p613 396

مشرقیات

کتوں کے بارے میں پطرس بخاری ہمیں آگاہ کر گئے تھے کہ بھونک رہے ہوں تو کاٹا نہیں کرتے۔ہم نے یہ بات پلے باندھ لی اور بھونکتے کتوں کی پرواہ نہ کرتے ہوئے اپنی راہ چلتے رہے۔ڈر ہمیں ان ہی کتوں سے لگتا ہے جو سرراہ چلتے ہوئے ہمیں خاموشی سے دیکھتے کم اور گھورتے زیادہ ہیں۔بہرحال خاموشی سے گھورنے والے ان کتوں نے بھی ہمیں آج تک صرف گھورنے پر ہی اکتفا کیا ہے کبھی کاٹنے نہیں دوڑے۔
کسی کتا پال سے پوچھیں کتے کی سب سے اچھی عادت کا تو وہ وفاداری ہی بتائے گا۔ کتے کی وفاداری کی مثالیں دینے والے پھر خود کتے کی یہ عاد ت کیوں نہیں اپناتے یہ بات ہمیں کبھی سمجھ نہیں آئی حالانکہ اکثر کتا پال ہی نہیں کتوں کے بغیر زندگی گزارنے والے بھی بھونکنے سمیت کئی کتا عادتوں میں ہم نے مبتلا دیکھے ہیں۔بعض تو کتے سے بھی دو قدم آگے دیکھے جاتے ہیں۔
کتے کو پیشاب آئے تو وہ سرراہ پیشاب نہیں کرے گا، راستے میں سہی تاہم کوئی کونا کھدرا ڈھونڈتا ہے اپنے لئے۔ادھر ہم میں بہت سے ایسے بھی ہیں جواس کتا عادت میں مبتلا کہیں بھی ”ناڑا” کھول کر بیٹھ جاتے ہیں، یہ بھی نہیں دیکھتے کہ سرعام اور شاہراہ عام پر چھوٹے بڑے بچے بھی ہماری کتا عادت سے تعلیم وتربیت کے مراحل طے کر کے صرف کتا عادت نہیں اپناتے، ان خواتین کو بھی ہراساں کرنے کی مشق بھی انہیں کرائی جاتی ہے جو ان راستوں سے گزرتی ہیں۔کیا سرراہ شلوار میں ہاتھ ڈالے پیر وجواں مرد راہ چلتی ہوئی خواتین کو گھورتے ہوئے آپ نے کسی مہذب معاشرے میں دیکھے ہیں؟
لڑائی بھڑائی میں بھی حضرت انسان کا کوئی پاسنگ نہیں ، ویسے ہی کتوں کو بدنام کرنے کے لئے مارنے مرنے پر تل جانے والوں کے لئے کہا جاتا ہے کہ کتوں کی طرح ایک دوسرے کو کاٹنے یا بھنبھوڑنے دوڑے حالانکہ کتے کو لڑانے کا فن بھی انسان کا سکھایا ہوا ہے ، ورنہ کتوں کو ازخود ہم نے روٹی اور بوٹی کے لئے لڑتے کم ہی دیکھا ہے۔کتوں کی لڑائی کے شوقین خود لڑائی جھگڑوں کے کتنے شوقین ہوتے ہیں یہ دیکھنا ہو تو صرف کتوں کی لڑائی کے تنازعات پر قتل مقاتلوں کے واقعات پر ایک نظر ڈال لیں۔کیا آج تک کسی کتے کے ہاتھوں آپ نے کتے کے قتل کا سنا؟
آپ بھی سوچیں گے کہ یہ کتا موضوع ہم نے کیوں آج کے مشرقیات کے لئے چن لیا تو جناب عرض یہ ہے کہ گوجرانوالہ کے کمشنر بہادر کی کتا محبت دیکھ کر ہم بھی متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکے۔ آپ خود سوچیں جس ملک میں ایک کتا ڈھونڈنے کے لئے اعلانات کئے جائیں وہاں انسان کو ڈھونڈنے کا مرحلہ آئے تو کمشنر بہادر بھی رومی کی طرح پکار اٹھیں گے۔
دی شیخ با چراغ ھمی گشت گردِ شہر
کزدام و دد ملولم و انسانم آرزوست
زیں ھمر ہانِ سست عناصرِ دلم گرفت
شیرِ خدا و رستمِ دستانم آرزوست
گفتم کہ یافت می نشود جُستہ ایم ما
گفت آنکہ یافت می نشود آنم آرزوست