4 429

کمپیوٹر کی دنیا کاہراول دستہ محرومی کا شکار

بات کہیں سے بھی شروع کریں آج موبائل کے ذریعے جو انقلاب آیا ہوا ہے اس کی ابتداء کمپیوٹر نے ہی کی اور سارے ملکوں کی طرح پاکستان نے بھی کمپیوٹر کی دنیا میں جب قدم رکھا تو اسے بڑے اہتمام کے ساتھ رکھا جاتارہا، میری عمر یا اس سے زائد کے لوگوں کو تومعلوم ہوگا کہ کمپیوٹر کسی دفتر میں پڑا ہوتو اس دفتر کو بڑے ہی پروٹوکول میں رکھا جاتاتھا ،اس کمرے میں رہنے والا افسر چاہے بائیسویں گریڈ کا ہو یا صرف کلرک وہاں پر ائیرکنڈیشن ضرورلگایا جاتاتھا، اسے ڈسٹ پروف اور شوروغل سے محفوظ رکھاجاتارہا۔ کم از کم نوے کی دھائی تک تو جیسے یہ ایک وی آئی پی ہو اور کمپیوٹر روم میں جانے کے اپنے اصول وضوابط تھے۔ پورے کارخانے، ڈیپارٹمنٹ یا فیکٹری و دفتر میں ماحول کیسا بھی ہوباقی کسی دفتر میں ماحول جتنا بھی گرم ہو مگر کمپیوٹر روم کو ہر لحاظ سے وی آئی پی رکھا جاتا رہا۔ اور بات یہاں ختم نہیں ہوتی اس کو چلانے والے بھی بہت ہی خاص لوگ تھے اس زمانہ میںپہلے پہل تو افسروں کو کمپیوٹر استعمال کرنا تو درکنا اس کی الف بے بھی نہیں آتی تھی لہٰذا یہ کام ٹائیپ رائیڑ سے ایک درجہ زیادہ والے ماہرین یعنی سٹینوگرافر کے سپرد کیا گیا ، مگر میں اگر یہ کہوں کہ وہ بھی اپنے افسر کی طرح کمپیوٹر سے بہت دور تھا لہٰذا یہ نئی اور وی آئی پی ٹیکنالوجی کے استعمال بطور خاص ماہر لوگوں کی خدمات لی گئیں اور یوں کمپیوٹر آپریٹر کے سر یہ زمہ داری آن پڑی۔ دفتروں کے ماحول اور کام میں خاطر خواہ تبدیلی دیکھنے کو ملی’ کام تیز سے تیز تر ہونے لگا ۔آج کے تمام کے تمام سرکاری دفاترمیں اگر کمپیوٹر ابھی تک استعمال ہورہا ہے یا اچھی طرح استعمال ہورہا ہے تو یہ بھی انہی لوگوں کی محنت کا ثمر ہے۔
اتنا کچھ کرنے کے باوجود ان لوگوں کو وہ کچھ نہیں ملا کہ جس کی یہ کمپیوٹر آپریٹر وں کی اولین کھیپ حقدار تھی۔ اتنی ترقی کے باوجود گویا ان کی ترقی تو رک سی گئی ہے جس کے لئے انہیں باربار اور ہر حکومت سے مطالبات کرنے پڑتے ہیں ۔ ابھی موجودہ حکومت نے بھی نئی مالی سال میں سرکاری ملازمین کے لئے متعدد مراعات کا اعلان کیا ان میں انفارمیشن ٹیکنالوجی سے وابستہ ملازمین کے لئے صوبہ خیبر پختونخواکی حکومت نے پروفیشنل الائونس کا اعلان کیا ۔
دفتری نظام کی آٹومیشن کا بنیادی کام انہی کمپیوٹر آپریٹروں کی انتھک محنت سے ہی ممکن ہوسکا ہے اس کی سب سے بڑی مثال حالیہ وباء کے دوران قومی ادارہ برائے کمانڈ اینڈ کنٹرول کی طرف سے وفاقی حکومت کی روزمرہ صورتحال ‘ پورے ملک سے یومیہ ٹیسٹ، صحت یاب افراد کی تعداد ، جاں بحق ہونے والوں کی تعداد اور مثبت ٹیسٹوں کی شرح کے اعداد و شمار جو جاری ہوتے رہے وہ انہی کمپیوٹر آپریٹروں کی انتھک محنت کی وجہ سے ہی ممکن ہوسکا۔ یہی نہیں بلکہ ملک عزیز پاکستان میں ای ٹینڈرنگ ، ای ٹرانسفراور ای کامرس کے سارے کام بھی کمپیوٹر آپریٹر ہی کی مرہون منت ہے۔ اتنا سب کچھ کرتے ہوئے ہمارے کمپیوٹر آپریٹرز طرح طرح کی بیماریوں کا شکار ہوچکے ہیں ان میں سب سے بڑی بیماری کمپیوٹر کے مسلسل استعمال سے آنکھوں کی بیماریاں ہیں، سارے دن کی انتھک محنت سے جسمانی صحت کے مسائل سے بھی دوچار ہوتے ہیں اور کبھی کبھی بینائی جیسے قیمتی نعمت سے کمزوری کا شکار ہوجاتے ہیں۔صوبہ خیبر پختونخوا کی حکومت کو آئی ٹی پروفیشنلز الائونس کا نوٹی فیکشن جاری کرتے وقت ایسی بھول چوک ہوئی کہ سکیل17سے لیکر سکیل 20تک سب کو آئی ٹی پروفیشنلز الائونس دیا مگر جیسا کہ میں نے اوپر ذکر کیا کہ سب سے زیادہ محنت طلب کام یہ کمپیوٹر آپریٹر کرتے ہیں اور ان کا سکیل17سے نیچے ہے یوں اس نوٹیفیکیشن میں ان محنت کشوں کو سرے سے نظر انداز کردیا گیا۔ اپنے خلاف ہونے والے اس امتیازی سلوک پر صوبہ بھر کے کمپیوٹر آپریٹرز نے بھرپور احتجاج کیا اور اسی سلسلہ میں پشاور پریس کلب کے سامنے پرامن مظاہر ہ کرکے اپنا احتجاج ریکارڈ کروایا۔ اس احتجاج کے وقت ان مظاہرین نے بتایا کہ جب ہیلتھ پروفیشنل الائونس اور جوڈیشنل الائونس گریڈبارہ سے گریڈ بیس کے تمام ملازمین کو بلاتفریق دیا جاسکتا ہے تو پھر کمپیوٹرپروفیشنل الائونس میں یہ امتیازی سلوک کیوں کیا جاتا ہے اسے فوری طورپر دیگر الائونسز کی طرح سب کو یکساں طور پر دیا جائے ۔کیونکہ کمپیوٹر آپریٹروں میں بھی اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگ موجود ہیں لہٰذا ان کے لئے سروس سٹریکچر بناکر انہیں بھی ترقی کرنے کے مواقع فراہم کئے جائیں۔ توقع کی جانی چاہئے کہ حکومت اس سلسلے میں ہونے والی سہوسے جلد رجوع کرے گی اور کمپیوٹر آپریٹرز کو آئی ٹی پروفیشنلز الائونس کا حقدار ٹھہرائے گی جو اس کے یقیناً حقیقی حقدار ہیں۔