p613 399

فروغ سیاحت کے تقاضے

خیبر پختونخوا حکومت نے صوبے میں سیاحت کو فروغ دینے کیلئے سیاحتی مقامات تک رسائی دینے والی شاہراہوں کے اطراف مختلف مقامات پر قیام و طعام کی سہولیات فراہم کرنے کیلئے سیکرٹری سیاحت و ثقافت خیبر پختونخوا کی جانب سے وفاقی حکومت کو ارسال کئے گئے مراسلے میں کہا گیا ہے کہ خیبر پختونخوا کی تمام حسین وادیاں ملکی و غیر ملکی سیاحوں کی خاص توجہ کا مرکز ہیں اور سیاحوں کی آمد میں دن بہ دن اضافہ ہو رہا ہے سیاحوں کی کثیر تعداد گلیات، ناران، کاغان، کمراٹ اور سوات سمیت دیگر سیاحتی مقامات کا رخ کر رہی ہے۔ایسے میںجب خیبر پختونخوا کی حکومت سیاحوں کو ہر ممکن سہولیات کی فراہمی کیلئے مختلف اقدامات میں مصروف ہے وہاں وفاق کے زیر انتظام سڑکوں کے اطراف میں بھی یہی سہولیات سیاحوں کیلئے فراہم کرنا انتہائی لازمی ہے مراسلہ میں قومی شاہراہوں پر سیاحوں کی آمدورفت کا جائزہ لینے کیلئے مختلف داخلی راستوں پر مناسب مانیٹرنگ سسٹم کے قیام کی درخواست کی گئی ہے جبکہ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ نتھیاگلی کے مقام موچی درہ پر داخلہ گاڑیوں کی تعداد معلوم کرنے کا مانیٹرنگ نظام کامیابی سے کام کر رہا ہے جسے دیگر تمام داخلی راستوں پر قائم کرنے کی بھی سفارش کی گئی ہے۔ مراسلہ کے مطابق وہ پٹرول پمپس جو سیاحوں و مسافروں کو درکار سہولیات نہ دیں ان کو این او سی جاری نہ کیا جائے خیبر پختونخوا میں سیاحت کے فروغ اور سیاحوں کومتوجہ کرنے کے لئے جو اقدامات ہوتے رہے ہیں اور خاص طور پرہزارہ موٹروے ‘ سوات ایکسپریس وے اور لواری ٹنل کی تعمیر مکمل ہونے کے بعد سیاحوں کو آمدورفت کی جو سہولت میسر آگئی ہے اس سے سیاحوں کی بڑی تعداد خاص طور پر عید کے موقع پر ملاکنڈ اور ہزارہ ڈویژن کا رخ کرنے لگی ہے ۔معمول کے دنوں میں تو سیاحوں کو رہائش ‘خوراک ‘ ٹرانسپورٹ اور اس جیسی دیگر سہولیات کی کمی مہنگے ہونے اور ناقص انتظامات کی شکایت ضرور رہتی ہے لیکن عید ‘ جشن آزادی اور خاص مواقع پر سیاحوں کی جتنی بڑی تعداد ان علاقوں کا رخ کرتی ہے ان کے لئے پٹرول کی دستیابی سے لے کر رہائش ‘ خوراک اور دیگر انسانی ضروریات و سہولیات کی فراہمی کی جتنی بھی کوشش کی جائے وہ ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے اس امر کا بھی جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ وقتی طور پر سیاحوں کی آمد کے لئے جن انتظامات کی ضرورت ہے اس پر لاگت اور وسائل کا اس طرح استعمال کیا موزوں ہو گا کہ چند دنوں عموماً دو سے پانچ دن کے انتظامات پر پورے حکومتی وسائل خرچ ہوں اور سال کے باقی دنوں ان انتظامات کو برقرار رکھنے سنبھالنے اور چلانے پر وسائل خرچ کئے جائیں ہم سمجھتے ہیں کہ فی الوقت کی صورتحال اور ضرورت کے مطابق اس کی گنجائش پر غور ہونا چاہئے ہم سمجھتے ہیں کہ صوبے میں سیاحت کے فروغ کے لئے سرکاری شعبے کے ساتھ ساتھ نجی شعبے یہاں تک کہ عام آبادی کو بھی اس سرگرمی کا حصہ بنایا جائے حکومت نے سیاحتی مقامات کے مقامی لوگوں کو اضافی مہمان خانہ تعمیر کرنے اور اضافی کمرے سیاحوں کو کرایہ پر دینے کی جس منصوبہ بندی کا اعلان کیا تھا اس پر عملدرآمد نظر نہیں آرہا یہ درست ہے کہ اس کے لئے باقاعدہ ایک کلچر کوفروغ دینا ہو گا جو ہمارے روایتی معاشرے میں مشکل امر ہے لیکن جس طرح معاشرے میں دیگر غیر روایتی کام فروغ پارہے ہیں اگر کوشش کی جائے تو یہ اس طرح معیوب مشکل اور قابل اعتراض نہیں لوگوں کے پاس اضافی کمرے اضافی نشست گاہیں سیاحوں کو عارضی ٹھہرانے کے انتظامات اور سہولیات کی فراہمی کی کافی گنجائش ہوتی ہے بیرونی ممالک میں اس کا رواج اور انتظامات ہوتے ہیں اس طرزکی مساعی اگر یہاں بھی ہوں تو سیاحوں کو ٹھہرنے مقامی آبادی سے گھل ملنے او رکاروبار و سیاحت دونوں کے مواقع مشکل نہیں جہاں تک صوبے میں سیاحت کے فروغ کے حوالے سے صوبائی حکومت کے وفاقی حکومت کو مراسلہ ارسال کرنے کا سوال ہے اور اس میں جن سہولیات کی فراہمی کے لئے استدعا کی گئی ہے اس کی منظوری اور عملی طور پر انتظامات اور سیاحوں کا ان سے استفادہ کافی طویل عمل ہو گابہرحال ان کی افادیت اور ضرورت مسلمہ امر ہے۔ حکومت کو سڑکوں ‘ سیاحوں کے تحفظ اور اس جیسے دیگر اجتماعی امور پر توجہ مرکوز کرنی چاہئے اور ان انتظامات پر زیادہ سے زیادہ توجہ دینے کے ضرورت ہے علاوہ ازیں کے انتظامات میں کاروباری طبقے اور مقامی آبادی کو شریک کیا جائے گاڑیوں کی مانیٹرنگ اور متعلقہ علاقے میں ان کے لئے انتظامات اور سہولیات کے مطابق داخلے کے لئے کوئی طریقہ کار وضع کیا جائے یا کم از کم سیاحوں کو آگاہ کیا جائے کہ اصرار کے ساتھ جانے سے ان کو کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ۔ صوبے میں سیاحت کے فروغ کے اقدامات سیاحوں کی بڑھتی تعداد کو مد نظر رکھ کر کرنے اور مستقبل میں سیاحوں کو مشکلات کا شکار بنانے سے بچانے کے لئے ضروری اقدامات ناگزیر ہیں جس پر وفاق سے مدد کے حصول کے ساتھ ساتھ صوبائی ڈویژنل اور ضلعی سطح پر انتظامات کی ضرورت ہے اس حوالے سے جامع منصوبہ بندی اور حکومت کو اعلان کردہ اقدامات کو عملی طور پر فراہمی یقینی بنانا چاہئے نیز ہنگامی طور پر سیاحوں کی مدد کا کوئی ٹھوس نظام بھی وضع ہونا چاہئے جس کے لئے پی ڈی ایم اے اور ریسکیو کے اداروں کے ساتھ مل کر لائحہ عمل مرتب کرنے اور وقتی رضا کاروں اور سیاحتی موسم میں اضافی عملے کی خدمات حاصل کرنے پر بھی غور ہونا چاہئے ۔ جس سے جو مقامی آبادی اور نوجوانوں کو خاص طور پر فوائد کا باعث بن سکتا ہے اور حکومت و سیاحوں کو بھی سہولت ہوگی۔