p613 394

مشرقیات

ایک ہفتہ قبل قتل کی ایک خوفناک واردات ہوئی اگرچہ قتل اب معمول کی واردات سمجھی جاتی ہے اور قتل کا مقدمہ درج کرتے ہوئے پولیس بھی ذرا نہیں ہچکچاتی لیکن قتل کے اس مقدمے میں چونکہ قاتل اور مقتول دونوں شہرت اور اثرورسوخ کے حامل تھے اس لئے میڈیا میں بھی اس قتل کو زیادہ سے زیادہ زیر بحث لایا گیا اس لئے یہ عام نوعیت کا قتل نہیں خاص نوعیت کا قتل ہے اس مقدمے میں اسلام آباد پولیس قانونی تقاضے مناسب طریقے سے پوری کر رہی ہے جو قابل ذکر بات ہے بابائے مشرقیات کا کہنا ہے کہ اس طرح کے واقعات کے بعد خاموشی بہتر ہوتی ہے یعنی مٹی پائو اس لئے قاتل اور مقتولہ بارے لب کشائی نہیں ہو سکتی ویسے بھی اسلامی طورپر بھی جب بندہ نہ رہے اور اس کا حساب کتاب بندوں سے آگے منتقل ہو جائے تو اس بارے اچھی بات ضرور کی جائے۔ ویسے بھی قابل اعتراض باتوں سے سوائے مردے کو تکلیف دینے اور ان کے لواحقین کی دل آزاری کے سوا حاصل کیا؟ ہر واقعے سے سیکھنے اور عبرت حاصل کرنے کی بہرحال ضرور ضرورت ہوتی ہے اسی طرح کے واقعات چشم کشا ہوتے ہیں اس واقعے کا حاصل یہ ہے کہ والدین اپنے بچوں کو اتنی آزادی نہ دیں کہ آزادی کے نام پر بربادی اختیار کرنے کی نوبت آئے ۔ دین اور اخلاق حدود و قیود اور راہ و رسم آزادی و بے باکی غرض سوچیں تو کئی چیزیں سامنے آئیں گیی سوچیں غور کریں اور اک گام احتیاط اور بس ۔ بگاڑ کی سیڑھی کا پہلا زینہ چڑھنے کی نوبت نہ آنے دی جائے ایک زینہ چڑھ گئی یا چڑھ گیا پھر واپسی کا راستہ نہیں آگے ہی آگے بڑھنا ہے جو دین’ مذہب ‘اخلاقیات ‘ معاشرہ اور والدین کسی کے لئے بھی ہر گز ہر گز قابل برداشت امر نہیں مگر پانی سر سے اونچا ہوجائے تو پھر ماہر سے ماہر شناور کوبھی ڈوب جانے والے کو نکالنے میں بڑی مشکل پیش آتی ہے محولہ واقعے میں کیا ہوا یہی نا کہ مرضی کرنے دی گئی مرضی کی جاتی رہی معاملات چلتے رہے اور بگاڑ آگیا جب بگاڑ کا مرحلہ آگیا تو پھر اپنے آپ میں ہونا مشکل ہوتا ہے اور پھر وہ ہوتا ہے جو ہوا۔ ہونی ہو کر رہتی ہے ہونی کو کوئی نہیں روک سکتا والدین کو اس واقعے کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے بچوں اور خاص طور پر بچیوں سے متعلق محتاط ہونا چاہئے والدین ناصحانہ اور دوستانہ رویہ اختیار کریں بچیوں پر شک نہیں ان پر مکمل اعتماد کریں البتہ ان پر کڑی نظر اس طرح ضرور رکھیں کہ بچے خاص طور پر بچیاں اسے محسوس نہ کر سکیں اور کسی منفی رد عمل یا والدین سے بدظن ہونے کی نوبت نہ آئے ۔ ان کی عزت نفس مجروح نہ ہو نوجوانی کی دہلیز پر بعض بچے نفسیاتی طور پر والدین کو اپنا دشمن سمجھنے لگتے ہیں رفتہ رفتہ ان کو سمجھ آجاتی ہے والدین کے لئے یہ دن سخت ہوتے ہیں خواہ کچھ بھی ہو والدین بچوں کو ایسی آزادی نہ دیں کہ اس آزادی میں وہ اپنا سب کچھ کھو دیں اور پھر زندگی بھر کھوئی ہوئی موتی تلاش کرتی پھریں جو ایک مرتبہ کھو جائے تو پھر کبھی بھی اور کسی بھی قیمت پر نہیں ملتی۔ درناسفتہ اگر سفتہ ہوجائے تو بات ختم اور بس۔