4 430

آزادکشمیر میں دھاندلی کا رونا دھونا

اتوار کو آزادکشمیر قانون ساز اسمبلی کے انتخابات مجموعی طور پر پرامن ماحول میں ہوئے ۔چڑھوئی اور باغ کے ناخوش گوار واقعات نہ ہوتے تو یہ ایک مثالی الیکشن ہو سکتا تھا مگر اس کا کیا کیجئے طاقت کو مٹھی میں بند رکھنے کی سوچ ردعمل کو جنم دیتی ہے اور جونہی طاقت ہاتھوں سے پھسلتی محسوس ہو تو لوگ تشدد پر اُتر آتے ہیں ۔ان انتخابات میں آزادکشمیر کے دوجماعتی سسٹم کے خیمے میں اونٹ کی طرح سر دینے والے فریق نے خیمے میں داخل ہو کر خیمہ سر پر اُٹھانے میں کامیابی حاصل کر لی ۔مسلم کانفرنس اور پیپلزپارٹی کے گرد گھومنے والے دو جماعتی نظام کے خیمے میں پہلی بار مسلم لیگ نے بھی سر دیا تھا مگر اس نے ایک فریق یعنی مسلم کانفرنس کو ہی ہضم کرکے دوسرے فریق کی جگہ سنبھالی تھی ۔اس کے برعکس پی ٹی آئی نے دونوں جماعتوں کو پرے پرے دھکیل کر ان کے درمیان تیسرے فریق کے طور پر اپنی جگہ بنالی ہے ۔پی ٹی آئی نے ان انتخابات میں پچیس ،پیپلزپارٹی نے دس مسلم لیگ ن نے چھ ،مسلم کانفرنس اور جموں وکشمیر پی پی نے ایک ایک نشست حاصل کرلی ۔اس طرح پی ٹی آئی سادہ اکثریت سے کچھ زیادہ سیٹیں لے کر اب حکومت سازی کے لئے رنگ میں اُتررہی ہے ۔ ان انتخابات میں عوام نے آزادکشمیر کی کسی بھی قد آور سیاسی شخصیت کو اسمبلی سے باہر نہ رکھ کر روادی کا بھرپور مظاہرہ کیا ۔سابق وزرائے اعظم بیرسڑسلطان محمود چوہدری ،سردارعتیق احمد خان ،سردار یعقوب خان ،موجودہ وزیر اعظم راجہ فاروق حید ر۔ایک موجودہ سپیکر شاہ غلام قادر اور سابق سپیکر انوار الحق بھی کامیاب ہونے والوں میں شامل ہیں ۔پیپلزپارٹی کے صدر چوہدری لطیف اکبر جنرل سیکرٹری جنرل فیصل راٹھور ،پی ٹی آئی کے صدر بیر سٹر سلطان محموداور جنرل سیکرٹری عبدالماجد خان مسلم لیگ ن کے صدر راجہ فاروق حیدر اور جنرل سیکرٹری شاہ غلام قادر کی صورت تین بڑی جماعتوں کی تنظیمی نمائندگی بھی اسمبلی میں موجود ہے ۔تمام کامیاب امیدواروں کے نوٹیفکیشن سرکاری طور پر جاری ہونے کے بعد مخصوص نشستوں کے لئے انتخاب ہوگا جس کے بعد قائد ایوان اور سپیکر وڈپٹی سپیکر کے انتخابات کا مرحلہ آئے گا۔اس طرح مسلم لیگ ن کی طرح اپنے قیام کے بعد دوسرے الیکشن میں پی ٹی آئی حکمران جماعت بننے میں کامیاب ہو گئی۔انتخابات کے بعد آزادکشمیر کی حالت زار کے باعث نئی حکومت کو پہاڑ جیسے مسائل کا سامنا ہو گا ۔یہ حقیقت میں تنی ہوئی رسی پر سفر کا آغاز ہوگا۔آزادکشمیر میں تعمیر وترقی اور گورننس کو بہتر بنانے اور احتساب وجواب دہی کا اصول لاگو کرنا حکومت کے لئے ایک بڑا چیلنج ہے ۔آزادکشمیر کی بیوروکریسی اور کلرک شاہی اور پٹواری نظام ایک خود سر اور بے لگام گھوڑا بن کر رہ گیا ہے۔یہ گھوڑ ا پی ٹی آئی کی نوآموز حکومت کو پہلی فرصت میں پٹخنی دینے کی کوشش کرے گا کیونکہ اسے سوار کابوجھ اُٹھانے کی عادت نہیں رہی۔ایسے میں حکومت کو بصیرت احتیاط دانش اور تجربے وتحمل کی قدم قدم پر ضرورت ہوگی ۔عوام کا مزاج اور موڈ بدلتے دیر نہیں لگتی اور موسموں کے بدلنے میں زیادہ وقت نہیں لگتا ۔ یہ بات پیش نظر رہنی چاہئے کہ پانچ سال پہلے جن امیدوں اور ارمانوں کے ساتھ آزادکشمیر کے عوام نے مسلم لیگ ن کو اقتدار کے سنگھاسن پر بٹھایا تھا انہی عوام نے بڑی توقعات کے ساتھ پی ٹی آئی کو اپنے مقدر او رمستقبل کی باگیں تھمائی ہیں۔ آزادکشمیر کے انتخابات کے بعد ہارنے والی جماعتوں نے دھاندلی کا روایتی منترا پڑھنا شروع کیا ہے ۔روایتی الزام تراشی کی حد تک تو یہ بات چل جائے گی مگر اس سے بڑھ کر کوئی اور احتجاج یا دھرنا اس معاملے میں تجاوز ہی شمار ہوگا۔آزادکشمیر کے انتخابی نتائج توقعات کے عین مطابق برآمدہوئے ۔انتخابی مہم کے آغاز کے وقت مختلف امیدواروں کے درمیان مقابلے کی جو تصویر بن رہی تھی آخری روز تک منظر نامہ اس کے عین مطابق رہا اور انتخابی نتائج بھی اس کے عین مطابق آئے ۔صاف نظر آرہا تھا کہ آزادکشمیر کے انتخابی نتائج ماضی کی اس مضبوط روایت اور فارمولے کے عین مطابق رہیں گے کہ” جس کی حکومت اسلام آباد میں اسی کی مظفرآباد میں”۔انتخابی نتائج سے پتا چلتا ہے کہ یہ فارمولہ ہی آزادکشمیر کی عین زمینی حقیقت رہا اور سارا منظر اسی روایتی فارمولے کے عین مطابق رہا ۔آزادکشمیر کے عوام نے بھی اسی فارمولے کے تحت اپنا مزاج اور موڈ بھی ٹیون کیا ۔اس منظر کو جوشیلی تقریریں بدل سکتی ہیں نہ ترقیاتی سکیمیں اور فنڈز اور نہ کسی شخصیت کا مصنوعی سحر اور امیج اور نہ ہی ماضی کے ترقیاتی کام ۔ترقیاتی کاموں کی بنیاد پر اگر کامیابی حاصل ہوتیں توآزادکشمیر کو کئی میگا پروجیکٹس اور اچھی سڑکیں اور میڈیکل کالجز دینے والی پیپلزپارٹی 2016کے انتخابات میں مسلم لیگ ن کے ہاتھوں شکست سے دوچار نہ ہوتی۔اس لئے آزادکشمیر کے عوام بہت عملیت پسنداور خد اپرست ہیں ۔وہ سیاست دانوں کو بت بنا کر ان کی پرستش پر یقین نہیں رکھتے ۔اس لئے ہر الیکشن میں وہ اپنے معروضی حقائق کی بنیاد پر فیصلہ صادر کرتے ہیں کبھی محض نو دس ماہ بعد ہی ان کی سوچ بدل جاتی ہے جیسا کہ ماضی میں ایک بار ہوا تھا جب 1990میں آزادکشمیر کے انتخابات میں پیپلز پارٹی نے میدان ماراور 1991میں مسلم کانفرنس فاتح ٹھہری ۔اس کی وجہ یہ تھی مرکز میں پیپلزپارٹی کی جگہ مسلم لیگ کی حکومت قائم ہو چکی تھی۔اس حقیقت پسندی کو کوئی نام دینا قطعی قرین انصاف نہیں۔اب جو لوگ دھاندلی کا رونا رورہے ہیں وہ حقائق کو مسخ کررہے ہیں ۔اگر کسی نے جعلی ٹھپے لگائے ہیں تو الیکشن کمیشن کے دروازے کھلے ہیں اور اپنی شکایت آسانی سے درج کرو اسکتے ہیں۔