3q

کچھ باتیں کتابوں کی

اب تو خیر کچھ ماہ سے علالت کے باعث سے گھر سے نکلنا تقریباً ختم ہی ہوگیا ہے اس لئے قلم مزدوری کے ساتھ ساتھ پڑھنے کا سلسلہ جاری ہے ۔علالت سے قبل عام حالات میں بھی ذاتی دوستوں اور تعلق داروں تک معمولات محدود رہے پچھلے ایک برس سے تو کورونا وبا نازل ہے ۔ درمیان میں لگ بھگ چھ ماہ ملتان رہ آیا تھا یہ سطور لکھنے کے چند گھنٹے بعد پھر عازم ملتان ہو جائوں گا۔امڑی(والدہ) کے شہر میں جانا ہمارے لئے تو جنت میں جانے جیسا ہی ہے ۔ والدہ کو دنیا سے رخصت ہوئے بیس برس بیت گئے اب ان کی تربت پر حاضری کے ساتھ حال دل بیان ہوتا ہے ۔ خیر پچھلے چار ماہ سے اپنی لائبریری تک محدود ہوں کچھ کتابیں دوستوں نے بھجوائیں اور کچھ عادت سے مجبورمطالعہ کے رسیا نے منگوائیں۔ ریمنڈ ڈیوس کی کتاب کا اردو ترجمہ ”کرائے کے فوجی” علی سجاد شاہ کا ناول ”ککڑی” طاہر بن جلون کے ناول کا اردو ترجمہ ”روشنی کی یہ خیرہ کن نابودگی” اور اشفاق سلیم مرزا کی کتاب”تاریخ سیاسی فکر۔مکیاولی سے گرامچی تک” کے علاوہ بھی نصف درجن کتب پڑھ چکا ۔ مرحوم خان عبدالولی خان کی کتاب”حقائق حقائق ہیں” پھر سے پڑھنے کے لئے منگوائی ہے ۔ پہلی بار یہ کتاب جنرل ضیاء کے عہد ستم میں کراچی سے سکھر کے درمیان سفر میں پڑھی تھی مجھے یاد ہے کہ حیدر آباد سے سکھر کے راستے میں ایک جگہ چیک پوسٹ پر ویگن رکی تو پولیس والوں نے مسافروں کو نیچے اترنے کا حکم دیا لائن میں کھڑا کرکے فرداً فرداً تلاشی لی گئی۔ چیک پوسٹ پر ویگن رکی تو میں”حقائق حقائق ہیں” پڑھ رہا تھا ۔ میری تلاشی بھی دوسرے مسافروں کی طرح تھی نہ تصویر بتاں برآمد ہوئیں نہ ہی حسینوں کے خطوط یا کوئی غیر شرعی سامان لیکن پتہ نہیں پولیس اہلکاروں کے انچارج سب انسپکٹر نے مجھ سے ہاتھ میں پکڑی کتاب بارے سوال کر دیا۔ میں نے جواباً کتاب اس کی طرف بڑھا دی۔ اس نے کتاب اور خان عبدالولی خان کا نام دیکھا تو تیزی سے کتاب میرے ہاتھوں کی طرف اچھالتے ہوئے کہا”یہ وہی پٹھان لیڈر ہے نا جس نے جنرل ضیاء الحق سے کہا تھا پہلے احتساب کرو پھر انتخابات کروانا ۔ یہ شہید بھٹو کے قاتلوں میں شامل ہے پھر اس نے سفر کی وجوہ اور منزل بارے دریافت کرتے ہوئے نام پوچھا ۔ نام بتایا تو اس نے گھٹنے چھوتے ہوئے کہا سید سائیں ناراض نہ ہونا اپنوں کے قتل کا دکھ بہت گہرا ہوتا ہے ۔
سرائیکی وسیب کی طرح سندھ میں بھی سادات کا بہت احترام کیا جاتا ہے یہی وہ وجہ ہے کہ مجھے ساڑھے تین عشرے گزر جانے کے باوجود اس سب انسپکٹر کی بات اور اس کے چہرے پر محبت بھرا رنج دونوں یاد ہیں۔ گزشتہ روز جب یہ کتاب ایک دوست کے توسط سے مجھ تک پہنچی تو تب سے مجھے اس سب انسپکٹرکی بات بار بار یاد آرہی ہے ۔ ”ککڑی” سید علی سجاد شاہ کا ناول ہے علی سجاد شاہ نصف درجن کتابوں کا مصنف ہے فلموں کی کہانیاں لکھتا ہے ‘ ہدایات دیتا ہے مشترکہ طور پر فلمسازی بھی کرتا ہے ‘ ہمہ جہت اور انتھک محنت کرنے والے ہمارے اس برادر عزیز نے پچھلے برسوں کے ان چند ماہ میں بہت دکھ جھیلے جب وہ لاپتہ افراد کی فہرست میں شامل تھا۔ اس کی گمشدگی انہونی تھی اس پر ستم یہ کہ اس کے مخالفوں نے سوشل میڈیا پر اس کے خلاف خوب دھول اڑائی چند ماہ بعد وہ جس حالت میں گھر پہنچا اس سے دھچکا لگا۔ جوان رعنا گیا تھا ہڈیوں کا ڈھانچہ واپس آیا۔ دھول اڑانے والوں کا سر منہ دھول سے اٹ گئے علی کا تازہ ناول ککڑی لاہورہی کے مشہور سیرل کلر جاوید اقبال کے مقدمہ کے گرد گھومتا ہے پڑھنے کی چیز ہے ۔ ریمنڈ ڈیوس کی
کتاب کرائے کا فوجی ‘ ا ن کہانیوں سے یکسر مختلف ہے جو ہمارے ذرائع ا بلاغ نے اس کے ہاتھوں قتل پھر مقدمہ چلنے اور اسلامی شریعت پر دیت ادا کئے جانے پر رہائی کے حوالے سے گھڑیں شائع اور نشر کیں۔ یہی وہ ریمنڈ ڈیوس ہے جس کے چکر میں ہمارے ملتانی مخدوم قبلہ قریشی صاحب ‘ وزیر اعظم بننے کی یقین دہانی لے کر پیپلز پارٹی کوچھوڑ گئے ۔ قریشی صاحب بھٹو بننے کے چکر میں تھے اور مالکان کو مہرے کی ضرورت تھی۔ کامیابی بہر طور مالکان کے حصے میں آئی قریشی صاحب اب پچھلے تین برسوں سے پھر وزیر خارجہ ہیں مراکش کے شہر خاص میں پیدا ہونے والے الطاہر بن جلون ‘ عربی اور فرانسیسی معروف ادیبوں اور شاعروں میں شمار ہوتے ہیں اپنی مادری زبان عربی سے زیادہ انہوں نے فرانسیسی میں لکھا اور خوب شہرت پائی”روشنی کی یہ خیرہ کن نابودگی” فرانسیسی زبان میں لکھا گیا ناول ہے ۔ ہمارے دانشور عزیز بلال حسن بھٹی ایک سے زائد بار مجھے کہہ چکے شاہ جی طاہر جلون کا ناول ضرور پڑھنا اب میں مطالعے کے شوقین افراد سے یہی کہوں گا کہ یہ ناول ضرور پڑھیں۔ اس ناول کا انگریزی سے اردو ترجمہ محمد عمر میمن نے کیا ہے ۔ اشفاق سلیم مرزا کی کتاب ”تاریخ سیاسی فکر ‘ لکھاولی سے گرم مچی تک ۔ ایک مطالعہ اور انتقاد بھی پڑھنے والی کتاب ہے عصری سیاست اور سیاسی تاریخ سے آگاہی کے خواہش مندوں کو یہ کتاب بھی پڑھنی چاہئے پیارے قارئین ‘ آج کے کالم میں فقط کتابوں کے ذکر سے پریشان نہ ہوں۔ کچھ کتابیں اور ہیں کسی اگلے کالم میں مختصراً مختصراً ان کا تعارف بھی کرائوں گا۔ راشد نثار کو آپ بھارت کا جاوید غامدی کہہ سکتے ہیں گزشتہ دنوں ان کی کتاب ”اور اک زوال امت” پڑھنے کا موقع ملا کس شان سے وہ اپنی فکر کی بند گلی میں کھڑے بلکہ زندگی بسر کرتے کرتے ہوئے ”اور ایک زوال امت” کی باتیں کرتے ہیں حیرانی ہوتی ہے یہ حیرانی نئی بات نہیں تقسیم اور زوال امت کو علم تاریخ کے پچھلے ادوار یا پھر موجودہ عہد میں بھی موضوع بنایا اس نے تقسیم اور زوال میں اپنا حصہ بقدر جثہ ہی ڈالا۔