2 553

کشمیر پریمئر لیگ، کھیل پر سیاست

انٹرنیشنل کرکٹ لیگ آئی سی سی نے مظفرآباد میں کھیلوں کے مقابلوں کے خلاف بھارت کی درخواست یہ کہہ کر رد کر دی ہے کہ کشمیر ان کے دائرہ اختیار میں نہیں آتاکیونکہ یہ بین الاقوامی کرکٹ ٹورنا منٹ نہیں ہے اور یہ کہ درخواست آئی سی سی کے آئین سے مطابقت نہیں رکھتی ۔ آئی سی سی کی جانب سے کسی بھی کرلٹ ٹورنامنٹ کی اجازت کے حوالے سے ضابطے کی شق 2.1.3کے مطابق ہر قومی کرکٹ فیڈریشن کو ڈومیسٹک کرکٹ کے حوالے سے کسی بھی فیصلے کا مکمل اختیار ہوگا۔آئی سی سی صرف 2.1.4کی صورت میں مداخلت کر سکتی ہے وہ بھی اگر میچ کسی ایسوسی ایٹ رکن کے علاقے میں ہونا ہو۔وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ بھارت کو کرکٹ جیسی تفریحی سرگرمی کو سیاست کی نذر نہیں کرنا چاہئے ۔بھارت بھی اگر مقبوضہ کشمیر میں اس طرح کے کھیلوں کا انعقاد کرنا چاہتا ہے تو ہمیں اعتراض نہیں ہوگا۔کشمیر پریمئر لیگ کا افتتاحی میچ شاہد آفریدی کی راولاکوٹ ہاکس اور شعیب ملک کی میرپور رائلز کے درمیان چھ اگست کو مظفر آباد میں ہونے جا رہا ہے ۔کچھ دن پہلے کشمیر پریمئر لیگ میں حصہ لینے والے غیر ملکی کھلاڑیوں نے بھارتی دھونس اور دبائو کا بھانڈہ پھوڑتے ہوئے کہا تھا کہ بھارتی حکومت نے ان کا بھارت میں داخلہ بند کرنے کی دھمکی دی ہے ۔ہرشل گبز نے یہ انکشاف سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر پر کیا تھا۔وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے بھارت کے اس رویے کی مذمت کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ پہلا موقع نہیں کہ بھارتی حکومت نے کھیل کو اپنے مذموم مقاصد کے لئے استعمال کیا ہو۔یہ بھارت کی پرانی روش کا تسلسل ہے۔جس کی ہم بھرپور مذمت کرتے ہیں ۔دفتر خارجہ کے ترجمان زاہد حفیظ چوہدری نے بھی بھارت کے اس رویے کی مذمت کی تھی۔پاکستان کرکٹ بورڈ نے بھی کہا تھا کہ بی سی سی آئی نے ایک پھر آئی سی سی کے ممبران کے معاملات میں مداخلت کی ہے بلکہ بی سی سی آئی کے رویے سے جنٹل مین کرکٹ سپرٹ کو بھی نقصان پہنچا ہے۔پاکستان کرکٹ بورڈ اس معاملے کو آئی سی سی کے مناسب فورم پر اُٹھائے گا۔پی ایس ایل کی طرح کشمیر پریمئر لیگ بھی کامیاب ہوگی ۔چھ اگست سے مظفر آباد میں کشمیر پریمئر لیگ کے عنوان سے مقابلوں کا آغاز ہو رہا ہے اور اس میں کئی غیر ملکی کھلاڑی بھی شریک ہو رہے ہیں ۔بھارت کا دعویٰ یہ ہے کہ کشمیر اس کا اٹوٹ انگ ہے اور اس دعوے کے تحت وہ آزادکشمیر پر بھی اپنا دعویٰ ظاہر کررہا ہے اور اس کے خیال میں ایک ایسے علاقے میں عالمی کھلاڑیوں کی آمد جس پر بھارت کا دعویٰ ہے اس دعوے کو کمزور کرنے کا باعث بن رہی ہے۔اس لئے بھارت عالمی کھلاڑیوں کو آزادکشمیر میں کھیلنے سے روکنا چاہتا ہے ۔پاکستان بھارت کے اس دعوے کی دھجیاں اُڑانے کے لئے آزادکشمیر کی سرزمین پر ایک عالمی سرگرمی منعقد کر رہا ہے۔اب بھارت اپنے دعوے کی یوں دھجیاں بکھرنے کے خوف سے بیرونی کھلاڑیوں کو ان مقابلوں میں شرکت سے روک رہا ہے۔ہرشل گبز نے بھارت کی اس سرگرمی اور سازشی کردار کا بھانڈہ پھوڑ دیا ہے ۔1983میں بھارت نے کشمیر کے بخشی سٹیڈیم میں ویسٹ انڈیز کی ٹیم کے ساتھ کرکٹ کا مقابلہ منعقد کرکے بین الاقومی کرکٹ کھیلنے کی رسم ڈالنے کی کوشش کی تھی ۔اس وقت کشمیری نوجوانوں نے شبیر احمد شاہ ،شکیل بخشی اور شیخ تجمل الالسلام کی قیادت میںسری نگر کے سٹیڈیم میں بھارت کے خلاف نعرے بلند کئے تھے ۔پوری دنیا کے کیمروں نے ان لمحوں کو محفوظ کیا تھا ۔بپھرے ہوئے کشمیری نوجوانوں نے سٹیڈیم میں داخل ہو کر پچ اکھاڑنے کی کوشش بھی کی تھی ۔اس احتجاج کے بعد یہ کھیل منسوخ ہو گیا تھا ۔بھارتی فوج نے درجنوں کشمیری نوجوانوں کو پکڑ کر جیلوں میں بند کر دیا تھا ۔آزادکشمیر میں پریمئر لیگ اس سطح کی بین الاقوامی سرگرمی تو نہیں مگر اس میں بین لاقوامی کھلاڑی ذاتی حیثیت میں شریک ہو رہے ہیں اور اب بھارت اٹوٹ انگ کی فینٹسی کے تحت ان کھیلوں میں سیاست کر رہاہے ۔شاید یہی وجہ ہے کہ شاہ محمود قریشی نے بھارت کو اسی طرح کی سرگرمی مقبوضہ کشمیر میں کرنے کی بات کی ہے مگربھارت 1983کے تلخ تجربے کو ابھی نہیں بھولا اور اب تو بھارت کے لئے کشمیر کے حالات مزید خراب ہو گئے ہیں ۔بھارت حقیقت میں کشمیر کے محاذ پر دل ودماغ کی جنگ کھو چکا ہے ۔اسی احساس شکست کے تحت بھارت نے پانچ اگست کا آخری کارڈ کھیل لیا تھا مگر یہ کارڈ کئی اور مسائل کو جنم دینے کا باعث بنا تھا ۔بھارت کے شیخ چلی نما دعووں کو دنیا تسلیم کرنے سے انکاری ہے ۔بھارت سی پیک کی مخالفت بھی اسی دعوے کے تحت کر رہا ہے کہ یہ گلگت بلتستان کے علاقے سے گزر رہا ہے اور گلگت بلتستان کو بھارت چشم تصور میں اپنا علاقہ سمجھتا ہے۔قانون اورزمینی حقائق اس دعوے کو رد کرچکے ہیں۔اس دعوے پر اصرار میں بھارت چین کے ساتھ سینگ پھنسا بیٹھا ہے اور اب چینی فوج لداخ سمیت مختلف علاقوں میں بھارتی فوج کی درگت بنارہی ہے ۔سی پیک کی مخالفت کے بعد کشمیر پریمئر لیگ کی مخالفت بھی شیخ چلی کی عالم تصور میں ماری جانے والی لات ہے جس سے اس کے برتنوں کی ٹوکری ٹوٹ گئی تھی ۔بھارت بھی لات مارکر لداخ میں چینیوں سے اپنی کمر تڑوا بیٹھا ہے ۔اب بھی بھارت کو قرارنہیں تو نجانے آگے کیا ہونا ہے؟طالبان کی فتوحات نے بھارت کے اعصاب پر رعشہ طاری کر رکھا ہے۔آزادکشمیر آزادمنش اور آزاد روش لوگوں کی سرزمین ہے۔