5 444

ذراسوچ سمجھ کر قدم بڑھائیے

افغانستان کے حالات روز بروز دگر گوں ہو رہے ہیں وہا ںکل کیا ہونے والا ہے اس بارے میں افغان حالات سے باخبر رہنے والے بھی لب نہیں کھولتے ، پاکستان اپنے اندرونی حالات و واقعات کی بناء پر ایک انتہائی نازک مو ڑ پر کھڑا ہے ان حالا ت میں پاکستان کسی کھڑا میں پڑ نہیں سکتا حالات بار بار تنبیہ کر رہے ہیں کہ ایسے حالات میں قومی ہم آہنگی لا زمی ہے صرف بیانا ت کے الجھا ؤ میں پڑ کر وقت گزاری بھی نہیں ہو سکتی اس بارے میں واضح اور دوٹوک پالیسی کی ضرورت ہے وزیر اعظم کا یہ موقف بالکل درست ہے کہ وہ طالبان پر محنت کر کے ان کو مذاکرات کی میز پر لائے جس کے نتیجے میں امریکی انخلا ء کا عمل روبہ عمل ہوا لیکن اس وقت جو حالا ت افغانستان میں جنم لے چکے ہیں اس میں پا کستان اس پو زیشن میں نہیں ہے کہ طالبان کو ایک مرتبہ پھر مذاکرات کی میز پرلا بٹھائے ۔ امریکا نے افغانستان سے نکلنے کے لیے اپنے لیے محفوظ راستے کا جنم پتا تولکھوا لیا مگر اپنی مسلط کردہ اشرف غنی کی حکومت کے مستقبل کو ایک انجا نے داؤ پر لگا کر چلتا بنا ۔ایسا کیو ں کیا گیا صرف اس لیے کہ امریکا افغانستان میں اپنی موجو دگی کا احسا س دنیا کو بارآور کر اکے افغانستان میں اپنی ضرورت کو لا زمی تسلیم کرا لے گویا امریکا کو ہنوز افغانستان سے اس کا دل ابھی بھرا نہیں ہے ۔چین اور امریکا کی پالیسوں میں بڑا فرق ہے امریکا اپنی دھو نس ٹھوکتا ہے اور چین مفاہمت کی راہ کے ذریعے راہ تلا ش کر تا ہے چنانچہ اسی عمدہ پالیسی کی بنا ء پر چین نے حال میں طالبان سے کامیا ب مذاکرات کیے ۔ اگر کسی کا یہ گما ن ہے کہ افغانستان میں کوئی بھی فیصلہ انتخابات کے ذریعے ہی ممکن ہے تو یہ خام خیالی ہے کہ افغانستا ن میں آج تک کوئی فیصلہ یا حکومت کی تشکیل ووٹ کے ذریعے نہیں ہوئی ہے جس کے پا س قوت ہوئی وہ ہی افغانستان کا حکمر ان بنا ایسے میں یہ پروپیگنڈہ کرنا کہ طالبان طاقت یا تشدد کے زور پر حکومت پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں ، ان معترضیں کے پا س کوئی ایسی دلیل ہے کہ امریکا نے افغانستان سے جا ن چھڑانے کے لیے طالبان ہی سے کیو ں مذاکرات کیے ، ان مذاکرات کی ایک ہی وجہ تھی کہ امریکا افغانستان کی تاریخ سے باخبر ہے کہ مذاکرات کی طاقت صرف طالبان کے پاس ہی ہے ورنہ وہاں داعش بھی تو سرگر م عمل ہے پھر خود اشرف غنی کی حکومت بھی ایک طا قت قرار پا تی ہے ، لیکن حقیقت اس کے برعکس تھی اسی لیے طالبان کے سامنے گھٹنے ٹیکے گئے ۔ اشرف غنی جو کل تک طالبان کو شدت پسند اور دہشت گرد قرار دے رہے تھے اور جب ان کی سمجھ میں یہ بات آگئی کہ وہ افغان قوت نہیں ہیں ان کی حثیت ایک کٹھ پتلی کی ہے تو انہو ں نے بھی طالبان کے سامنے دوزانوبیٹھنے کا فیصلہ کر لیا اور طالبان کو مذاکرات کی پیش کش کردی ہے کہ اشرف غنی حکومت طالبان کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیا ر ہے یہ ہی سلجھاہوا راستہ ہے ، افغانستان کی تاریخ یہ رہی ہے کہ وہاں حکومت ہمیشہ طاقت ور نے قائم کی ہے چاہے وہ بچہ سقا جیسا ہی شخص کیو ں نہ ہو یا رہے کہ بچہ سقا پہلے پشاور کے معروف علا قہ چوک یا د گا ر کے ایک چائے خانہ میں مزدور ی کیاکرتا تھا وہ بھی طاقت کے بل بوتے پر افغانستان کا حکمر ان بن بیٹھا تھا دوسر ا طریقہ افغانستان میں فیصلوں کے لیے ہے قومی جر گہ لہذا جو فیصلے جرگے کرتے ہیں وہ ہی روبہ عمل ہو تے ہیں اور پائیدار رہتے ہیں چنا نچہ اس وقت افغانستان کا اندرونی تنا زعہ طالبان یا اشرف غنی کی حکومت نہیں ہے روسی مداخلت کے وقت سے افغانستان کا انتظامی ڈھانچہ دھڑدیا گیا ہے جس کی وجہ سے آج افغانستان کو ایسی صور ت حال سے دوچار ہو نا پڑرہا ہے ، اس کے علاوہ ان حالات کی ذمہ داری اکیلے امریکا پر ہی نہیں ڈالی جا سکتی امریکا کے ساتھ ساتھ دوسری مغربی قوتیں ہیں جو افغان عوام کی سوچ کے برعکس اپنی مر ضی کا نظام افغانستان پر تھو پ دینا چاہتی ہیں جبکہ اس سے ان قوتوں کو کوئی علا قہ نہیں ہے مغرب میں رنگ برنگ نظام مملکت رائج ہیں مگر کسی ایشیاء ملک یا اسلامی ملک نے ان کے نظام کے بارے میں کسی قسم کی مداخلت نہیں کی مگر تاریخ گواہ ہے کہ استعماری قوتیں خاص طور پر اس مشن پر عمل پیر ا ہیں کہ چاہے کوئی ریاست مسلمانوں کی اکثریتی ہو یا نہ ہو وہ کسی صورت وہاں اسلامی مملکت قائم نہیں ہو نے دیں گے طالبان سے بھی وہ اسی بناء پر خائف ہیں کہ وہ یہ یقین رکھتے ہیں کہ طالبان اقتدار پر قابض ہو کر افغانستان کا اسلا می کلچر بحال کردیں گے ،چنانچہ ایک منظم سوچ کے مطابق اشرف غنی کو طالبان سے الجھنے کے لیے چھو ڑدیا گیا کیا امریکا کو معلو م نہ تھا کہ وہ جب طالبان کے ساتھ جنم پتا لکھ رہے تھے اس وقت ان کو اشرف غنی یا د کیو ں نہیں رہا اس کے لیے بھی کوئی راستہ ان مذاکرات میں تلاش کر دیتے ، اب کہتے ہیں کہ افغانستان کے اندرونی تنازعہ کا حل وہا ں انتخابات کے ذریعے ہی ممکن ہے ، کیا وہ یہ بھول بیٹھے ہیں کہ دنیا میں جتنے بھی اسلا می ممالک ہیں کیا وہا ں شفاف انتخابات کا انعقاد ممکن ہو ا ہے جبکہ عالمی اسٹبلشمنٹ کی مداخلت بھی کار فرما ہو ، چین نے طالبان کو افغانستان کی ایک سیاسی قوت جانا چنانچہ اس نے درست طریقہ کا ر اختیا ر کیا ورنہ وہ بھی خطے میں اپنے مفادات کے لیے امریکی طرز کی پالیسی اختیار کر سکتا تھا اور طالبان کو امریکا کی طرح جنگجو قرار دے سکتا تھا ، طالبان خود بھی اشرف غنی سے مذاکرات کے لیے تیا ر ہیں وہ بھی خون خرابہ نہیں چاہتے ہیں اس وقت مسئلہ ایک ہی ہے کہ اشرف غنی اور طالبان کو ایک میز پر کس طرح لا یا جا ئے اس بارے میں افغانستان کے پڑوسی کردار ادا کرسکتے ہیں خاص طورپر پاکستان اس پیش رفت کے اہم ترین کردار ادا کرسکتا ہے لیکن اشرف غنی کی حکومت کے فکر وافکا ر نے پاکستان سے خود کو پر ے کرلیا ہے ان کے مشیر سقوط ڈھاکا کی تصویر تو جاری کرتے ہیں لیکن وہ اپنے بھگوڑوں کی تصاویر ملفوف رکھے ہوئے ہیں کہ کس طرح طالبان سے شکست سے دوچار ہو کر پاکستان سے پنا ہ کی استدعا کرتے ہیں ۔