2 551

کیا امریکا نور مقدم کے قاتل کو بچا لے گا؟

اسلام آباد میں قتل ہونے والی سابق سفیر کی بیٹی نور مقدم کا مبینہ قاتل ظاہر جعفر پولیس کی حراست میں ہے، گرفتاری کے بعد ملزم اور اس کے گھر والوں نے پولیس کو پورا سچ نہیں بتایا، ظاہر جعفر کو قاتل ثابت کرنے کے لیے اگرچہ ناقابل تردید ثبوت اور شواہد موجود ہیں، مگر اب اسلام آباد پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ ملزم نے اعتراف جرم کر لیا ہے جس کے بعد کسی قسم کے شک و شبہ کی گنجائش نہیں رہ جاتی ہے، اس کے باوجود یہ باتیں زبان زدعام ہیں کہ قاتل ظاہر جعفر بچ نکلے گا ،کیونکہ وہ امریکی شہری ہے، مبینہ ملزم نے پولیس کی حراست میں اس امر کا اظہار بھی کیا ہے کہ وہ امریکی شہری ہے جو بھی پوچھنا ہے اس کے وکیل سے پوچھا جائے، اس سے قاتل کی رعونت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا واقعی امریکہ اپنے ہر شہری کی حفاظت کرتا ہے اور کیا امریکہ ظاہر جعفر کو بھی بچا لے گا؟ ایسابالکل بھی نہیں ہے، ہمارے ہاں امریکی شہریت کے بل پر رعب اور دھونس کا رواج چل نکلا ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ امریکہ کے دو طرح کے شہری ہیں، ایک تو وہ شہری ہیں جنہیں امریکی شہری ثابت کرنے کے لیے کسی ثبوت کی ضرورت نہیں ہے، اور نہ ہی انہیں شہریت کا کارڈ دکھانے کی ضرورت پیش آتی ہے، ایسے افراد پوری دنیا میں اپنی پہچان امریکی شہری کے طور پر کراتے ہیں، جب کہ کچھ لوگوں نے امریکہ کی شہریت کے حصول کیلئے سخت شرائط پوری اور کھٹن مراحل سے گزر کر شہریت حاصل کی ہوتی ہے، ایسے شہریوں کے پاس گرین کارڈ ہوتا ہے اور انہیں بھی امریکی شہری جتنی مراعات حاصل ہوتی ہیں لیکن انہیں امریکہ میں دوسرے درجے کے شہری کے طور پر دیکھا جاتا ہے کیونکہ انہوں نے اپنے ملک کی شہریت ترک کرنے کے برعکس امریکہ کی اضافی شہریت حاصل کر رکھی ہوتی ہے۔ پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش جیسے متعدد ممالک کے بااثر شہریوں نے اپنے ملک کی شہریت کے ساتھ ساتھ امریکہ یا برطانیہ کی
شہریت حاصل کر رکھی ہوتی ہے تاکہ مشکل وقت میں ان کے کام آ سکے۔ ایسی شہریت کے حامل افراد کے خلاف وقتاً فوقتاً امریکہ میں آواز بلند ہوتی رہتی ہے، اور ایسے لوگوںکو امریکی شہریت دینے کے حوالے سے قوانین میں سختی بھی ہوتی رہی ہے۔ جن بچوں کا جنم امریکی سرزمین پر ہوا ہے وہ امریکی قانون کے لحاظ سے وہاں کے شہری ہیں مگر سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ دور میں یہ اعلان کیا تھا کہ امریکہ میں پیدا ہونے والے ہر بچے کو امریکی شہریت نہیں دی جا سکتی، ٹرمپ کو اگرچہ اس بیان پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا لیکن امریکہ میں ایک طبقے کے ہاں یہ سوچ پائی جاتی ہے کہ جو امریکہ کے اصل اور مقامی شہریوںکو حقوق حاصل ہیں، دوسرے ممالک کے باشندوں یا گرین کارڈ کے حامل افراد کو وہ حقوق حاصل نہیں ہیں۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ امریکہ کے محکمہ انصاف و قانون کو متعدد شکایات ایسی موصول ہوئی ہیں جس میں امریکی شہریت کے لبادے میں لوگ جرائم میں ملوث پائے گئے ہیں اور جب انہیں قانون کے کٹہرے میں کھڑا کیا جاتا ہے تو وہ امریکی شہری کا بہانہ لگا کر چھوٹ جاتے ہیں۔ اس پس منظر کے بعد یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ امریکہ اپنے شہریوں کی حفاظت تو کرتا ہے مگر ہر شہری کی حفاظت نہیں کرتا بلکہ وہاں پر شہریوں کی مختلف کیٹگریز ہیں اور ان کے مطابق ہی شہریوں کے ساتھ سلوک کیا جاتا ہے۔ جو لوگ نور مقدم کے مبینہ قاتل ظاہر جعفر کا ریمنڈ ڈیوس کے ساتھ موازنہ کر رہے ہیں، انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ ریمنڈ ڈیوس امریکہ کا اصل شہری تھا اور ریاست کے مشن پر پاکستان آیا ہوا تھا ‘ اس
لیے امریکہ نے اسے بچانے کی پوری کوشش کی، اور ہمارے نظام انصاف میں پائے جانے والے سقم کا فائدہ اٹھا کر اپنے شہری کو بچانے میں کامیاب رہا، یاد رہے کہ پاکستانی آئین میں یہ بات موجود ہے کہ اگر مقتول کے ورثاء دیت لے کر قاتل کے ساتھ صلح کرنا چاہیں یا دیت کے بغیر اسے معاف کرنا چاہیں تو قانون ورثاء کو اس کا حق دیتا ہے۔ امریکہ نے ریمنڈ ڈیوس کیس میں اس سقم کا فائدہ اُٹھایا، مقتول کے ورثاء کو دیت کی رقم ادا کی اور ریمنڈ ڈیوس کو بچا کر امریکہ روانہ کر دیا۔ ظاہر جعفر کی صورت حال ریمنڈ ڈیوس سے یکسر مختلف ہے، ایک تو ظاہر جعفر امریکہ کا دوسرے درجے کا شہری ہے، اسے مکمل حقوق حاصل نہیں ہیں، دوسرا یہ کہ ظاہر جعفر امریکہ کی بدنامی کا ذریعہ بنا ہے امریکہ قطعی طور پر ایسے شخص کی حمایت نہیں کرے گا جو اس کی بدنامی کا باعث بن رہا ہے۔ امریکہ کا نظام انصاف اور انسانی جان کی حفاظت کے اعتبار سے پاکستان سے بھی سخت ہے، قاتل کو بچانے کے حوالے سے امریکی نظام انصاف میںکسی قسم کی رعایت نہیں ملتی ہے، ٹھوس شواہد اور ناقابل تردید ثبوتوں کے ساتھ ساتھ اب ظاہر جعفر نے اعتراف جرم بھی کر لیا ہے ۔ ہمارا خیال ہے کہ امریکی شہریت ظاہر جعفر کے لیے مشکلات کا باعث بنے گی، امریکہ کبھی بھی نہیں چاہے گا کہ ایک قاتل کو بچانے کے لیے اپنے نظام انصاف کو متنازعہ بنا لے کیونکہ جتنی معلومات ہمارے سکیورٹی اداروں کے پاس ہیں اس سے کئی گنا زیادہ معلومات امریکی سفارت خانے کے پاس ہیں، یہی وجہ ہے کہ امریکی سفارت خانے کی جانب سے ظاہر جعفر کی حمایت میں کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے، البتہ یہ ممکن ہے کہ امریکہ فریقین میں صلح یا دیت کیلئے کردار ادا کر ے یا ملزم کو امریکی عدالت میں انصاف کے حصول کا موقع فراہم کیا جائے، اگر کیس امریکی عدالت میں بھی جاتا ہے تو امید ہے کہ امریکی عدالت میں ملزم کو پاکستان سے زیادہ سخت سزا سنا دی جائے کیونکہ کوئی ایک وجہ بھی ایسی نہیں ہے جس کی بنا پر کہا جا سکے کہ ملزم سزا سے بچ نکلے گا۔