4 431

مجھے یقین دلائو بہار کی

پشاور کی مٹی اہل علم اور اہل فن کے حوالے سے سے بہت زرخیز ہے ‘تاریخ کے اوراق پلٹ کر دیکھیں تو ہر دور اور ہر زمانے میں اہل کمال نے مختلف شعبوں میں اپنے فن کے چراغ جلا کر روشنی پھیلائی ہے ‘ انہی میں احسان الٰہی بھی شامل ہیں جنہیں ادبی دنیا محسن احسان کے نام سے جانتی اور پہچانتی ہے ۔محسن احسان کی شاعری کے حوالے سے یوں تو بہت کچھ کہا جا سکتا ہے تاہم بعض نابغہ اہل علم و قلم نے ان کی شاعری کے بارے میں جو رائے دی ہے ان میں علامہ اقبال کے فرزند جسٹس جاوید اقبال کی یہ رائے بڑی وقعت رکھتی ہے جو انہوںنے محسن احسان کے پہلے مجموعہ کلام”ناتمام” کو پڑھ کر دی تھی’ انہوں نے کہا تھا”محسن احسان اپنے عہد سے باخبر ہیں ‘ وہ جو کچھ محسوس کرتے ہیں ا نتہائی شاعرانہ انداز میں شعر کے قالب میں ڈھال لیتے ہیں”۔جسٹس جاوید اقبال کے ان الفاظ کو محسن احسان کے ایک مشہور شعر میں بہ آسانی ڈھونڈا جا سکتا ہے جو ا نہوں نے اپنے عہد جوانی ہی میں برصغیر میں آزادی کی تحریک کے دوران ہندو مسلم فسادات کے حوالے سے لکھا تھا ‘ اس ایک شعر کے اندر اس زمانے میں برصغیر کے لوگوں کو درپیش حالات کو جس درد مندی اور انسانوں پر انسانوں ہی کے ہاتھوں ڈھائے جانے والے مظالم کی صورت لفظوں کی تصویر کشی کے ذریعے اجاگر کیا گیا ہے وہ اپنی مثال آپ ہے ‘ اس شعر نے محسن احسان کو ادبی حلقوں میں پہچان دلائی جس کے بعد وہ پشاور کی ادبی دنیا میں نہ صرف آگے بڑھتے رہے بلکہ اپنی شناخت کو مضبوط بنیادوں پر استوار کرتے رہے ‘ وہ شعر یہ تھا کہ
میں خون دیکھ کے آیا ہوں شاہراہوں پر
مجھے یقین دلائو ‘ بہار آئی ہے
محسن احسان پشاور کے ایک معزز گھرانے میں 5اکتوبر 1930ء کو پیدا ہوئے ۔ نام احسان الٰہی رکھا گیا ‘ شاعری کے میدان میں قدم رکھا تو پہلے نیر تخلص کیا’ مگر بعد میں محسن احسان کے نام سے ادبی سرگرمیاں جاری رکھیں ملکی سطح پر اپنی شناخت بنانے کے بعد عالمی سطح پر اہم مقام حاصل کیا۔ میٹرک کرنے کے بعد ابتداء میں محکمہ خزانہ میں ملازمت ا ختیار کی ‘ تاہم اپنی تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا اور 1960ء میں پشاور یونیورسٹی سے انگریزی ادبیات میں ایم اے کی ڈگری لی اور گورنمنٹ کالج چارسدہ میں انگریزی کے لیکچرار مقرر ہوئے ۔ اس دوران وہ ریڈیو پاکستان پشاور کے ساتھ بطورجزوقتی انائوسر وابستہ رہے ‘ اپنے خوبصورت لہجے اور آواز کی بدولت وہ ریڈیو سامعین میںبہت مقبول تھے ‘ جبکہ ادبی حلقوں کے علاوہ ریڈیو پشاورکے دو اہم ناموں کے ساتھ دوستی کے بندھن میں بندھ جانے کے بعد ان تینوں نے ایک ادبی ٹرائیکا کی شکل اختیار کرلی تھی اور تینوں کا ادبی سفر ایک ساتھ گزرتا رہا ‘ یہ تین اہم نام تھے پروفیسر خاطرغزنوی ‘احمد فراز اور محسن احسان ‘اگرچہ ابتداء میں ایک اور اہم نام بھی ان کے ہم سفر رہا یعنی یوسف رجاء چشتی ‘ تاہم جب رجاء صاحب نے فوج میں شمولیت اختیار کی تو ان کا رابطہ عارضی طور پر ان سے کٹ گیا تھا اور عرصے بعد فوج کی ملازمت سے ریٹائرمنٹ کے بعد وہ پشاو رکی ادبی حلقوں میں ایک بار پھر فعال ہو گئے تھے اور نئی نسل کی ادبی تربیت میں بھر پور کردار ادا کرتے رہے ۔ جہاں تک محسن احسان کی شاعری کا تعلق ہے وہ اپنے ہم عصر شعراء کے درمیان رہ کر اپنی الگ شناخت قائم رکھنے میں کامیاب رہے ‘ اس حوالے سے ان کے کئی شعر بہ طور حوالہ پیش کئے جا سکتے ہیں۔ مثلاً
امیر شہر نے کاغذ کی کشتیاں دے کر
سمندروں کے سفر پر کیا روانہ ہمیں
درقفس پہ رہائی کے بعد بیٹھا ہوں
ملک کو دیکھوں کہ اپنے بریدہ پر دیکھوں
معاصرانہ چشمک کا تذکرہ ادبی فضائوںمیں بہت عام ہے اور ہر دور میں ہم عصر شعراء کے درمیان ایک دوسرے سے برتری کا احساس عام ہوتا ہے ‘ تاہم عجیب سی بات ہے کہ پشاور کے ان تین نابغہ شاعروں نے کبھی یہ روگ پالنے کی ضرورت محسوس نہیں کی بلکہ ایک دوسرے کے احترام کے جذبات کو عام کرتے رہے اور آنے والی نسلوں میں ایک مثبت جذبے کو فروغ دیا۔یہ تینوں دوست یعنی خاطر غزنوی ‘ احمد فراز اور محسن احسان ہمیشہ باہمی احترام کے جذبات لئے ایک دوسرے سے تعاون کرتے دکھائی دیئے ‘ یوں دوستی کی ایک مثال قائم کی۔ پھر یوں ہوا کہ تینوں کو حالات کی وجہ سے ایک دوسرے سے جدا ہونا پڑا۔ خاطر غزنوی اپنے گل بہار پشاور کی رہائش گاہ اٹھ آئے ‘ محسن احسان نے حیات آباد میں رہائش اختیار کی اور احمد فراز حالات کے جبر کے ہاتھ نگر نگر گھومتے رہے اس حوالے سے محسن احسان نے کیا خوب کہا ہے کہ
تو میرے قریب تو ہے لیکن
میں تیرے لئے ترس گیا ہوں
اگرچہ انہیں جب بھی موقع ملتا تو آملیں گے سینہ چاکان چمن سے سینہ چاک کے مصداق اکٹھے ہوتے اور نہ صرف آپس میں محبتیں بانٹتے بلکہ نوجوان نسل کے نمائندہ اہل قلم کو بھی شامل کرکے یادگار ملاقاتوں کا اہتمام یقینی بناتے ۔مگر وہ جوکسی استاد شاعر نے کہا ہے کہ
موت سے کس کو رستگاری ہے
آج وہ کل ہماری باری ہے
تو دنیا کے فانی ہونے کے ناتے ہر انسان نے ایک نہ ایک روز بچھڑنا ہوتا ہے اس لئے محسن احسان نے اسی المناک حقیقت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ
ایک اک کرکے ستاروں کی طرح ٹوٹ گئے
ہائے کیا لوگ مرے حلقہ احباب میں تھے
محسن احسان نے شعر و ادب کو کئی کتابیں دے کر اپنے فن کا لوہا منوایا ‘ ان میں ناتمام ‘ ناگزیر ‘ ناشیندہ ‘ نا رسیدہ ‘ سخن سخن مہتاب جیسے شعری مجموعوں کے علاوہ نعتیہ مجموعہ اجمل و اکمل ‘ قومی نظموں کا مجموعہ مٹی کی مہکار اور بچوں کی نظیمیں جبکہ رباعیات خوشحال خان اور رحمان بابا کے کلام پر بھی کتب شامل ہیں ‘ انہیں کئی قومی اور صوبائی اعزازات سے بھی نوازا گیا جن میں تمغہ حسن کارکردگی بھی شامل ہے ۔
کھول دیگا کوئی محسن جنتوں کے بام و در
ایسے لگتا ہے کہ میں خلوت گزیں ہونے کو ہوں