1 571

چین طالبان کو تسلیم کرنے کی راہ پر؟

طالبان کے نو رکنی وفد نے ملا عبدالغنی برادر کی قیادت میں عوامی جمہوریہ چین کا دورہ کیا ۔طالبان وفد نے شمالی چین کے شہر تیانجن میں چینی وزیر خارجہ ونگ ژی کے ساتھ ملاقات کی ۔وفد نے چین کے نائب وزیر خارجہ اور نمائندہ خصوصی برائے افغانستان سے بھی ملاقاتیں کیں ۔دونوں طرف سے ایک دوسرے کے اندرونی معاملات میں عدم مداخلت کے عہد وپیماں ہوئے طالبان نے سنکیانگ میں ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ کی حمایت نہ کرنے کی یقین دہانی کروائی اور چین نے افغانستان کی تعمیر نو اور معاشی خوش حالی میں اپنا کر دار ادا کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔طالبان کے وفد کا یہ دورہ بظاہر تو غیر سرکاری تھا مگر یہ بھرپور سرکاری انداز لئے ہوئے تھا کیونکہ چینی قیادت نے طالبان کے ساتھ جس انداز میںمذاکرات کئے وہ دوحکومتوں کے درمیان بات چیت کا ہی رنگ لئے ہوئے ہے۔ چین نے اپنی سرزمین پر طالبان سے یہ عہد لیا کہ وہ اپنی سرزمین کسی بھی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے ۔یہ ٹی ٹی پی کی افغان سرزمین سے بھل صفائی پر طالبان کی آمادگی کا اظہارہے ۔افغانستان کی سرزمین صرف پاکستان کے لئے ہی نہیں بلکہ چین کے خلاف بھی استعمال ہو تی رہی ہے اور ترکستان اسلامک موومنٹ عالمی چھتر چھائے میں سنکیانگ میں مسلح مداخلت کی منصوبہ بندی کے لئے اس سرزمین کو استعمال کرتی رہی ہے ۔مستقبل میں بھی اس کارڈ کے کھل کر استعمال ہونے کے امکانات موجود ہیں ۔یہ وہ معاملہ جس پر چین اپنی روایتی عدل مداخلت کی پالیسی میں تبدیلی لاتے ہوئے افغانستان میں کارروائی بھی کر سکتا ہے اور اپنی باقاعدہ فوج بھی داخل کر سکتا ہے شاید امریکہ کو اسی لمحے کا انتظار ہے ۔عراق اور افغانستان میں چھیڑی جانے والی امریکی جنگیں چین کے لئے نعمت غیر مترقبہ ثابت ہوئیں کیونکہ امریکہ ان جنگوں میں اُلجھا رہا اور چین اس کا فائدہ اُٹھا کر اپنی معیشت مستحکم کرتا چلا گیا ۔امریکہ کی آنکھ اس وقت کھلی جب اس کے سامنے چینی معیشت ایک فلک بوس مینار کی صورت کھڑی تھی ۔تب امریکہ کو احساس زیاں ہوا اور اس نے جنگوں کے کاروبار کو لپیٹنے کا راستہ اختیار کیا ۔اب امریکہ کی خواہش ہو گی کہ چین کسی ایسی جنگ میں الجھ جائے اور اس کی معیشت اسی انجام سے دوچار ہو جس کا سامنا امریکہ کو کرنا پڑا ۔افغانستان میں سنکیانگ اور سی پیک کے حوالے سے بڑھتے ہوئے خطرات چین کے لئے ہلہ شیری کا کام دے سکتے ہیں ۔طالبان وفد کا دورہ ایسے وقت میں ہوا جب وہ بہت تیزی کے ساتھ افغانستان کے منظر پر اُبھر رہے ہیںاور افغان حکومت ہر گزرتے دن کے ساتھ اپنا کنٹرول کھو رہی ہے ۔پہلے افغان فوجی طالبان کو محفوظ راستہ فراہم کرنے کے لئے تاجکستان اور دوسرے ملکوں کا رخ کر رہے تھے اب افغان فوجی پاکستان کی سرحد کے قریب پسپا ہو کر محفو ظ پناہ گاہ کے طور پرپاکستان کا رخ کررہے ہیں اور پاکستان میزبانی اور مرہم پٹی کرکے انہیں واپس افغانستان کے حوالے کر رہا ہے۔امریکہ افغانستان سے رخصت ہو چکا ہے مگر اسے ایک رستا ہوا زخم بنا کر گیا ہے۔طالبان جوں جوں افغانستان میں فتح حاصل کرتے جا رہے ہیں ان کی بین الاقوامی قبولیت میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔برطانیہ طالبان کے ساتھ کام کرنے پر واضح آمادگی ظاہر کر چکا ہے۔اب چین نے طالبان وفد کو باضابطہ دورے کی دعوت دے کر اور ان کے ساتھ مستقبل کے وعدے وعید کرکے طالبان کو ایک ملیشیا سے بڑھ کر جائز حکومت کے طور پرتسلیم کرنے کا اشارہ ہی نہیں دیا بلکہ اس سمت میں پہلا قدم اُٹھایا ہے ۔روس بھی طالبان کے وفد کو کئی بار اپنے ہاں بلا کر ان کے ساتھ نباہ کرنے کا اشارہ دے چکا ہے ۔پاکستان پہلے ہی طالبان کے قریب ہے اور افغان حکومت اور امریکہ کی طرف سے طالبان کے خلاف کارروائی کے مطالبات کو برسرعام مسترد کیا ہے۔وزیر اعظم عمران خان یہاں تک کہہ چکے ہیں کہ طالبان خود کو مستقبل کی حکومت سمجھتے ہیں اب اس مرحلے پر وہ پاکستان کی بات کیوں مانیں گے۔چین پاکستان ،روس ایران اور وسط ایشیائی ممالک اگر طالبان کو امارات اسلامیہ کے طور تسلیم کرتے ہیں تو دنیا اس معاملے پر واضح طور پر دوحصوں میں تقسیم ہو سکتی ہے ۔ایک طرف امریکہ بھارت کے زیراثر افغانستان کی دم توڑتی ہوئی حکومت کو آکسیجن ٹینٹ فراہم کئے ہوئے ہے تو دوسری طرف خطے کے کئی طاقتور ممالک طالبان کو جائز اور قانونی حکمران تسلیم کرنے کے لئے تیاربیٹھے ہیں۔اشرف غنی کی ضد اور انانیت کے پیچھے صرف بھارت کا دبائو اور مفادات ہیں ۔بھارت یہی کھیل ڈاکٹر نجیب کے ساتھ بھی کھیل چکا ہے ۔امریکہ افغانستان کے معاملے میں مخمصے کا شکار ہے ایک طرف وہ طالبان کے ساتھ معاہدہ کرکے اپنی قائم کردہ حکومت کو لاوارث چھوڑ گیا تو دوسری طرف اس حکومت کودوام بخشنے کے لئے بھارتی ہیلی کاپٹروں اور پائلٹوں کے ذریعے طالبان کے ٹھکانوں پر بمباری بھی کررہا ہے ۔امریکہ کی پالیسی کا یہ مخمصہ افغانستان میں داخل ہونے کے وقت سے اب تک موجود ہے۔