل لوگوں میں سے بیس لاکھ ووٹ ڈالے گئے اور اس میں غنی کو صرف آٹھ لاکھ ووٹ پڑے اور وہ بھی لوگ جانتے ہیں کہ کیسے پڑے ۔ لیکن طالبان کی اس حقیقت کو ماننے سے انکاری ہیں جس کے ساتھ بیس برس کی طویل لڑائی کے بعد سپر پاور امریکہ دوحہ معاہدہ دستخط کرتا ہے ظاہر ہے کہ معاہدے اس فریق کے ساتھ کئے جاتے ہیں جس میں جان ہوتی ہے اور یہ معاہدہ اشرف غنی حکومت کے ہوتے ہوئے ہوا تھا۔
ہمارے ان صاحب کو افغانستان میں طالبان کی حکومت ایک آنکھ نہیں بھاتی حالانکہ یہ افغانیوں کا اندرونی معاملہ ہے وہ جسے چاہیں بطور حکمران قوت تسلیم کریں لیکن اس ممبر اسمبلی کو افغانستان میں پاکستان کی نام نہاد مداخلت پر بھی بہت بڑا اعتراض ہے اسلئے کہتے ہیں کہ طالبان اتنے پسند ہیں تو یہاں بھی حکومت ان کو دیدیں جو ظاہر ہے کہ ایسی بات ہے جسے قیاس سے الغارق ہی کہا جاسکتا ہے البتہ تاریخ سے ثابت ہے کہ طالبان افغانستان کے گزشتہ تین دور حکومت میں وہاں سے پاکستان کے لئے کوئی مشکل کھڑی نہیں کی گئی تھی اس دور میں امراللہ صالح اور حمد اللہ محب جیسے لوگ پاکستان پر بے جا و بے بنیاد تنقید نہیں کرسکتے تھے ۔ افغانستان میں گزشتہ بیس برس سے امریکہ اور نیٹو افواج مقیم تھیں اور اسی دور میں دنیا کی معروف انٹیلی جنس ایجنسیاںافغانستان کے مختلف علاقوں میں بیٹھ کر سازشیں اور شرارتیں کر تی تھی۔ طالبان سے شاید پاکستان کی ایک گونا ہمدردی اسی بناء پر ہوسکتی ہے کہ اب بھارت جیسے ملکوں کو کھل کھیلنے کے مواقع نہیں ملیں گے بلکہ طالبان کا دعویٰ ہے کہ افغانستان کی سرزمین کسی کے خلاف استعمال نہیں ہو گی ہماری خواہش اور دعا ہے کہ افغانستان میں خیر و امن ہو ‘ افغانی عوام جس کے سر پر تاج رکھوانا چاہیں یہ ان کی صوابدید ہے لیکن متذکرہ بالا کرداروں کو پاکستان پر دشنام طرازی کا حق نہیں اور پاکستان سے ایسے لوگوں کے ساتھ میل ملاپ اور تحسین و ستائش پراس کے سوا کیا کہا جا سکتا ہے کہ
تہمت لگا کے ماں پہ جو دشمن سے داد لے
ایسے سخن فروش کو مرجانا چاہئے
آخرمیں موضوع سے ہٹ کر ایک عرض یہ ہے کہ آزاد کشمیر میں انتخابات کے دوران ہمارے ایک وزیر بے تدبیرنے ذوالفقار علی بھٹو شہید کے حوالے سے جو بات کی ہے اس پر یہی کہا جا سکتا ہے کہ یہ ہرلحاظ سے غلط ہے اور قابل مذمت ہے ۔ بحیثیت انسان کمی کوتاہی ہر انسان میں ہوتی ہے لیکن بحیثیت حکمران و سیاستدان ذوالفقارعلی بھٹو ایک بلند مقام رکھتے ہیں وہ پاکستان کے دفاعی قوت کے بانی اور امت مسلمہ کے اتحاد کے سفیر تھے ۔ لہٰذا اپنی تاریخ کی ایسی شخصیات کے بارے میں ایسی باتیں کرنا کسی طرح زیب نہیں دیتیں۔اس موضوع پر ان شاء اللہ ایک الگ کالم جلد لکھا جائے گا۔