1 569

مینٹل ہیلتھ کے حوالے سے اقدامات

آئین پاکستان میں اٹھارویں ترمیم کے بعد” صحت” صوبائی ڈومین کا حصہ بن گئی ، اس کے بعد صوبائی اسمبلیوں نے اس معاملے میں ضروری قانون سازی کی، اس کے بعد صحت سے متعلق2001 میں پاس کئے گئے ذہنی نشو نما آرڈیننس2001اور معذور افراد (ملازمت اور بحالی)آرڈیننس 1981کو بھی اٹھارویں ترمیم کا حصہ بنایا گیا،سندھ اور پنجاب میں مینٹل ہیلتھ کے حوالے سے ایک ابتدائی قانون سازی کا فریم ورک موجود ہے جبکہ چاروں صوبوں اور وفاق کی سطح پر ایسے قانون نافذ کیے ہیں جو معذور افرادکے حقوق کے حوالے سے بنائے گئے،ان قوانین میں معذور افراد (روزگار اور بحالی (ترمیمی)ایکٹ ، 2012)پنجاب، سندھ امپاورمین آف پرسنز معذور ایکٹ ، 2018، بلوچستان پرسنز ڈس ایبل ایکٹ 2017، خیبر پختونخواہ میں معذور افراد(روزگار اور بحالی(ترمیمی)ایکٹ ، 2012، اور آئی سی ٹی رائٹس آف پرسنس آف ڈس ایبلٹی ایکٹ ، 2020شامل ہیں، ”معذور شخص”کی تعریف صوبائی قوانین میں مختلف ہوتی ہے ، ذہنی معذوری کی تعریف معالجین نے اپنے اپنے طور پر کچھ پوائنٹس کی نشاندہی کر کے کی ہے جس میں یہ علامات اتنی شدید ہوجاتی ہیں کہ وہ ذہنی عارضہ یا بیماری بن جاتی ہے، روایتی طور پر ذہنی طور پر معذور شخص کو ذہنی معذور تسلیم کرنے کے لئے مختلف ذہنی امراض کی وضاحت کی گئی ہے، جو کہ ذہنی دبائو کے باعث عدم توازن کی وجہ بنتا ہے،ذہنی معذوری کے حوالے سے 2017میں ڈچ ماہر نفسیات ڈینی بورس بووم نے ایک بہت اہم نظریہ متعارف کرایا، ذہنی عارضے کی نیٹ ورک تھیوری( ٹرپل نیٹ ورک ماڈل) کے مطابق ایک واقعہ ذہنی معذوری کا محرک ثابت ہوسکتا ہے ،لہٰذا اچھی ذہنی صحت کو یقینی بنانے کیلئے لوگوں کو اپنے حالات کے تناظر میں درپیش دبا ئوسے نمٹنے کیلئے ایک کثیر الجہتی نقطہ نظر کا حامل ہونا ضروری ہے ،عام طور پر ذہنی معذوری کو ایسی نفسیاتی الجھنوںکے طور پر ڈسکس کیا جاتا ہے جن کے باعث مستقل ادویات کے استعمال کی ضرورت پڑتی ہے جو ایسے افراد کے لئے پریشانی کا باعث بنتی ہیں، ایک مشہور ماہر نفسیات اور کتاب” لوزنگ آف مائنڈ” کے مصنف ڈاکٹر لوسی فولکس کے مطابق کچھ نفسیاتی تجربات اتنے پریشان کن اور تکلیف دہ ہیں کہ ذہنی بیماری کا باعث ہوسکتے ہیں،برطانیہ میں” مساوات ایکٹ 2010 کے تحت ، اگر کوئی شخص ذ ہنی الجھنوں کا شکار ہو اور اس کے روز مرہ کاموں کی انجام دہی کی سرگرمیاں اس پر طویل المدتی منفی
اثر ڈالیں تو اسے” ذہنی مریض” سمجھا جاتا ہے، یہ قانون جسمانی یا ذہنی معذوری کا شکار فرد کو معاشرے میں امتیازی سلوک کے بغیر اس کی درجہ بندی اور اسے معاشرے کا مفید شہری بنانے کیلئے زندگی کے تمام شعبوں میں حصہ لینے کا حق دیتا ہے،مساوی معاشرے کی تشکیل کے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ہر فرد جو کہ مختلف حالات کا شکار ہے ان کو مساوی اور منصفانہ مواقع کی فراہمی کو یقینی بنانے کیلئے وسائل کے مطابق مواقع مختص کیے جائیں، اعلی عدلیہ نے معذور افراد کو روزگار کوٹے پر ہونے والی بحث میں اس تصور کی تائیدکی ہے، عدلیہ کے مشاہدے میں یہ بات آئی کہ کوٹہ سسٹم کے ذریعہ معذور افراد کو لازمی ملازمت کی فراہمی تصویر کا ایک رخ ہے جبکہ انفراسٹرکچر، رسائی ، مدد اور سہولیات کی فراہمی تصویر کا دوسرا رخ ہے ، زبان تمام تر کوششوں میں ” سنٹرل”حیثیت کی حامل ہوتی ہے ، ہماری اعلی عدالتوں نے موجودہ قانون سازی اور پاکستان کی بین الاقوامی ذمہ داریوں کے پیش نظر حالیہ دنوں میں معذور افراد کے حقوق سے متعلق اقوام متحدہ کے کنونشن میں شمولیت سمیت” معذوری ”کے موضوع کا جامع احاطہ کیا ہے، لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کی حیثیت سے جسٹس منصور علی شاہ نے” معذور افراد” کو مخاطب کرنے کے لئے استعمال ہونے والی اصطلاحات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ”معذوری وہ ہوتی ہے جو کسی میں ہوتی ہے لیکن وہ خود معذور نہیں ہوتا، معذوری ایک اصطلاح ہے ، جس میں ذہنی عارضے کے حامل شخص کو معاشرتی سرگرمیوں کی انجام دہی کے حوالے سے مخصوص ذمہ داریوں سے مبرا رکھا جا سکتا ہے،جسٹس منصور علی شاہ نے معذور افراد سے خطاب کرتے وقت واضح کہا کہ ”معذور”جسمانی طور پر معذوراور ”ذہنی طور پر معذور”جیسے الفاظ گہری چوٹ اور لوگوں کا وقار مجروح کرتے ہیں، پاکستان نے نیشنل مینٹل ہیلتھ چیلنجز سے نمٹنے کیلئے پاکستان نے ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن(ڈبلیو ایچ او) کے مینٹل ہیلتھ ایکشن پلان 2013-20 پر عمل درآمد کا اعادہ کیا،تاہم ڈبلیو ایچ او کے عملی منصوبے کے اہداف کے حصول میں حکومتی سطح پر کچھ زیادہ پیشرفت نہیں ہو سکی ہے ، وفاقی وزارت منصوبہ بندی نے حال ہی میں یونیسف کے مالی تعاون سے ذہنی نشو نما اور سائیکلوجیکل سپورٹ (MHPSS) پروگرام شروع کیا ہے ۔( بشکریہ دی نیوز،ترجمہ: واجد اقبال)