nadeem qureshi

قومی سا لمیت کا بدلتا منظرنامہ

حال ہی میں جنوبی اور جنوب مغربی ایشیا کا بدلتا منظرنامہ ہماری قومی سا لمیت سے متعلق کئی ایک مسائل اور پہلوئوں کے اعتبار سے اہمیت اختیار کرتا چلا جا رہا ہے۔ ہماری مغربی اطراف میں افغانستان سے لگ بھگ بیس سالہ جنگ و جدل کے بعد امریکی اور دوسری غیر ملکی افواج کا مرحلہ وار انخلا اپنی تکمیل کے آخری مراحل میں ہے۔ سیاسی اور عسکری اعتبار سے یہ ایک اہم تبدیلی ہے جس کے دور رس اثرات پورے خطے اوربالخصوص پاکستان میں دہشت گردی کے مہیب سایوں کی مانند منڈلاتے صاف دکھائی دے رہے ہیں۔ ہمارے گزشتہ تجربات سے عیاں ہے کہ امریکی اِنتظامیہ کی موجودہ پالیسی خطے میں دیرپا امن کے لیے مثبت اثرات کی حامل نہیں ہے۔ افغانستان مختلف النوع اقوام کا مسکن ایک ایسا معاشرہ ہے جہاں کا قبائلی تمدن ان مٹ تاریخی حقائق کا آئینہ دار ہے۔ اِس قبائلی معاشرت کی فطری آزادی ایک ایسے نظام سیاست کی متقاضی ہے جہاں وسیع تر علاقائی نمائندگی کی بنیاد پر ایک ساتھ بسنے والے تمام قبائل و شعوب کو نمائندگی حاصل ہو۔ سیاسی نمائندگی پر مشتمل یہی جمہوری نظام ہے جسے گزشتہ کئی دھائیوں پر محیط افغان تنازع کے پر امن حل کے لیے وسیع تر کثیر الجماعتی حکومت کے قیام سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ قبائلی اشتراک عمل پر مبنی ایسے کثیر المقاصد سیاسی نظام کے قیام کی اولین ذمہ داری اصولا امریکی انتظامیہ پر عائد ہوتی ہے جس نے آج سے لگ بھگ دو دھائیاں قبل افغانستان سمیت پورے خطے کو اپنے ذاتی مفادات کی بھینٹ چڑھاتے ہوئے جنگ کی بھٹی میں جھونک دیا تھا۔
افغان تنازع سے امریکی انتظامیہ کی حالیہ کنارہ کشی سے بظاہر کئی ایک مقاصد کا حصول ممکن ہے۔ امریکی مفاد کا ایک اہم پہلو دن بدن بڑھتے ہوئے جنگی اخراجات سے چھٹکارا پانے کے ساتھ ساتھ خطے کے ممالک کے درمیان ایک وسیع تر علاقائی معاشی تعاون کے امکانات کا انہدام ہے۔ افغانستان جنوبی ایشیائی ممالک اور وسطِ ایشیا کے مابین علاقائی رابطے کے لیے ایک اہم جغرافیائی عامل کی حیثیت رکھتا ہے جہاں خانہ جنگی کا تسلسل امریکی مفادات کے لیے کہیں زیادہ کارگر ثابت ہو سکتا ہے بجائے اِسکے کہ امریکہ جنگ میں ایک فریق کی حیثیت سے شامل رہے اور افغان امن کی بحالی میں اپنا کردار ادا کرتا پھرے۔ ایسے امن کا آخر کیا فائدہ جس سے ایک سپر پاور ہونے کی حیثیت سے امریکی انتظامیہ کے بے جا احساسِ افتخار کی تسکین تک ممکن نہ ہو سکے۔ اگر حقیقت پسندانہ نقطہِ نظر سے دیکھا جائے تو خطے میں چین اور روس جیسی بڑی حریف طاقتوں کو نکیل ڈالنے کے لیے بھی افغان خانہ جنگی کا تسلسل امریکی مفادات ہی کی ایک اہم کڑی معلوم ہو گا۔ افغانستان میں متحارب گروہوں کی مناقشت سے نہ صرف جمہوری قوتوں کا استیصال ہو گا بلکہ اِس سے ایسی متشددانہ کارروائیوں کا فروغ بھی متوقع ہے جن کی بازگشت جغرافیائی حدود سے ورا وسطِ ایشیا اور روس میں واقع شمالی قافقاذ کے علاقوں بلخصوص چیچنیا تک سنائی دی جا سکتی ہے۔ متشددانہ کارروائیوں کا ایک اہم نتیجہ پاکستان میں صوبہ بلوچستان اور چین کے مسلم اکثریتی علاقے سنکیانگ میں علیحدگی پسندی کی تحریکوں کا از سرنو احیا بھی ہو سکتا ہے جن کے باعث یہ علاقے عدمِ استحکام کا شکار ہو سکتے ہیں۔ ہماری قومی سالمیت کے اس بدلتے منظرنامے کی مثال پرآشوب پانیوں جیسی ہے جن میں ہمارے خلاف متحرک بعض جارح قوتیں چِکنی مچھلیوں کی طرح پھدکتی پھرتی ہیں۔ ایسی جارح قوتوں کی ایک مثال بھارت ہے جہاں کا میڈیا سرکاری سرپرستی میں دن رات ہمارے خلاف زہر اگلنے میں مصروف ہے۔ پاکستان کے خلاف بھارتی ہرزہ سرائی کا ایک اہم مقصد خطے میں حصولِ امن کی غرض سے ہماری قیادت پر اعتماد کی بنیاد کو کھوکھلا کرنا ہے۔ بھارت کی منفی سرگرمیوں کا تاریک تریں پہلو بعض معتبر بین الاقوامی اداروں جن میں ایمنیسٹی انٹرنیشنل اور فرانسیسی میڈیا گروپ فاربِڈن سٹوریز شامل ہیں کے حالیہ انکشافات ہیں جن کے مطابق بھارت ان چند ممالک میں شامل ہے جو عالمی قوانین اور اخلاقی ضابطوں کے بر خلاف ایک اِسرائیلی کمپنی این ایس او کے تیار کردہ سپائی وئیر پیگاسس کے ذریعے ناقدین کی جاسوسی کرواتے رہے ہیں۔ اِن ہوشربا انکشافات کے مطابق بھارت نے 2019 میں پاکستانی وزیرِ اعظم عمران خان کا نام پیگاسس پراجکٹ کے لیے بطور انتہائی اہمیت کی حامل شخصیت کے منتخب کروایا۔ عالمی شخصیات کی نگرانی کے حوالے سے بعض دیگر ممالک سمیت بھارت کا شرمناک کردار عالمی اداروں کو موصول ہونے والے پچاس ہزار موبائل نمبروں کے تجزیے سے عیاں ہے۔
پیگاسس پراجیکٹ کے تناظر میں عالمی تحفظات کے حوالے سے اسرائیلی کمپنی این ایس او کا جواب انتہائی حیران کن ہے۔ کمپنی انتظامیہ کے بیانیے کے مطابق سپائی وئیر صرف منتخب حکومتوں کو مکمل جانچ پڑتال کے بعد فروخت کیا جاتا ہے اور اس کا مقصد بین الاقوامی دہشت گردی اور جرائم کا تدارک ہے۔ کمپنی کی یہ وضاحت بجائے خود کئی سوالات کو جنم دیتی ہے۔ ایسے حالات میں جبکہ دہشت گردی کی کوئی متفقہ تعریف اقوامِ عالم کے مابین مستعمل نہیں یہ سوال اپنی جگہ اہم ہے کہ آخر جانچ پڑتال کے وہ کیا معیارات ہیں جن پر پرکھتے ہوئے پیگاسس سپائی وئیر بھارت سمیت بعض دوسری حکومتوں کو سونپا گیا؟ دہشت گردی کی کوئی متفقہ تعریف نہ ہوتے ہوئے سپائی وئیر نگرانی کی غرض سے بعض منظور نظر حکومتوں کو فروخت کرنا اور پھر ان سے یہ توقع رکھنا کہ وہ اِسے خاص دہشت گردی کے تدارک کے لیے ہی استعمال کریں گی ایک ایسی منافقت ہے جو این ایس او جیسی اِسرائیلی کمپنیوں کی ہی خاصیت ہے۔ یہ بات قرینِ قیاس ہے کہ ہماری قومی سا لمیت کے بدلتے احوال کے تانے بانے زیادہ تر موجودہ افغان بحران سے جڑے ہیں۔