p613 398

کورونا کا پھیلائو’ نئی پابندیاں

کورونا کی موجودہ لہر کے پیش نظر وزیر اعظم کی منظوری کے بعد مختلف شہروں میں پابندیاں پھر سخت کردی گئی ہیں۔ وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان کے ہمراہ پریس بریفنگ کے دوران اسد عمر نے کہا کہ کورونا مریضوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے، لوگوں کی صحت کے ساتھ روزگار کا خیال بھی ہماری ذمہ داری ہے، ہمیں احساس ہے کہ بندشوں سے عام آدمی پر بہت اثر پڑتا ہے، اس حوالے سے وزیراعظم کی منظوری سے کچھ فیصلے کیے ہیں۔ ان فیصلوں پر اطلاق 3اگست سے 31اگست تک ہوگا۔کورونا کی بڑھتی شرح کے باعث حکومت کی تازہ پابندیاں بامر مجبوری قابل قبول امر ہے یہ اقدام ناگزیر ہو گیا تھا امر واقع یہ ہے کہ وباء کے پھیلائو اور نئے خطرناک وائرس سے بچائو کے لئے مزید پابندیاں ہی چارہ کار ہے۔ حالیہ لہر میں وائرس کی جو قسم کارفرما ہے اس کی پھیلائو کی صلاحیت خطرناک حد تک زیادہ ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق دنیا بھر میں کورونا کے نئے کیسز اور ہلاکتوں میں اضافہ ہو رہا ہے اور اس کا سبب ڈیلٹا وائرس ہے جو132ممالک میں پھیل چکا ہے۔ ان حالات میں جو بتدریج خطرناک صورت اختیار کرتے جارہے ہیں حکومتی سطح پر ایسے اقدامات کی فوری ضرورت تھی جو وائرس کے پھیلائو کو روک سکیں یا اس عمل کو سست کر سکیں۔ مشکل امر یہ ہے کہ ویکسی نیشن کے باوجود وائرس کی نئی قسم کا پھیلائو بڑھ رہا ہے اس سے بھی مشکل امر یہ ہے کہ عوام ویکسین لگانے یا پھر احتیاطی تدابیر اختیارکرنے میں جس طرح کے تساہل اور جان بوجھ کر غفلت کا مظاہرہ کر رہے ہیں اس کا واحد حل زیادہ سے زیادہ پابندیاں ہی رہ گئی ہیں یہ بہت مشکل فیصلہ ضرور ہے لیکن اس کے علاوہ کوئی اور چارہ کار باقی نہیں رہ گیا تھا۔ان پابندیوں کے باوجود اب بھی احتیاط ہی وہ مؤثر راستہ ہے جسے اختیار کیا جانا چاہئے بنیادی احتیاطی تدابیر پر عمل اس معاملے میں بہت اہم کردار ادا کرسکتا ہے اور اس میں ماسک پہننے اور ہاتھ دھونے کی عادت بنیادی طور پر اہم ہے۔ وائرس کی موجودہ شکل چونکہ زیادہ تیزی سے پھیلنے کی صلاحیت رکھتی ہے اس لیے سماجی فاصلے کے اصول کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔ حکومت کی جانب سے جن پابندیوں کو نئے سرے سے نافذ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اگر ان پر عمل یقینی بنایا جائے تو بہتری کی توقع کی جا سکتی ہے تاہم سائنسی تحقیقات میں یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچ چکی ہے کہ ویکسین کی دو خوراکیں کورونا وائرس سے متاثر ہونے کے خطرے کو78فیصد تک کم کر دیتی ہیںچنانچہ کسی بھی سوسائٹی میں کورونا وبا کی نئی لہرسے بچائو کا کلیدی انحصار ویکسین پر ہے اس لیے ویکسین کی مہم میں اب کوئی لمحہ ضائع کئے بغیر اقدامات کی ضرورت ہے۔ سندھ میں گھر گھر ویکسی نیشن مہم شروع کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ اس کام کو بغیر کسی تاخیر سے کیا جانا ضروری ہے ۔ بلوچستان خیبر پختونخوا آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے علاقے میں بھی ویکسین کی ایسی حکمت عملی اختیار کی جائے کہ عوام کو جلد از جلد وائرس کے خطرے سے تحفظ فراہم کیا جاسکے۔ویکسی نیشن کی شرح بڑھانے کیلئے دہری پالیسی پر عمل کیا جانا ضروری ہے ایک طرف ویکسی نیشن مہم ایسی ہو کہ شہریوں کو رسائی میں دقت پیش نہ آئے جبکہ دوسری جانب ویکسین کو ہر شعبہ زندگی میں لازمی قرار دیا جائے تا کہ کوئی شہری جان بوجھ کر یا کسی افواہ کے زیرِ اثر ویکسین سے انکار نہ کر سکے۔ اندرون ملک فضائی سفر کورونا ویکسین کے ساتھ مشروط کرنا ایک ضروری اور بروقت اقدام ہے ریل گاڑیوں اور بین الاضلاعی اور بین الصوبائی بس سفر کے لیے بھی یہی قاعدہ نافذ ہو ناچاہئے اسی طرح مارکیٹوں اور دفاتر کے ملازمین کے لیے بھی۔عالمی ادارہ صحت کے ہیلتھ ایمرجنسیز کے سربراہ کا یہ کہنا قابل غور ہے کہ ڈیلٹا ویری اینٹ اس امر کی تنبیہ ہے کہ کورونا وائرس صورتیں بدل رہا ہے مگر یہ عمل کی تاکید بھی ہے اس سے پہلے کہ کورونا وائرس اس سے بھی زیادہ خطرناک صورت اختیار کر لے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس وباء پر قابو پانے کے لئے جتنی بھی حکومتی پابندیاں لگائی جائیں جب تک عوام اس ضمن میں تعاون نہیں کریں گے اور عوام احتیاطی تدابیر اختیار کرکے خود حفاظتی کی ذمہ داریاں پوری نہیں کریں گے اس وقت تک ان پابندیوں کے اثرات ظاہر نہیں ہوں گے ۔ حکومت کی جانب سے ویکسین نہ لگانے والوں کے خلاف مزید پابندیاں لگانے اور سختی کا مظاہرہ کرنا چاہئے خیبر پختونخوا میں چار فیصد آبادی کے پاس سرے سے شناختی کارڈ ہی موجود نہیں ایسے میں اگر شناختی کارڈ کے حامل افراد کی سو فیصد بھی ویکسی نیشن کی جائے تو بھی آبادی کا چار فیصد حصہ باقی رہ جائے گا جو کورونا پھیلانے اور تمام حکومتی اقدامات کوناکام بنانے کا باعث بن سکتے ہیں لہٰذا حکومت صوبے میں جلد سے جلد شناختی کارڈ سے کسی بھی وجہ سے محروم افراد کو ترجیحی بنیادوں پر شناختی کارڈ کے اجراء کا بندوبست کرے ساتھ ہی ساتھ افغان مہاجرین کے حوالے سے بھی کوئی ٹھوس فیصلہ کیا جائے جن کی ویکسی نیشن کا سرے سے کوئی انتظام ہی نہیںافغان باشندوں کی آمدورفت اور آبادی میں موجود مہاجرین کی ویکسی نیشن نہ ہونے سے کورونا وائرس کے پھیلائو و منتقلی اور باقی رہنے جیسے خطرات پھر بھی سر پر منڈلاتے رہیں گے یوں خیبر پختونخوا کا معاملہ دیگر صوبوں سے زیادہ پیچیدہ اور قابل توجہ ہے اس حوالے سے صوبائی حکومت کو جلد سے جلد کوئی ٹھوس لائحہ عمل اختیار کرنے کی ضرورت ہے ۔