p613 399

متنازعہ تقرریوں کی روایت ختم ہونی چاہئے

لیفٹیننٹ جنرل(ر) عاصم سلیم باجوہ کی سی پیک کے لئے معاون خصوصی مقرر ہونے سے استعفیٰ تک کا دورانیہ تنقید اور اعتراضات کا دور کیوں رہا اس سے قطع نظر قابل توجہ امر یہ ہے کہ وطن عزیز میں اہم عہدوں پر تعیناتی کے معیار کا کبھی خیال نہیں رکھا جاتا کسی شعبے کے پس منظر سے بھی ناواقف افراد کی اہم عہدوں پر تعیناتی نہ صرف ملکی سطح پر تضادات کا باعث معاملہ ہونا نہیں اس سے بھی اہم امر اس شعبے کو چلانے کی مہارت اور عہدے کے لئے موزونیت ہے ۔ مختلف سفارتی و سیاسی عہدوں سے لیکر پیشہ ورانہ اداروں میں تعیناتی و نمائندگی کے لئے درکار اہلیت کا اگر میرٹ پر جائزہ لیا جائے تو دوہری ملازمت حاصل کرنے والوں کی بڑی تعداد کو فارغ کرنا پڑے گا۔ عاصم سلیم باجوہ کی تقرری اور خاص طور پر رخصتی میں سی پیک کے اہم شراکت دار کی ناراضگی و اعتراض کی حقیقت یا غلط ہونے سے قطع نظر اس امر کو آئندہ باقاعدہ پالیسی کی شکل دے کر لاگو کرنے کی ضرورت ہے کہ اہم عہدوں پر خالصتاً میرٹ اور اہلیت کی بنیاد پر باقاعدہ امتحان یا انتخاب کے لئے کڑا طریقہ کار وضع کیا جائے اور اس کی پابندی یقینی بنائی جائے تاکہ نہ تو کسی عہدیدار اور مخصوص پس منظر کے حاملین کی ترجیحی تقرریوں پر نکتہ چینی کا موقع ملے او رنہ ہی یہ بھرتیاں خانہ پری اور عہدے دینے کے مواقع میں اضافہ کا باعث امر بن کر رہ جائیںبلکہ یہ اداروں کو مضبوط فعال اور پیشہ ورانہ مہارت سے چلانے کے حامل تقرریاں ثابت ہوں جس کی ملک و قوم کو ضرورت ہے ۔
اس سادگی پہ کون نہ مر جائے اے خدا
ٹائون ون پشاور اور ٹائون تھری پشاور کے عملہ کی جانب سے غریب ریڑھی بانوں اوردکانداروں سے بھتہ وصولی کی شکایات محکمہ بلدیات کا ریجنل میونسپل آفیسرکو تحقیقات سونپ دیں دکانداروں اور ریڑھی بانوں سے بھتہ وصولی کے ساتھ ساتھ اہلکاروں کی جانب سے قوائد و ضوابط کی سنگین خلاف ورزیاں بھی سامنے آئی ہیںمحکمہ بلدیات کا یہ اقدام ہوئے بیمار جس کے سبب اسی عطار کے لڑکے سے دوا لیتے ہیں کے مصداق امر ہے ۔ محکمہ بلدیات کے افسران اگر ماتحت عملے کی سرپرستی نہ کریں ملی بھگت اور صرف نظر کی پالیسی اختیار نہ کی جائے تو ماتحت عملے کی مجال نہیں کہ وہ بھتہ وصولی یا قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کے مرتکب ہو سکیں۔ اپنے ہی خلاف شکایات پر تحقیقات جزا و سزا کا اختیار بھی کسی کے پاس ہو تو اس امر کی توقع ہی عبث ہو گا کہ اس کے نتائج بارے پرامید ہوا جائے سڑکوں پر بھتہ خوری کے واقعات میں پولیس سے لیکر بلدیات کا عملہ پوری طرح ملوث ہوتا ہے ایڈیشنل ایس ایچ او فقیر آباد کی وائرل ویڈیو زیادہ پرانی نہیں جب باثبوت معاملہ دبا دیا جائے تو اس طرح کے ڈنگ ٹپائو قسم کی تحقیقات سے کیا امیدیں وابستہ کی جائیں۔ محکمہ بلدیات اگر واقعی بھتہ خوری کی روک تھام کے لئے سنجیدہ ہے تو پھر سڑکوں کو تجاوزات سے پاک کرکے دکھائے تاکہ نہ رہے بانس نہ بجے بانسری۔
فوری توجہ طلب سنگین مسئلہ
یہ امر فوری اقدامات کی حامل اور حددرجہ تشویشناک ہے کہ قبائلی علاقوں کی مارکیٹوں میں نشہ آور ٹافیاں متعارف ہو ئی ہیں جس کے بارے میں عام خیال کیا جا رہا ہے کہ وہ افغانستان کے راستے انڈیا سے لائی گئی ہیں اور ان کا خاصہ یہ ہے کہ مذکورہ ٹافیوں کو ایک دفعہ کھانے سے اس کی عادت پڑ جاتی ہے جو کہ بعد میں آئس نامی نشے کی طلب پیدا کرنے کا سبب بنتی ہے ۔ یہ بالکل وہی منصوبہ دکھائی دیتا ہے جو 80 کی دہائی میں ہیروئن کے نشے کو قبائلی نوجوانوں میں متعارف کرایا گیا تھا ۔ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر شمالی وزیرستان ہنوز اس بارے لاعلم ہیںجبکہ پولیس اور ضلعی انتظامیہ کی طرف سے بھی کسی سرگرمی کی اطلاع نہیں خیبر پختونخوا میں حال ہی میں ایک اور خطرناک نشے دس ویلر کی باز گشت اخبارات سے لیکر اسمبلی کے اجلاس تک سنائی دی تھی اس حوالے سے بھی پولیس اور انسداد منشیات کے اداروں نے کوئی کارروائی نہیں کی اور اب قبائلی اضلاع سے یہ تشویشناک خبر آئی ہے جس کی فوری تحقیقات کے بعد کارروائی کی ضرورت ہے سوشل میڈیا پر اس کا انکشاف باقاعدہ تصاویر کے ساتھ سامنے آیا ہے ممکن ہے کہ یہ پراپیگنڈہ ہو لیکن جاری حالات میں بعید نہیں کہ ملک دشمن عناصر کسی بڑی سازش کا ارتکاب کریں اور نوجوان نسل کی تباہی و بربادی کا سامان کرے جتنا جلد ہو سکے اس کی تحقیقات اور تدارک کیا جائے اور جملہ اداروں کو متحرک کیا جائے۔