3 450

ہم ناشکرے ہیں

اس دنیا کی خوبصورت اورنعمتوں سے بھری تخلیق انسانوں کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے بہت بڑی نعمت ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے اس حوالے سے انسانیت کو یہ اصول بھی دیا ہے کہ انفرادی اور اجتماعی سطح پر جوبھی جتنی زیادہ اللہ تعالیٰ کی دی گئی نعمتوں کا شکرادا کرے گا۔ اس میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس شکران نعمت سے زیادہ نعمتیں عطا کی جائینگی۔لیکن ا نسان بحیثیت مجموعی ناشکرا ہے ۔اللہ تعالیٰ نے اپنے پاک کلام میں”بے شک ا نسان اپنے رب کا ناشکرا ہے” کی صورت میں اس پر مہر ثبت فرمائی ہے ۔اللہ تعالیٰ کے پیغمبرۖ ‘ صحابہ کرام ‘ اولیا اللہ البتہ اس سے مستثنیٰ ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے کلام مجید کی سورہ الانفال آیت نمبر 26 میں جو خطاب اس مبارک زمانے کے لوگوں سے فرمایا تھا ‘ وہ پاکستان کے قیام اور پاکستانیوں پر اسی طرح منطبق ہوتا ہے ۔”یاد کرو وہ وقت جب تم زمین میں(تعداد کے لحاظ سے ) کم اور کمزور تھے اور تم ڈرتے تھے کہ لوگ تمہیں اچک کر نہ لے جائیں ۔ پھر(اللہ تعالیٰ) نے تمہیں(مدینہ طیبہ) میں پناہ دیدی اور اپنی مدد سے تمہیں قوت دی اور پاک چیزوں سے رزق دیا تاکہ تم شکرگزار بنو”۔
صحابہ کرام نے ان نعمتوں کا خوب خوب شکرادا کیا تو اس کے نتیجے میں ان کے دین اور حکومت تین براعظموں پر پھیلا دیا پھر ایک طویل مدت(تقریباً 1000سال) تک دنیا پر مسلمانوں کا غلبہ اور حکومت رہی۔ لیکن عباسیوں اور پھرعثمانیوں اور مابعد برصغیر میں مغلوں نے وہ ناشکریاں کیں کہ جہاں ترکی میں آخری عثمانی خلیفہ’ صوصو آفندی یہودی اور کمال اتاترک کے ہاتھوں ہاتھوں ذلیل و رسوا ہو کر خلافت عثمانی کے اختتام کا سبب بنا وہاں عظیم مغل سلطنت کا آخری چشم و چراغ بہادر شاہ ظفر رنگون میں ایک انگریز کپتان کے گیراج میں دو ڈھائی برس دیار غیر میں گزار کر بہت ہی کسمپرسی کی حالت میں اس دنیا سے اپنی آخری فریاد”دو گز زمین بھی نہ ملی کوئے یار میںکہتا ہوا رخصت ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے
مسلمانان برصغیر پر اس حال میں کہ ایک طرف برطانیہ جیسا استعمار تھا ‘ دوسری ہندو قوم کی اکثریت اور تیسری طرف جاگیرداروں اور قوم پرستوں کی مخالفت ۔مسلمانان ہند 1857ء کی جنگ آزادی کے بعد متذکرہ بالا خوف کاشکار ہو چکے تھے ۔ اللہ تعالیٰ نے اس زمانے میں مذہبی و سیاسی میدان میں بہترین قیادت کے ذریعے مسلمانان ہند کی اکثریتی علاقوں کوپاکستان جیسی عظیم نعمت میں تبدیل کرکے بطور معجزہ عطا فرمایا۔ پاکستان کے ابتدائی عشروں کے حالات کے چشم دید گواہ پاکستان کے چاروں صوبوں میں موجود ہیں۔ تاریخ کی کتابوں اور اپنے بزرگوں سے شنیدہ واقعات و حالات کو یاد کرکے سوچتا ہوں کہ ہمارے ان بزرگوں نے صرف قیام پاکستان پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا تو بہت جلد حالات تبدیل ہونا شروع ہوئے ورنہ حالت یہ تھی کہ زندگی کی اشد و بنیادی ضرورت کے چار پانچ شعبوں کا سرسری ذکر کرکے آج کی نئی نسلوں کو یاد دلانا چاہوں گا کہ تم لوگوں پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا کتنی شدت کے ساتھ واجب ہے ۔ قیام پاکستان کے ابتدائی دو عشروں تک تعلیم کے حوالے سے حالت یہ تھی کہ تحصیل کی سطح پر چند ایک پرائمری اور مڈل وہائی سکول ایک دوسرے سے میلوں کے فاصلے پر ہوا کرتے تھے ۔ طلباء رومال میں روٹیاں باندھ کر بلا مبالغہ روزانہ پانچ سات کلو میٹر فاصلہ طے کرکے آیا جایا کرتے تھے ۔ ہائی سکولوں تک میں کلاس رومز میں آٹھویں ‘ نہم اور دہم جماعت کے طلباء کے لئے کچھ بینچ اور ڈیسک ہوا کرتے تھے جبکہ باقی طلباء زمین پر ٹاٹ پر بیٹھا کرتے تھے ۔ کالج تو کہیں دو تین ضلعوں کے درمیانی علاقوں میں ہوتے تھے جس سے اس سارے علاقے کے طلباء استفادہ کرتے تھے ۔ آج ا لحمد للہ! ہر ضلع میں دو یونیورسٹیاں ہیں۔ ہسپتالوں کا حال یہ تھا کہ ڈویژن کی سطح پر کہیں ایک آدھ ہسپتال ہوا کرتا تھا جس تک بہت کم لوگوں کی رسائی ہوتی تھی ‘ باقی آبادی حکیموں ‘ عطائیوں اور خود کردہ علاج کے حوالے تھی۔ آج الحمد للہ ویلج کونسل ‘ تحصیل ہیڈ کوارٹر اور ضلعی سطح پر بڑے بڑے ہسپتال اور پرائیویٹ سیکٹر میں ڈاکٹروں اور ہسپتالوں کی دیہاتوں تک بہتات ہے ۔
ذرائع حمل ونقل کا حال بھی یہی تھا کہ لوگ پشاور سے اپنے آبائی علاقوں تک پہنچنے میں دس دس گھنٹے صرف کرتے تھے ۔ آج لوگوں کی اکثریت کے پاس اپنی گاڑیاں ورنہ موٹر سائیکل توگھر گھر میں موجود ہے آج کپڑوں کی بہتات ہے ‘ سات آٹھ سو روپوں میں کپڑوں کا جوڑا دستیاب ہے جبکہ اس زمانے میں ایک دو جوڑے یہ سال بھر کے لئے میسر ہوتے تھے ۔ عام لوگ نئے کپڑے عید الفطر اور شادی بیاہ وغیرہ ہی پر لے سکتے تھے پھل خواص کو میسرتھا۔ غریب لوگ کہیں اپنی کھیت میں موجود موسمی پھل چکھ لیتے ورنہ بازارسے خریدنا ان کے بس میں نہ تھا۔ آج پاکستان کے بازاروں میں ریڑھیوں پر بے موسم پھلوں کے انبار لگے ہوتے ہیں۔ الحمد اللہ ! آج تک کوئی پاکستانی بھوک اور فاقہ سے موت کا شکار نہیں ہوا لیکن پھر ہمارے ہاں عوام و خواص بالخصوص صبح و شام پاکستان میں مہنگائی ‘ بدحالی اور دیگر مسائل کا رونا روتے ہوئے ا للہ تعالیٰ کی ناشکری کا سبب بنے ہوئے ہیں۔ اب بھی پاکستان کے ارد گرد ملکوں میں جا کر دیکھیں بھارت میں غربت کا جو حال ہے وہاں ممبئی جیسے بڑے شہر کے فٹ پاتھوں پر بسنے والی آبادی کا حال دیکھیں گے تو وطن عزیز کی صبح و شام دیکھنے والے کہیں گے الحمد للہ!پاکستان مملکت خداداد ہے اس کے خلاف اس وقت شدید ہائبرڈ وار کے ذریعے شدید پروپیگنڈہ جاری ہے لہٰذا ان پر کان نہ دھریں بلکہ جو کچھ میسر ہے اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں ۔ اللہ تعالیٰ عنقریب نعمتوں میں اورا ضافہ فرمائے گا۔
صد شکر کہ افلاس کی یلغار کے ہاتھوں
فاقہ کہیں توہین ہنر تک نہیں پہنچا