2 550

ایک گمشدہ کتے کی سرگزشت

مقام شکر ہے کہ بالآخر دو روز کی”انتھک” دوڑ دھوپ کے بعد کمشنر گوجرانوالہ کا کتا بازیاب ہو گیا بے چارہ بے زبان جانور تھا کسی سے اپنی فریاد بھی نہیں کر سکتا تھا کہ وہ جو کھو گیا ہے ‘ وہ یہی تو ہے ‘ وگرنہ تو یہاں ایک عرصے سے لوگ گم ہو جاتے ہیں ‘ منہ میں زبان بھی رکھتے ہیں یعنی کوئی پوچھے کہ مدعا کیا ہے ؟ بہر حال اس صورتحال پر ایک وی لاگر سینئر صحافی نے ”شکرونڈاں اے” کا ٹویٹ کیا ہے ‘جبکہ ٹویٹر پر ہی ایک اور تبصرہ ”بریکنگ” کے ٹرینڈ کے ساتھ یہ آیا ہے کہ ”سرچ آپریشن کے بعد کمشنر گوجرانوالہ کا کتا دو روز بعد مل گیا ‘ ملازمین خوشی سے نہال ‘ گوجرانوالہ میں جشن کا سماں”۔ ملازمین نہال کیوں نہ ہوں کہ بے چارے گزشتہ دو روز سے سارے کام چھوڑ چھاڑ کر پورے شہر میں منادی کرتے پھر رہے تھے ‘ یہی تو ملازمین کے نہال ہونے اور ساکنان شہر نے جشن منانا شروع کر دیا ‘ کہ اس انعام کے ملنے سے زیادہ خوشی توکتے کے بازیاب ہونے کی تھی کیونکہ سب کی جان ہتھیلی پر والا محاورہ سارے شہر کو یاد آرہا تھا جس کو خوشدلی سے قبول کرنے کی کسی میں ہمت نہیں تھی بلکہ بادل ناخواستہ یہ ”قربانی” دینے پر مجبور ہو رہے تھے ‘ اس لئے کتے کے ملنے کی خوشی سے شہر بھر میں جشن کا سماں پیدا ہونا فطری امر تھا کہ جان بچی تو لاکھوں پائے ‘ البتہ جہاں تک گمشدہ کا تعلق ہے وہ اپنے لئے پورے شہر کے ”امتحان” سے دو چار ہونے کی صورتحال سے بے خبر شہر کے چند بچوں کے ساتھ گلیوں میں آوارہ کتوں کی طرح اٹھکیلیاں کرتا پھر رہا تھا ‘ حالانکہ جتنی فکر مالکان کو اس کے بارے میں ہو رہی تھی اس سے تو یہی اندازہ ہوتا ہے کہ یہ کوئی ایرا غیرا نتھو خیرا قسم کا کتا نہیں تھا ‘ جس کو مشہور مصنف مرحوم ابن صفی نے اپنی کتابوں یعنی عمران سیریز میں اپنے مشہور زمانہ کردار علی عمران عرف ایکس ٹو کے الفاظ میں پینڈی ڈاگ کا نام دیا ہے ‘ جس سے مراد وہی ہمارے ہاں گلیوں میں آوارہ پھرنے اور ہر آنے جانے والے پر بلاوجہ اور بلا ضرورت بھونکنے
والے کتے ہیں ‘ بلکہ جتنی تشویش اس کتے کے بارے میں گوجرانوالہ بھر میں پائی جارہی تھی اس سے تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ یقیناً یہ کسی اعلیٰ نسل کا کتا ہے جسے ہر قسم کی سہولت اور عیش و آرام میسر ہوگا تو پھر تحقیق اب ان خطوط پر بھی کی جانی چاہئے کہ عام پاکستانیوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ سہولتوں کی موجود کے باوجود اس ناہنجار نے گھر سے قدم باہر کیوں نکالا؟ یعنی کیا ایوبی آمریت کے دور میں وہ جودو کتے بارڈر پر ایک لطیفہ تخلیق کرنے کا باعث بنے تھے اور لطیفہ ایک عرصے تک دھوم مچاتا رہا تھا اور جس میں سامنے سے ایک لاغر ‘ بیمار اور ہڈیوں کاڈھانچہ قسم کا کتا اپنی سرزمین چھوڑ کر ہمارے ہاں آنا چاہتا تھا ‘ یہاں کے ایک فربہ ‘ تروتازہ اور بظاہر خوشحال کتے کو دوسری جانب بھاگتے دیکھا تو روک کر پوچھا ‘ خیریت؟ میں تو بھوک سے پریشان ہو کر تمہارے ہاں آیا ہوں ‘ اتنی اچھی خوراک میسر ہونے کے باوجود وہاں جارہے ہو جہاں پہلے ہی جنتا بھوک سے پریشان ہے’؟ ادھر والے کتے نے جواب دیا ‘ تم ٹھیک کہتے ہو ‘ ہمارے ہاں سب کچھ وافر مقدار میں ہے مگر یار کیا کروں بھونکنے کی اجازت نہیں ہے”۔ تب تو خیر صورتحال یہی تھی کہ ہمارے ہاں ہمسایہ کی نسبت سب کچھ تھا ‘ اپنی محنت کا اگر اس میں کوئی عمل دخل نہیں تھا تو سام کے پی ایل 480 معاہدے کے تحت گندم ‘ دیسی گھی ‘ خشک دودھ کے ڈبوں کی وافر مقدار بڈھ بیر کے ہوائی اڈے کی سہولت فراہم کرنے کے بدلے مل جایا کرتی تھی ‘ اب اگرچہ صورتحال میں تذویراتی تبدیلی ہمارے سامنے ہے اور کتوں کو تو رکھئے ایک طرف عام عوام بے چارے غربت کی لکیر کی دوسری جانب رواں دواں ہیں ‘ اور پتہ نہیں چلتا اس طرف کون ہیں اور اس جانب کون چلا گیا ہے یعنی بقول شاہد ذکی
وہ جواس پار ہیں ‘ اس پار مجھے جانتے ہیں
یہ جو اس پار ہیں ‘ اس پار سمجھتے ہیں مجھے
بہر کیف ‘ معلوم تو کرنا پڑے گا کہ عام لوگوں کی نسبت نازو نعم میں پلنے اور ہر قسم کی سہولیات سے بھر پور استفادہ کرنے والے اس بے وقوف کتے کو کیا مسئلہ ہے کہیں ایسا تو نہیں کہ اس کا تعلق بھی ایوبی آمریت والے دور کے اس خوشحال کتے کی نسل سے ہو جسے یوں تو سب کچھ میسر تھا بس ذرا ”بھونکنے” کی آزادی نہیں تھی ۔ اگرچہ اسی زمانے میں فیض احمد فیض نے اسی کی نسل کے”کتوں” کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ
بول کہ لب آزاد ہیں تیرے
بول زباں اب تک تیری ہے
مگر وہ تو اس نسل سے تعلق رکھتے تھے جن کے لئے ایک اور جگہ یہ بھی کہا تھا کہ
یہ گلیوں کے آوارہ بے کار کتے
جنہیں تونے بخشا ہے ذوق گدائی
مگر ہمارے اس خیال کا کوئی ثبوت ملنے کا کوئی امکان نہیں ہے کہ وہ جو کتا تھا جسے بھونکنے کی آزادی نہیں تھی اور وہ صرف اچھی خوراک سے مطمئن نہیں تھا وہ تو بقول ابن صفی پینڈی ڈاگ یعنی گلیوں کا بے کار آوارہ کتا تھا ‘ جبکہ زیر تذکرہ کتا کسی اچھی نسل کا ہی ہوسکتا ہے اور خاصا مہنگا ہوگا یا پھر تحفے میں ملا ہو گا ‘ ایک بار ایک مغربی سفارتکار کاتبادلہ ہمارے جیسے ترقی پذیر ملک میں ہوا’ توجہاں وہ پہلے تعینات تھا اس ملک کے سربراہ نے الوداعی ملاقات کے موقع پراسے ایک اعلیٰ نسل کا کتیا تحفے میں دیتے ہوئے اس کتیا کے نسل کی پوری تاریخ بتا دی تھی ‘ سفیر بہت ممنون ہوا ‘ اورکتیا کو لے کر نئی پوسٹنگ پر آگیا ‘ جبکہ کتیا کی دیکھ بھال کے لئے الگ سے نوکر رکھ لیا کتیا ہمسائے کے گھر سفارتکاروں کے بنگلوں میں ان کے کتوں کے ساتھ کھیلتی رہتی ‘ مگر ایک روز اچانک ایسی غائب ہوئی کہ ڈھونڈے سے نہیں مل رہی تھی ‘ سفیر کوبڑی تشویش لاحق ہوئی اور ملازمین کو ادھر ادھر دوڑا دیا ‘ بڑی دیر کے بعد کتیا ملی بھی تو۔۔۔۔ اس کے بعد چونکہ کہانی میں ایک ٹویسٹ آتا ہے اس لئے خوف فساد خلق آڑے آرہا ہے۔